رقص اور فطرت "
ایک زیرک ، صاحب ادراک لکھتے ہیں
" رقص تو قدرت کی فطرت میں ہے۔ ساری رات چاند ستاروں کو جلو میں رقصاں رہتا ہے۔صبح سویرے ظلمت شب کے دامن کو چیر کر نور کی کرنیں اپنا رقص شروع کرتی ہیں۔ ٹھنڈی ہوا کے مست جھونکے اپنی راگنی چھیڑتے ہیں تو منجمد درخت تک جھومنے لگتے ہیں۔ تمام جانور، پرندے، درندے، چرندے سب کے سب جب وجد اور مستی میں آتے ہیں تو رقص کرتے ہیں مگر جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا؟
حیا پرور و خلوتیان عفت کوش، پاک نظر را مژدہ باد کہ وقت گرمی بازار نشاط است۔۔۔
وہ بسط بساط انسباط انسان، اشرف المخلوقات۔۔۔۔ است سے بسط کو ملائے بنا کیوں رقص نہیں کر سکتا؟
رقص اگر اتنی ہی خراب شے تھی تو سب سے چھوٹے ذرے یا ایٹم میں الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کیوں رقصاں رہتے ہیں، ہر گھڑی، ہر لمحے پھیلتی کائنات میں لاکھوں کروڑوں کہکشائیں، سیارے ستارے اور سیارچے کیوں بدمست ہو کر دھمالیں ڈالتے رہتے ہیں۔ سانس کے ردھم پر انسان کے جسم میں دل کیوں دھڑکتا رہتا ہے؟"۔
لفاظی تو کمال کی ہے ، سوچ کی آزادی کو بے لگام کرنے سے پہلے ، اتنا سوچ لیا جائے ، کون چاہے گا کہ اسکی ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کا تھرکتا بدن لچے لفنگے دیکھیں ۔ رقص ، جس کو انسان سے منسوب کیا جاتا ہے ، اسی تھرکتے جسموں کا نام ہے ۔ ستارے ، کہکشاوں کی دھمال کا نام نہیں ۔
کیا اچھا ہوتا ، الفاظ کی مالا پرونے والے یہ صاحب ، کچھ ایسا لکھتے ، جو ہمارے ایمان کا حصہ بنتا ۔ جس سے کائنات کو رقصاں رکھنے والا رب راضی ہوتا ۔ جب موت کی ہچکی بندھنے لگتی ہے ، تو پھر رب یاد آتا ہے ، سارے رقص بھول جاتے ہیں ۔ آنے والی نسلوں کو الفاظ کا بہکاوا مت دیں ۔
آزاد ہاشمی
Thursday, 22 March 2018
رقص اور فطرت
Tuesday, 20 March 2018
گاوں کی گوری
" گاوں کی گوری "
جو لوگ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ اچھی طرح سے واقف ہیں کہ جو سادگی اور کردار کی خوبصورتی دیہاتوں میں ہوا کرتی تھی ۔ وہ شہر میں نہیں تھی ۔ صاف اور شفاف چہرے اسی طرح اجلے تھے ، جسطرح کردار ۔ وقت نے گاوں کی اس گوری کو بھی چہرے کے اصل حسن کو ڈھانپنے کی عادت ڈال دی ۔ شرمانے کے انداز میں بھی بناوٹ آ گئی ۔ خاموش محبت کا انداز بھی بیباک ہو گیا ۔ گویا گاوں کی " پینو"بھی پروین میں بدل گئی ۔ اتنے انقلاب کے باوجود ، کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر سے گذر کر سر پہ ناشتے کی " چھابی " اور ہاتھ میں لسی کی " کمنڈلی " لیکر جانے والی سگھڑ بیوی کی محبت کا جواب ، شہر کی کسی حسینہ کے پاس نہیں ۔ وہ چند لمحے جب اسکا شوہر ، کھیت کے کنارے ناشتہ کرتا ہے اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر قربان ہوتی جاتی ہے ۔ وہ شاید ہی کسی شہری بابو کا مقدر ہو ۔ نہ کوئی سوال ، نہ کوئی فرمائش ، نہ قسمت کا گلہ ، نہ مقدر کا رونا ، صرف رفیق سفر کی راحت کی خواہش ، اس گوری کی آرزو رہتی ہے ۔ اسی لئے جیتی ہے اور اسی لئے ہر دکھ اور تکلیف سے لڑ جاتی ہے ۔ قدرت کا بخشا ہوا حسن ، کردار کی مہکتی خوشبو اور قربانی کا بے لوث جذبہ اسکی ساری متاع عزیز ہے ۔
گاوں کی یہ گوری ، عورت کی عظمت کا حقیقی حسن ہے ۔ اور یہ حسن آج بھی موجود ہے ۔
آزاد ھاشمی
Sunday, 18 March 2018
آئیے ! دعا مانگتے ہیں
" آئیے ! دعا مانگتے ہیں "
اے غفور الرحیم ! اے علیم بالذات الصدور !
ہم تیرے حبیبؐ کی امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ مگر ہم نے یہاں کے زانی ، شرابی ، بدکردار ، اقتدار کے کتوں اور تیرے احکامات کے سرکشوں کو رہبر مان لیا ہے ۔ ہمیں اس حماقت سے نجات عطا فرما !
اے مالک و قادر ! ہم نے تیرے ذکر ، تیری تسبیح و تمحید کرنے کیلئے دی جانے والی زبان کو ان سیاستدانوں کی تعریفوں پر مصروف کر لیا ہے ۔ رات دن ان کے گن گاتے رہتے ہیں ۔ ہمیں وہ زبان دے دے جو تیرے ذکر میں مشغول رہے ۔
اے رب العرش العظیم ! ہمیں جو امیدیں تیری ذات سے وابستہ کرنا چاہئیے تھیں ، وہ ہم نے ان دنیا داروں سے لگا لی ہیں ۔ ہم اپنی منزل کا نشان بھول گئے ہیں ۔ ہمیں ہماری منزل کیطرف موڑ دے ۔
اے تمام قوتوں کے مالک ! ہم ان کمزور انسانوں کو مسائل اور ضرورتوں پر قادر ماننے لگ گئے ہیں ۔ تیری ذات کو چھوڑ کر ان کے پیچھے پیچھے انکو مسیحا مان کر بھاگ رہے ہیں ۔ ہماری عقل کھو گئی ہے ۔ ہمیں عقل سلیم عطا فرما دے ۔
اے سمیع العلیم ! ہماری سن لے ، بیشتر اس کے کہ ہم اپنی دنیا اور عاقبت گنوا بیٹھیں ، بیشتر اسکے کہ ہماری نادانیاں ہمیں فہم و شعور سے عاری کر دیں ، بیشتر اس سے تیری پکڑ آ جائے ، ہمیں اپنے حبیبؐ کے اسوہ کا پابند کر دے ۔ منافقت کو ہم نے سیاست اور منافقوں کو رہبر مان لیا ہے ۔ ہمیں ہدائت کی روشنی عطا فرما دے ۔
ہماری خطاوں کو نہ پکڑنا ۔
آزاد ھاشمی
عجوبے
" عجوبے "
پاکستان کی دھرتی کو اللہ نے ان تمام نعمتوں سے نوازا ہے ، جن کی کسی بھی انسان کو ضرورت ہو سکتی ہے ۔ ہنرمندی میں بھی کمال دیا ، ذہانت کی بھی انتہاء ہے ۔ محنت کشی میں بھی مثال قوم ہے ۔ سیاسی شعور میں بھی عروج ہے ۔ ریہڑی پہ پھل فروش بھی عالمی سیاست کی باتیں کرتا ہے ۔ بکریاں چرانے والا چرواہا کمال کا طبیب ہے ۔ حمام کا نائی سقراط اور بقراط سے زیادہ دانشور ہے ۔ آئن سٹائن کے سکول ماسٹر بھی کسی نہ کسی چائے خانے میں مل جائیں گے ۔ محلے کی دوکان کا پرچون فروش معیشت پر کتاب لکھ ڈالتا ہے ۔
ان ساری خوبیوں کے باوجود ، یا یوں کہہ لیں کہ ان تمام ناقابل یقین عجائبات کے باوجود ہم کچھ شعبوں میں اپنا لوہا نہیں منوا سکے ۔ ہم نے چابی پہ چلنے والے صدر تو بنا لئے ہیں ، مگر یہ ابھی بھی کبھی کبھی انسانوں والی حرکتیں کر جاتے ہیں ۔ کبھی کبھی بولتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں ۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ کسی ملکی تقریب میں جب انکو لایا جاتا ہے تو ہو بہو گوشت پوست کے سانس لیتے ہوئے انسان بھی لگتے ہیں ۔ ہم نے ان پڑھ کو وزیر بنا لیا تو وہ فلاسفر نظر آتا ہے ۔ پنڈ کا میٹرک پاس سیاستدان دفاعی ٹیکنالوجی کا وزیر ہے ۔ قانون بنانے والے نالیاں اور گٹر بناتے ہیں ۔ قانون پولیس بناتی ہے ، پولیس عدالت کی رہنمائی کرتی ہے اور عدالت کے فیصلے سے پہلے عملدرآمد بھی خود ہی کر لیتی ہے ۔ سرحدوں کے محافظ سول اداروں کی تجدید و تکوین میں مصروف ہیں ۔ مذہبی قائدین کا کام اسلام سکھانا تھا انہوں نے کافر بنانے کا کام شروع کر رکھا ہے ۔ پاکستان کے کتنے ہی عجوبے ہیں ، شمار نہیں ۔
آزاد ھاشمی
میرا جسم ، میری مرضی
" میرا جسم ، میری مرضی "
چند آزاد خیال مسلم زادیاں ، ننگے سر اعلان کر رہی ہیں ۔
" میرا جسم ، میری مرضی "
" چادر اور چار دیواری گلی سڑی لاش کو مبارک "
افسوس اور دکھ کی یہ بات ہے ۔ کہ وہ خواتین اس بےباکی سے بازار میں آ کھڑی ہوئی ہیں ، جن کے باپ ، مائیں ، بھائی اور دیگر رشتہ دار کسی نہ کسی طرح اسلام کے ساتھ تعلق باندھے بیٹھے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو اسلامی شناخت کے طور پر نام مسلمانوں والے رکھے بیٹھے ہیں ۔ دکھ یہ ہے کہ اس طرح تو جسم فروش عورت بھی سر بازار اعلان کرتی دکھائی نہیں دیتیں ۔ انکی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں ۔ اس سے کس کو انکار ہے کہ ہر عورت کا جسم اسکا اپنا ہوتا ہے ۔ مگر اس جسم کا استعمال معاشرہ بگاڑنے کیلئے کرنے پر اعتراض کا بھی حق ہر کسی کو ہے اور مہذب معاشرے میں اسے روکنا بھی اولین فرض ہے ۔ یہ کسی بھی عورت کو حق نہیں کہ وہ معاشرے کی روایت سے ہٹ کر بےباق ہو جائے ۔ کسی عورت کو حق نہیں کہ وہ دوسری عورتوں کو برائی کیطرف راغب کرنے میں کلی آزاد ہو جائے ۔ ان خواتین کو نہیں بھولنا چاہئیے کہ انکا جسم انکے شوہروں کی امانت ہوتا ہے ۔ بازار کی شہوت زدہ کتوں کیلئے نہیں ۔
چادر اور چار دیواری تقدس کی علامت ہے ، اسی کو زیب دیتی ہے جو اس کے قابل ہے ۔ ہیرا سڑک پر نہیں رکھا جاتا اور نہ راہ میں پھینکا جاتا ہے ۔ ہیرے کی حفاظت کرنا لازم ہوتا ہے ، پتھر اور کنکر راستوں میں بکھرے ہوتے ہیں ۔ جس کا بھی دل چاہے پاوں رکھ کر گذر جائے ۔ یہ تو عورت کی شان ہے کہ وہ ہیرے کی طرح رہے ، کنکر کی طرح نہیں ۔ پھل صاف ہو تو ڈھانپ کر رکھا جاتا ، کہ مکھی نہ بیٹھ جائے ، سڑ جائے تو کچرے میں ڈال دیا جاتا ہے ، مکھی بیٹھے کسی کو فکر نہیں ہوتی ۔ چادر اور چار دیواری سڑی ہوئی عورت اور متعفن ذہن کیلئے ہوتی ہی نہیں ۔ پاک جسموں کیلئے ہوتی ہے ۔
آزاد ھاشمی