Saturday, 17 June 2017

ہم سے بھول ہوئی

اے الله !
ہم سے بھول ہوئی , ہم نے تیری حکمتوں سے لبریز کتاب کو چھوڑ کر انسانی فکر کو اپنی منزل مان لیا - تیرے حبیب کے اسوہ کو چھوڑ کر دوسرے رہنما پکڑ لئے - تیرے احکامات سے روگردانی کی - بدکار , بے ایمان , شرابی , زانی اور بد قماش لوگوں کو , خود اپنے سروں پہ مسلط کر لیا -
ہم نے صالحین کے رستے چھوڑ کر کافروں کے طریقے اختیار کر لئے - ہم بھول گئے کہ تیری ذات کے سوا کوئی نہیں جو رزق دے - ہم بھول گئے کہ انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے کچھ نہیں ملے گا -
ہمیں معاف فرما -
 ہمارے سروں سے یہ خوف کی فضا ہٹا لے - ہمیں امن کی دولت عطا فرما دے - ہمارے دلوں کو محبت اور اخوت سے بھر دے - ہمارے دلوں سے بغض , عناد اور باہمی نفرت کو نکال دے -
اے الله ! ہم  نے اپنی تباہی کا ہر سامان تیار کر رکھا ہے , ہم بے شعوری میں درندگی کی راہ پہ چل نکلے ہیں , ہمیں ہدایت کی منزل دکھا دے -
اے الله ہمیں معاف فرما , اور یہ دین سے باغی حکمرانوں کا عذاب ہم سے ہٹا دے -
اے رحیم و کریم رحم فرما -
آمین
آزاد ہاشمی

اے قادر مطلق

اے قادر مطلق ! میں تیرا بندہ , تیرے حبیب کا امتی ہونے کا دعویدار , اپنی بہت ساری لغزشوں اور کوتاہیوں کا بوجھ اٹھاۓ ہوے , وسوسوں کے خوف سے سہمے ہوے  , امید اور نا امیدی کے بھنور میں پھنسا ہوا  , توکل کا دامن مضبوطی سے نہیں پکڑ سکا , دنیا کی حرص سے جھولی بھرے بیٹھا ہوں , شیطان کے بہکاووں میں آ جاتا ہوں -
تو قادر ہے اپنی قدرت سے , تو رحیم ہے اپنی رحمت سے , تو کریم ہے اپنے کرم سے میری مدد فرما - مجھے اپنی مضبوط اور قوی پناہ عطا فرما دے - دنیا کا ہر خوف میرے دل سے نکال کر اپنے خوف سے میرا دل لبریز کر دے - مال و زر کی ھوس مجھ سے دور کر کے اپنے حبیب کی لگن سے میرا دامن بھر دے -
اے الله !
مجھے اور میرے ہر پیارے کو ہر فتنہ سے اپنی پناہ میں لے لے - ہر ظلم اور سازش سے بچا لے - تجھے تیری رحمت کا واسطہ  -  ہماری مدد فرما
آمین
آزاد ہاشمی

اے دلوں کے بھید جاننے والے

اے مالک ارض و سما !
اے دلوں کے بھید جاننے والے !
اے معاف اور در گزر کرنے والے !
اپنے پیارے حبیب کے ہر امتی کو اپنی رحمتوں سے نواز , ہر بیمار کو شفا کی نعمت سے سر فراز فرما , ہمارے دلوں کی کدورتوں کو دور فرما , جو تیرے راستے سے بھٹک چکے ہیں انہیں ہدایت کی روشنی عطا کر , جو ظالموں کے ظلم کا شکار ہیں انکی مدد فرما , ہر بے اولاد کو اولاد سے نواز دے , تیرے حبیب کے ہر امتی کو کافروں , مشرکوں , حاسدوں , اور لا دینوں  کے غلبے سے نجات دے , ہمارے دلوں کو اپنی اور اپنے حبیب کی محبت سے بھر دے -
تو کریم ہے , ہم تیری کریمی کے سوالی ہیں , ہم تیری پناہ مانگتے ہیں ہر اس کام سے , ہر اس ارادے سے جس میں تیری رضا نہ ہو -
ہمیں مانگنا نہیں آتا , ہمیں بن مانگے عطا فرما - ہماری ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کو قبول فرما -
آمین
آزاد ہاشمی

اے غفور الرحیم

اے قادر مطلق !
اے غفور الرحیم !
میں تیرے حبیب کا امتی - تیری رضا کا متلاشی - عیبوں سے بھری ہوئی جھولی کے ساتھ , تیری رحمتوں کی امید پر , تیرے کرم کی بھیک مانگ رہا ہوں -
میرا ایمان  , میرا یقین کہ تیری رحمت سے نا امید نہ ہونے والا کبھی مایوس نہیں لوٹتا -
میں  تیری پناہ مانگتا ہوں تمام وسوسوں سے , جو میری ذات کو کمزور کرتے ہیں , جو مجھے مایوسیوں کی طرف دھکیلتے ہیں -
میں تیری پناہ مانگتا ہو , کافروں کے کفر سے , مشرکوں کے شرک سے , گمراہوں کی گمراہی سے , امارت کی حرص سے , غربت کی رسوائی سے , حاسدوں کے حسد سے , جاہلوں کی مجلس سے , غافلوں کی شناسائی سے , شریروں کی سازشوں سے -
پناہ مانگتا ہوں اس رزق سے جو حرام ذریعہ سے ملے -
اے الله مجھے  , میرے تمام خاندان , میرے تمام مخلص دوستوں اور تمام خیرخواہوں کو , ہر شر  , ہر گناہ , ہر غم اور دکھ , بھوک اور افلاس , بیماری اور حادثات , بد اندیش اور دشمن سے اپنی پناہ میں لے لے -
اے الله ! میرے دل سے , دماغ سے بغض , ریا اور منافقت , دشمنی اور نفرت نکال دے -
آمین
آزاد ہاشمی

اے الله ہمیں وہ راہ دکھا دے

اے الله ہمیں وہ راہ دکھا دے جو تیری رضا کے مطابق ہو - ہم بہک چکے ہیں - ہماری عبادات دکھاوے کے سوا کچھ نہیں - ہم نے سنت ابراہیمی کو پورا اشتہار بنا دیا ہے - حج کے دوران پوری کوشش کی کہ اس فریضہ کی ایک ایک تصویر لوگوں تک پہنچا دیں - قربانی جانور کی تصویر سے لیکر قربانی کی چھری پھیرنے اور کھال اتارنے کا ایک ایک لمحہ مشتہر ہو جاے - اے الله ہمارے اندھے ملاؤں کو آنکھیں دے دے کہ وہ لوگوں کو اسلام کے بارے میں صحیح آگاہی دے سکیں -
آمین
آزاد ہاشمی

اے تمام قدرتوں کے مالک

اے تمام قدرتوں کے مالک ! ذبیحہ عظیم کی برکتوں سے سب گھروں میں خوشحالی , سکون , امن اور اپنی رحمتیں بھر دے - سہاگنوں کے سہاگ سلامت رکھ - بچوں کو یتیمی کے درد سے محفوظ فرما - بیماروں کو شفا نصیب کر - گمراہوں کو ہدایت سے بہرہ مند کر دے - نفاق کو اخوت میں بدل دے - مسلمانوں کو کفر کے خوف سے آزاد فرما دے - ہم تیرے حبیب کی امت ہیں ہمیں رسوائی سے بچا لے - ہمیں رکوع و سجود والوں میں شامل فرما - ہمارے شعوری اور لا شعوری گناہ معاف فرما - ہماری غلطیوں سے در گزر فرما - ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے والوں میں سے کر دے - ہمیں صبر , شکر , توکل کی دولت عطا فرما - ہماری اولادوں کو نیک اور صالحہ بنا دے -ہمارے والدین کو صحت اور تندرستی عطا کر - تمام مسلمانوں کو جو اس جہان فانی سے جا چکے ہیں انکی مغفرت فرما -
آمین
آزاد ہاشمی

اے قادر مطلق

اے قادر مطلق  !
ہم مانتے ہیں کہ ہم نے تیرا دین , تیرا قانون , تیرا دستور اور تیرے احکامات سے رو گردانی کی - ہمیں بہکا دیا گیا کہ جمہوریت عوام پر عوام کی حکومت ہے - اس نظام کا صلہ ہے کہ آج ہمارے سروں پر بد دیانت , بد طینت , زانی اور شرابی , ظلم اور گمراہ حکمران ہیں -
ہماری جانیں , عزت و آبرو , مال و اسباب اور چادریں محفوظ نہیں -
اے الله ! تو رحیم ہے , ہمارے حال پہ رحم فرما - ہمیں ایسے رہبر عطا فرما - جو تیرے احکامات پہ چلنے والے ہوں. ان بھوکے اور حرص کے مارے لیڈروں سے نجات دلا دے -
اے الله ! قبول فرما -
آمین
(آزاد ہاشمی )

اے الله ! مجھے معاف کرنا

اے الله ! مجھے معاف کرنا - میں اپنی دعاؤں کا پھل فوری مانگتا ہوں - یہ سوچے بغیر کہ میری دعائیں میرے حق میں بہتر ہیں بھی کہ نہیں - میں تیرے فیصلوں پر اپنی سوچ کو زیادہ ضروری سمجھنے لگتا ہوں - میری یہ سوچ میرے توکل کی کمزوری ہے - اے الله مجھے معاف کر دے - ایسے لوگوں میں شامل کر دے , جو صرف تیری رضا پر راضی رہتے ہیں -
ایسا ایمان دیدے جیسا تیرے پسندیدہ لوگوں کو ملا ہے -
اے قادر مطلق ایسے رزق سے بچا جو کسی کی حق تلفی سے ملے - ایسے لوگوں کی صحبت سے بچا جو گمراہی کے راستے پہ چل رہے ہوں -
وہ علم عطا فرما جو تیرے پیاروں کی وراثت ہے -
زبان میں وہ طاقت فرما کہ باطل کے سامنے حق بات کہہ سکوں -
ایسی جرات عطا فرما کہ کفر کے غلبے سے ٹکرا سکوں -
مال و اسباب کی فراوانی ملے تو تیرے راہ میں خرچ کرنے کا جنوں بھی عطا کر -
اے الله ! میری ان دعاؤں کو قبولیت بخش جو تیری رضا کے مطابق ہیں -
میں تیری دی ہوئی نعمتوں کو اپنی کوششوں کا ثمر سمجھنے لگتا ہوں - اپنی سوچ کو تیرا انعام سمجھنے کی بجاۓ اپنی قابلیت خیال کرنے لگتا ہوں - بھول جاتا ہوں کہ اگر تیرا رحم نہ ہو تو میں نہ جانے کس گرداب میں پھنس جاؤں - مجھے
تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں شامل فرما -
رحم فرما - اے رحیم و کریم اپنے بندوں پہ رحم فرما -
آمین
(آزاد ہاشمی )

بندگی کے سارے سلیقوں سے نا آشنا ہوں

اے الله ! بندگی کے سارے سلیقوں سے نا آشنا ہوں - میرا ہر عمل ریا اور دکھاوا ہے - انسانوں کی نظر میں پنسدیده بننے کی تگ و دو کرتا رہتا ہوں - اپنے لباس , اپنے
چہرے , اپنے کردار پہ لبادہ شرافت اوڑھے پھرتا ہوں - لوگوں کی زبانوں سے اپنی ستائش اور تعریف میری آرزو رہتی ہے -
دنیا سے تو چھپا لیتا ہوں مگر تیری ذات سے کیسے چھپاؤں , تو سب جانتا ہے -
اے الله ! اب زندگی کا سفر مکمل ہونے کو ہے - چراغ سحری کے بھجنے کا وقت آنے والا ہے -
تیری رحمتوں پر ایمان رکھتا ہوں , دل سے مانگنے والے کو کبھی مایوس نہ کرنا تیری شان ہے -
ایمان کامل رکھتا ہوں کہ تیرے حبیب کا امتی ہوں اور تو نہیں چاہے  گا کہ روز محشر تیرے حبیب کا امتی رسوا ہو -
ایک آرزو قبول فرما -
ایک ایسا سجدہ کرنے کے توفیق دے دے , جو تجھے راضی کر دے - اور میری بخشش کا سبب بن سکے -
ایک ایسا عمل جو میری خطاؤں کا کفارہ ہو سکے - آمین -( آزاد ہاشمی )

تیری بے شمار نعمتوں کا شکر

اے الله ! ہم تیری بے شمار نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر سکتے اور اپنی بے پناہ خواہشات کی تکمیل کے لئے تیرے احکامات سے رو گردانی کرتے رہتے ہیں - ہمیں دنیا کی محبت نے آخرت بھلا رکھی ہے - ہم اپنے رزق میں رشوت , خیانت , اور ہر ممکن طریقے سے اضافہ کرنے میں لگے رہتے ہیں - تیرے سامنے کی جانے والی عبادت میں بھی دکھاوے کے سواۓ کچھ نہیں ہوتا - تیرے حبیب کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے کی بجاۓ کافروں کا رهن سہن اپنا رکھا ہے - تیرا نظام چھوڑ کر کافروں کے نظاموں کو اختیار کر لیا ہے - ہم نے حقوق العباد کو بھلا کر حرص , لالچ اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی روایت اپنا لی ہے - ہماری کوتاہیوں کے نتیجے میں ہمارے سروں پر گمراہ اور بد قماش حکمران مسلط ہو چکے ہیں - اگر تو نے اپنا رحم نہ کیا , ہماری مدد نہ فرمائی تو ہم برباد ہو جائیں گے - کفر کے غلبے سے نہیں بچ سکیں گے - ہم پر رحم فرما - اپنے حبیب کی امت کو رسوائی سے بچا لے - اے الله ہماری مدد فرما - ہماری غلطیوں سے در گزر فرما - ہماری آنے والی نسلوں کو ہمارے گناہوں کی سزا سے بچا کے رکھنا - ہمیں ایک امت بنا دے - قبول فرما - اے الله قبول فرما -

رب ضرور معاف فرما دے گا

زندگی کی بیاض کھول کر دیکھتا ہوں تو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے - کہ میں جب مانگا , جو بھی مانگا , میرے رب نے کسی نہ کسی رنگ میں میری جھولی میں ڈال دیا - اور میں نے اگر ایک سجدہ بھی کیا تو ہاتھ اٹھا کر اپنی ضرورتوں کی لسٹ سامنے رکھ دی - پھر بھی کبھی آواز نہیں آئ کہ اے حرص کے مارے بندے , زرہ حساب تو کر کہ میری نعمتوں کے بدلے میں کتنے سجدے باقی ہیں - میں سوچتا ہوں کہ میرے حساب میں تو میرے رب کا اتنا قرض باقی ہے - کیا چہرہ لے کر جاؤں گا اپنے رب کے سامنے -
یہ سب جو رات دن ایک کر کے اکٹھا کیا - یہ سب رشتے ناطے , جن کی محبت میں فریفتہ تھا - یہ تو مجھے اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی کے نیچے دبا دیں گے - اور میری قبر پر چند پھول چڑھا کر حساب برابر کر دیں  گے - میں زندگی دینے والے کے لئے تو چند لمحے بھی وقف نہیں کر سکا - یہ دنیا , جس کی حرص میرا ایمان بنی رہی - یہ تو سب یہاں رہ جاۓ گی - اب میرا رخت سفر کیا ہے -
اب بھی یہی آس ہے کہ میرا بے حساب دینے والا رب ضرور معاف فرما دے گا - ضرور معاف فرما دے گا -

تیری رحمتوں کا شمار نہیں

اے الله ! تیری رحمتوں کا شمار نہیں - جب بھی مانگا تو نے سوال سے زیادہ دیا - یہ تو میرے شعور کی پستی تھی . جب بھی مانگا دنیا کی لذتیں ہی مانگیں - جب بھی مانگا اپنی ذات کی تسکین کے لئے مانگا - روزہ رکھا تو اس کا صلہ بھی مانگ لیا - نماز پڑھی تو یہی سوچ کر کہ خوشحالی ملے گی - حج کو گیا تو گناہوں سے خلاصی کا سوچ کر - تمام عبادات کا حساب مانگنے کی عادت نہیں چھوڑ سکا - کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ یہ عبادات تو میرے فرائض تھے - جو تو دیتا رہا وہ تو تیرا فضل ہی فضل تھا - آج قدر کی رات بھی دنیا ہی کی طلب میں ہی جاگنے کے ارادے لئے بیٹھا ہوں -
مگر آج اپنی جھولی دوسروں کے لئے پھیلاتا ہوں - سوال کرتا ہوں ہر بے اولاد کے لئے اولاد کا - ہر بیمار کے لئے شفا کا - ہر مظلوم کی داد رسی کا - ہر ماں باپ کے لئے صحت اور لمبی عمر کا - ہر گنہگار کے لئے معافی کا - ہر قیدی کے لئے رہائی کا - ہر مقروض کے لئے خلاصی قرض کا -
مسلمان رہنماؤں کے لئے غیرت کا - مسلمانوں میں اتحاد کا -
جانتا ہوں تو سننے میں دیر نہیں کرتا -
جانتا ہوں تیری رحمت ہر پل بیکراں ہوتی ہے -
یہ بھی جانتا ہوں تو کریم ہے . ہمارے گنھاہوں کو معاف کرتے ہوے ہماری مدد فرماۓ گا -

تیری رحمتوں کا واسطہ

اے الله ! تجھے تیری رحمتوں کا واسطہ - ہمارے کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو معاف فرما- ہماری عبادات کو قبول فرما - ہمارے اعمال کی اصلاح فرما - اپنے پیارے حبیب کے صدقے میں ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز - کربلا کے مظلوموں کے صدقے میں تمام مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما - کربلا کے اسیروں کے صدقے میں تمام بے گناہ قیدیوں کو رہائی نصیب فرما - بیمار کربلا کے صدقے میں تمام بیماروں کو شفا دے - تیری قدرت کے آگے کچھ مشکل نہیں , ہمیں اس دور کے یزیدوں سے حفظ و امان میں رکھ -
اے الله , ہمارے رہنماؤں کو غیرت ملی سے بہرہ مند فرما - ان کے دلوں سے کفر کا خوف نکال دے - ہمارے دانشوروں کو قلم کی حرمت سے آشنا فرما اور انکو قلم فروشی سے بچا - ہمارے علماء کو دین کی دکانداری سے بچا - ہمارے قاضیوں کو عدل لکھنے کی ہدایت نصیب فرما -
ہماری اولادوں کو اپنے پیارے حبیب کے اسوہ حسنہ پے چلنے والا بنا -
تو رحیم ہے - ہم پر رحم فرما - تو غفور ہے ہماری خطائیں بخش دے - آمین

تیری ذات رحیم و کریم

چند سجدوں کو عبادت سمجھ کر اپنی ضرورتوں کی لسٹ گنوا دیتا ہوں - بھول جاتا ہوں کہ میری پوری زندگی کے سجدے تو تیری ایک نعمت کا جواب نہیں - تیرے گھر کے چند چکر لگا کر ساری عمر کے گناہوں کی خلاصی بھی چاہتا ہوں اور اپنی اغراض کی تکمیل بھی - مسجد کی تعمیر میں چند سکے دے کر ناجائز کمائی کو جائز بنانے کا حق بھی مانگتا ہوں - کسی فقیر کی ہتھیلی پہ چند سکوں کے بدلے اس کے دل کی دعائیں بھی خریدنا چاہتا ہوں - دنیا کے مزے بھی  لینا  چاہتا  ہوں اور جنت میں گھر بھی - بھول جاتا ہوں کہ میں نے تو تیرے احکامات کی قدر نہیں کی - مجھے معاف فرما - یہ ایمان رکھتا ہوں کہ تیری ذات رحیم و کریم ہے - یہ ایمان رکھتا ہوں کہ تیرے حبیب کا امتی ہوں بخشش ضرور ملے گی.

اے الله !

اے الله ! ہم کو دنیا کی بے ثبات چمک نے فریفتہ کر دیا - اور ہم اس کے لالچ میں ابدی زندگی کو بھول گنے - اس کی روشنیوں میں قبر کا اندھیرا یاد نہیں رہا - ہم بھول گنے کہ ہم نے جو بھی اکٹھا کیا وہ ہمارے ساتھ نہیں جاۓ گا - ہم بھول گنے کہ ہمیں جو بھی ملا تیری مرضی سے ملا - تیرے کرم سے ملا - ہماری سب کوششیں تیری رحمت سے ثمر بار ہوئیں اور ہم اسے اپنی خوبی سمجھتے رہے - ہمیں ہماری ان نادانیوں پہ معاف فرما - ہمیں اپنے فضل کا شکر ادا کرنے والا بنا دے - آمین

اگر ہمارے علماء

اگر ہمارے علماء کچھ عرصے کے لئے فرقہ واریت کو چھوڑ کر نظام اسلام کی آگاہی کے لئے متحرک ہو جایں , اور قوم کو اسلام کا معاشی , معاشرتی , عدالتی اور انتظامی نظام سمجھا دیں - تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی بساط لپٹنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی -
صرف زکواتہ کا نظام سمجھ آ جاے تو معیشت کے مسائل کا حل نکل آتا ہے - اسکا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ کھربوں روپے کے اثاثوں پہ ہی اتنا فنڈ ہو جاے گا , جو موجودہ ٹیکس نظام سے حاصل نہیں ہو رہا , دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ مہنگائی مکمل کنٹرول میں آ جاۓگی کیونکہ اس طرز سے اشیاۓ صرف پر بوجھ نہیں ہوتا , تیسرا یہ بوجھ بالواسطہ یا بلاواسطہ عام شہری پر نہیں ہوتا صرف صرف امراء پر ہوتا ہے -
اسی طرح حکمرانوں کے انتظامی اخراجات کا بے ہنگم پن کنٹرول ہو جاتا ہے -
معاشرتی خوف , دہشتگردی , نفاق اور باہمی رنجشیں ختم ہو جایں گی -
عدل کی فضا قائم ہو جانے سے جرائم کا طوفان رک جایگا -
یہ وہ شعور ہے , جس سے عوام کو آگاہی دینا ہمارے مذہبی قائدین , ہمارے علماء , دانشوروں اور صاحبان بصیرت کا فرض ہے -
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جتنی مغز سوزی سیاست اور دیگر معاملات پہ کرتے ہیں اسکا چوتھا حصہ اگر اسطرف کریں تو ہر طرف سکون , امن اور خوشحالی نظر آئیگی  - لبرل اور سیکولر آزم کی مالا جپنے والوں کو بھی سمجھ آ جاۓگی کہ اسلامی نظام موجودہ تمام نظاموں سے بہتر ہے -
اسکے لئے علماء کو بھی فرقہ واریت سے ہٹ کر اسلام کے طرز حکومت پر دسترس حاصل ہو جاۓگی -
الله کرے  یہ گزارش قابل عمل سمجھی جاے
شکریہ
آزاد ہاشمی

ایک چھوٹو

اس وقت پورا میڈیا , پوری قوم ایک چھوٹو کے انجام پہ نظریں جماۓ بیٹھی ہے - آج نہیں تو کل وہ پکڑا جایگا یا مارا جایگا - اپنی نسلوں کو ایک گناہ کی سزا بگھتنے کے لئے چھوڑ جایگا - بیٹیاں سہاگ نہیں پا سکیں گی - بیٹے اپنی پہچان چھپاتے پھریں گے - ہو سکتا ہے غیرتمند  دیہاتی اسکے خاندان کو گاؤں سے ہی نکال دیں - ہر چھوٹو کا یہی انجام ہوتا ہے - ایک غریب ہاری کو چھوٹو بنانے والوں کا نہ حساب ہو گا نہ احتساب ہو گا - وہ پھر ایک چھوٹو تسخیر کر لیں گے - جو وڈیروں , سرداروں , جاگیر داروں , اور سیاستدانوں کے لئے تاوان , ووٹ اور ناموری چھینتا پھرے گا -
مجرم مار دینے سے کبھی جرم ختم نہیں ہوتا , وہ جڑ کاٹنے کی ضرورت ہوتی ہے , جس کی وجہ سے مجرم بنتے ہیں - مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا - اب بھی نہیں ہو گا - کیونکہ اس جڑ سے سیاستدانوں , پولیس اور بڑے بڑے نام والوں کے مفادات وابستہ ہیں -
شاید وہ مسیحا ابھی پیدا ہی نہیں ہوا جو یہ جڑ کاٹنے کا قصد کرے - ہم بحثیت قوم ہر سنجیدہ معاملے پہ مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں , اور غیر اہم معاملات پر طوفان کھڑا کر دیتے ہیں -
غلام رسول چھوٹو بنتا رہا اور تحفظ کے ذمہ دار تماشا دیکھتے رہے - جب تک وہ دس بیس لوگوں کو قتل کرنے کے قابل نہیں ہوا , کوئی بھی زمہدار حرکت میں نہیں آیا - اسے مجرمانہ غفلت کہیں گے  , یا اس مجرم کا خوف , یا اسکے ساتھ معاشی حصہ داری -
اگر وہ زندہ پکڑا گیا تو کون ہے جو اسکی سنے گا - کس نے سنی عزیر بلوچ کی , کس نے سنی صولت مرزا کی -
یہ مجرم ماں کی گود میں جرم نہیں سیکھتے , ان کو جرم سکھانے والے ہاتھ ہوتے ہیں - مضبوط ہاتھ - جن سے قانون بھی ڈرتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے بھی - جب تک قانون کی حفاظت کرنے والے مصلحت نہیں چھوڑیں گے - یہ سب یوں ہی چلتا رہے گا -
آزاد ہاشمی

سیاسی لیڈر

ہمارے جتنے بھی سیاسی لیڈر اور اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ہیں - ان میں اکثریت  کروڑ پتی اور ارب پتی لوگوں کی ہے - شاید چند لوگ ایسے ہیں جن کو متوسط طبقے سے کہا جا سکتا ہے , وہ بھی پچیس تیس لاکھ الیکشن میں خرچ کرتے ہیں - اور وہ لوگ جو الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور  ہار  جاتے  ہیں ا نکی بھی یہی کیفیت ہے -
 یہ وہ لوگ ہیں جن کے پیٹ  میں قوم کی خدمت کا درد ہوتا رہتا ہے - اور وہ کار ثواب ہی نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر سیاست خود بھی کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی صدقه جاریہ کے طور پر اسی سیاست میں چھوڑ جاتے ہیں -
 ان میں اکثر ایسے عابد بھی ہیں جو الله کے کلام کی ایک آیت نہیں جانتے , شراب کو شربت سمجھتے ہیں , کرپشن کو کمیشن کہتے ہیں اور زنا میں کوئی گناہ نہیں سمجھتے -
 عوام کی خدمت عوام کی جیب سے , اپنا حصہ اپنی جیب میں ڈالنے کے بعد -
ایک لیڈر جس کی دولت کی چھوٹی سی جھلک چھہ سو ارب ہو , اگر وہ اسکی اسلامی شرح سے زکوات نکالے تو پندرہ ارب روپے کی خطیر رقم نکلتی  , جس سے پورے ملک کے غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جا سکتی ہے , 15 بڑے فری ہسپتال بناے جا سکتے ہیں - یہ سہولیات صرف ایک سیاستدان کے ایک پروجیکٹ کا حساب ہے -
اب اگر اسلامی نظام ہو تو  صرف انہی سیاستدانوں کی جائداد سے حاصل ہونے والی زکوات کی رقم غربت کے خاتمہ کیلیے کافی ہے - تین چار سال میں ملک میں خوشحالی ہو جاتی ہے -
یہ وہ فکر ہے جو مغرب کو مجبور کیے رکھتی ہے کہ ہمیں کہیں اسلام کا نظام سمجھ نہ آ جاے -وہ  ہمارے لیڈروں کو طریقے بتاتے رہتے ہیں , کہ ملک کو کیسے لوٹنا ہے - لوٹی ہوئی رقم کی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہی لیتے ہیں -
یہ اب قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے -
شکریه
آزاد ہاشمی

سیاسی ملا

ہمارا سب سے گھمبیر مسلہ سیاسی ملا بھی ہیں - جن پر کچھ لکھنا , بولنا یا سوچنا آگ سے کھیلنے کا مترادف ہے-  انکے  مقلد کوئی بھی لفظ سننے اور غور کرنے پہ کبھی تیار نہیں ہوتے بلکہ سیخ پا ہو جاتے ہیں -
حالانکہ یہ لوگ پاکستان کے وجود میں آنے کے وقت سے قانون سازی کا حصہ رہے ہیں - مگر جتنا کام جمہوریت کی آبیاری میں ان لوگوں نے کیا , شاید لبرل اور سیکولر نہ کر پاتے - انہی لوگوں نے قوم کو سمجھ ہی نہیں آنے دیا کہ جمہوریت کبھی بھی اسلامی نہیں ہو سکتی , لبرل اور سیکولر ہی رہتی ہے - آج تک جتنے بھی گروپ اقتدار میں اے , سب کے سب لبرل ہی تھے - انکے ساتھ مسلسل یہ سیاسی ملا ہمیشہ جڑے رہے - قوم خواب دیکھتی رہی کہ اب نظام اسلام آیا اب آیا - آج تک سواۓ اشک شوئی کے , نہ کوئی قانون بنا , نہ کوئی قابل قدر تحریک اٹھی , بلکہ اکثر اوقات لبرل سوچ پروان چڑھتی رہی -
یہ حضرات ہر الکشن پہ قوم کو باور کراتے رہے , اتحاد بناتے رہے اور ہر بار کسی نہ کسی طرح اسمبلیوں میں بیٹھ کر اپنا حصہ وصول کرتے رہے -
یہ لوگ کروڑوں کی جائیدادیں بنا کر بیٹھ گئے مگر نہ کسی پہ کرپشن کا الزام ہے اور نہ کوئی میڈیا سوال اٹھانے کی جرات کر سکا -
کوئی بتا سکتا ہے کہ لبرل کے ساتھ بیٹھ کر ان لوگوں نے کونسی نظام اسلام کی خدمت کی اور کونسی کریں گے -
اگر ہم اپنی مذہبی وابستگیوں کو الگ کر کے سوچیں تو یہ سچ نہیں کہ نظام اسلام کی اصل رکاوٹ ہی یہ سیاسی ملا ہیں - جو قوم کو لالی پاپ دیے رکھتے ہیں اور ہر تحریک کے سامنے رکاوٹ بنے رہتے ہیں - ہر بار اسمبلیوں میں نظام اسلام کی تحریک کا خواب دکھا دیتے ہیں - عملی طور پر کبھی کچھ نہیں ہوا - جبکہ یہ حضرات اچھی طرح سے جانتے ہیں , نظام اسلام کے نفاذ کی ہر تحریک کے پیچھے اکثریت موجود ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

جمہوریت کے سوا

ہمارے شعور میں یہ تصور نقش کیا جا رہا ہے کہ جمہوریت کے سوا کوئی بھی نظام امور سلطنت کو چلانے کے لئے موزوں نہیں ہے - دوست پوچھتے ہیں کہ آخر جمہوری نظام میں کیا خامی ہے کہ ہم نظام اسلام کی رٹ لگا رہے ہیں - کچھ دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام امور سلطنت کا نظام نہیں , یہ تو عبادت کا طور طریقه ہے - ایسے بہت سارے دلائل سامنے آتے ہیں -
اختصار کے ساتھ دونوں نظاموں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ :-
١- جمہوریت انسانی سوچ کا اخذ   کردہ نظام ہے ,اور  انسانی فکر کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے - جس میں معاشرہ کی  ترغیبات نہایت اہم ہوتی ہیں - کثرت کا جو مزاج بنے گا وہی نظام سلطنت کا روپ اختیار کر لے گا - اب  یہی  ہو  رہا  ہے کہ  لبرل   اور  سکولر  سوچ  تیزی سے غلبہ   پا  رہی  ہے-
جبکہ اسلام قادر مطلق کا دیا ہوا نظام  ہے , جس میں انسان کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ملحوظ رکھا گیا اور جو معاشرے  کے بگاڑ کی اصلاح کرتا ہے , جس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں -
٢ - جمہوریت  میں اہلیت اور کردار  غیر اہم  رہتے  ہیں - فیصلے گنتی کے اعتبار سے کیے جاتے ہیں - اگر لٹیروں ایک جم غفیر موجود ہو تو لٹیرا صاحب توقیر ہو جایگا -
اسلام میں کردار اور اہلیت اولین ہیں -  انتخاب کا حق بھی اہل  اور صاحبان کردار ہی کو ہے - جس سے ایک اچھا معاشرہ ہی جنم لیگا -
٣- جمہوریت میں ٹارگٹ اقتدار ہوتا ہے , جس کے  حصول کے ہر طریقه روا سمجھا جاتا ہے - مخالف کی پردہ دری کرنا معیوب نہیں ہوتا -
جبکہ اسلام میں ٹارگٹ اسلامی طرز پر امور چلانے لازمی ہوتے ہیں لہٰذا یہ ایک خدمت کے طور پر کیے جاتے ہیں , ذمہ دار نہ صرف شوری کو جواب دہ ہوتا ہے بلکہ عقیدہ کے لحاظ سے الله کے سامنے بھی خود کو جواب دہ سمجھتا ہے - یہ احتساب ایک عام شہری بھی کرنے کا مجاز ہوتا ہے -
٤- جمہوریت میں اقتدار کے حصول کی  تگ  و دو میں باہمی اختلافات اور رنجشیں جنم لیتی ہیں , جس کا اثر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے , اس سبب سے شرفا الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں , اور فسادی ذہنیت کے لوگ آگے آ جاتے ہیں -
اسلامی نظام میں بہترین اخلاق کے لوگ نظام حکومت چلاتے ہیں , جس سے معاشرہ نہایت بہتر ہوتا ہے -
شکریہ
آزاد

کرپشن کے سیلاب

کرپشن کے سیلاب کے بعد ہم سب یہ تو یقین کر چکے ہیں کہ ہمارے لیڈر قوم اور وطن سے مخلص نہیں - اور یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ کیا کریں -
ہمارے سامنے اپنے مستقبل کے لئے دو راستے ہیں - ایک جمہوریت اور دوسرا اسلام - جمہوریت کا ثمر ہم نے بہت اچھی طرح سے سیر ہو کر کھا لیا - 66 فیصد لوگ اس نظام سے اکتا کر ایک کونے میں چھپ چکے ہیں , انہیں انتخابات کے جھنجھٹ سے کوئی واسطہ نہیں رہا - باقی لوگ دھونس دھاندلی سے از خود حکمران بن کر بیٹھ جاتے ہیں - اور اپنی من مانی سے حکومت کے امور کو چلاتے رہتے ہیں - کوئی آواز اٹھاتا ہے تو ووٹوں کی اکثریت سے خاموش کر دیا جاتا ہے - یہ جمہوریت ہے کہ آج اگر لبرل , اسلام مخالف , مغرب زدہ چاہیں تو جو بھی قانون پاس کرنا ہو , کر سکتے ہیں - اور اب اہستہ آہستہ اسطرف تحریک ہونے بھی لگی ہے -
اب دوسرا نظام ہے اسلام - جس کے لئے یہ خطہ حاصل کیا گیا - جس کے قوائد و ضوابط مستحکم بھی ہیں اور قطعی طور پر ہر کسی کو راہ عمل کا مکمل درس بھی دیتے ہیں - جس سے بھلائی ہی بھلائی ہے - جس سے کرپشن کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے - جو معیشت کے بہترین اصول رکھتا ہے - جس میں ہر انسان کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی جاتی ہے - جس میں وقت کا کوئی بھی صاحب اقتدار اپنی من مانی نہیں کر سکتا - جس میں احتساب کا بہترین نظام ہے - جس میں عدل و انصاف کی ضمانت ہے -
جس کے نفاذ کے بعد کسی انتخاب کی ضرورت نہیں اور قوم کا اربوں روپیہ ہر پانچ سال بعد ضائع ہونے سے بچے گا - کروڑوں روپے کے ماہانہ اخراجات , جو حکمران عیاشیوں میں خرچ کرتے ہیں , بچیں گے -
حکمران خادم ہوں گے اور حقیقی طور پر خدمت کرنا انکی کی ڈیوٹی ہو گی  -
اسکے دو فائدے ہوں گے , عوام خوشحال ہو گی
اور الله کا فضل ساتھ ہو گا -
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے , کہ ہم کونسا نظام چاہتے ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہم وہ قوم ہیں

ہم وہ قوم ہیں , جو کبھی سنجیدہ نہیں ہوتی - کون کیا کر گیا , کون کیا کر رہا ہے - ہمیں کوئی سرو کار نہیں - جو بھی آیا قوم کو کوئی نہ کوئی الجھن , کوئی نہ کوئی امتحان دے کر چلا گیا - ہر نیا آنے والا پہلے والے سے زیادہ مداری ثابت ہوا -
بھلا ہو جمہوریت کا , کہ کوئی بھی معاملہ ہو جمہوریت کے دیوانے گول کر جاتے ہیں -
عدالتیں , انتظامی ادارے , محافظ اور دانشور سب کے سب اسی خوف میں رہتے ہیں کہ کیا پتہ یہی لوگ کب اقتدار میں آ جایں , اسلیے دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی اچھی نہیں -  سب مصلحت کو پوجنے والے ہیں-  نہ پہلے کچھ ہوا نہ اب ہو گا -
رہی عوام تو نہ انکا حافظہ اتنا مضبوط ہے کہ گزرے کل کی بات یاد ہو , نہ اتنا شعور ہے کہ فیصلہ کر سکیں -
کیونکہ عوام کے فیصلے یا وڈیرے کرتے ہیں , یا خان , یا چوہدری  ,  اور یا پھر پیسہ -
 یہی جمہوریت کا اصل چہرہ ہے -
اسی لئے یہ سب دھندہ ان لوگوں نے چلا رکھا ہے -
 کہ اگر نظام اسلام آ گیا , اگر لوگ اسوہ حسنہ پہ چل نکلے تو کسی بھی مجرم کا سزا سے بچ نکلنا ممکن ہی نہیں - پھر نہ قاضی فیصلہ کرتے وقت کانپے گا , نہ محافظ کو مصلحت روکے گی - اور نہ ہی عوام کسی خوف کا شکار ہو گی -
اگر ہم دیانتداری سے تجزیہ کریں تو اس کرپشن کے ساتھ آج بھی ہمارے سارے سیاستداں کھڑے ہیں , جو چند ایک متحرک ہیں , وہ بھی عوام کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے , چند روز ہلہ گلہ ہو گا - پھر سب اسمبلیوں میں اکٹھے بیٹھ جاینگے -
ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کرپشن والے نہیں چھوڑتے تو یہ سب چھوڑ دیں - کم از کم مذہبی جماعتیں تو اس جرم سے الگ ہو جایں -
 جمہوریت کو جمہوریت ہی رہنے دیں , اسلامی جمہوریت کا میڈل نہ پہنائیں -
اور اسلامی نظام کے لئے پوری قوت سے متحرک ہو جایں -
یہی ایک طریقہ ہے , کرپٹ لوگوں سے نجات کا - ہو سکتا ہے کہ بہت سارے پارسا کو بھی خوف ہو کہ کہیں وہ بھی ننگے نہ ہو جایں -
یہ وہ وقت ہے کہ قوم اپنی بہتر راہ کا تعین کر لے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ملک کی دولت

سوچنے کی بات یہ نہیں کہ ہمارے بہت سارے لیڈروں نے ملک کی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک اپنی تجارت کو بھی فروغ دیا , بنکوں میں حفظ ما تقدم کے طور پر جمع پونجی بھی بنائی , پراپرٹی بھی خریدی -
فکر کی بات یہ ہے , کہ ہمارے لیڈر ذہنی طور پر پاکستان میں خود کو اور اپنے سرماۓ کو محفوظ کیوں نہیں سمجھتے - وہ  یا
تو  ملک  سے مخلص  نہیں  یا  پھر  لٹنے  کا خوف  ہے-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ سرمایہ کک بیک کے طور بھی وصول کیا ہوا  نہیں , اگر ایسا ہے تو ملک کو کتنا نقصان ملا ہو گا - کیونکہ کک بیک یا کمشن دینے والے تاجر نے بھی خوب ہاتھ رنگے ہوں گے -
فکر کی بات یہ بھی ہے  کہ یہ پیسہ اگر ملک سے باہر گیا تو کسی بنک کو استعمال کیا گیا یا وزارتی وفدوں کے بریف کیسوں میں  گیا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ ملک سے جانے والے دھن کی خبر اپنی ایجنسیوں کو کیوں نہیں ہوتی , ہمیں یہ خبریں دوسرے بتاتے ہیں , جب  کنٹرول  نہیں  تو چوری  ہوتی رہے گی-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ان بد دیانت لوگوں کے ساتھ دیانتداری کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے ابھی تک اسمبلیوں میں کیوں بیٹھے ہیں , کہیں یہ بھی انہی کے ساتھ تو نہیں -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ جو کام عدالتوں کے چیف کو کر لینا چاہیے تھا , وہ کام چور خود کریں گے کہ انکا انصاف کون کرے گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ حب الوطنی کے نعرے لگانے والے سیاسی پنڈت کیوں خاموش ہیں -
فکر کی بات یہ بھی کہ اگر ماضی کی طرح یہ بھی چند دن کے واویلا ہوا اور پھر کہانی ختم , تو قوم کے ساتھ بھیانک مذاق یونہی  ہوتا رہیگا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ بھولے بھالے عوام کو اگر اب بھی عقل نہ آئ , تو کیا ہو گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ہمیں لوٹنے والے ایک دو نہیں , ان گنت ہیں - اور ان لٹیروں کا ساتھ دینے والے بھی محافظوں کے روپ میں ان کو تحفظ دیتے ہیں -
سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی سیاسی وابستگیوں کو اولیت دی , تو ہمیں بربادیوں سے کون بچاے گا -
اے  کاش ! ہم ایک قوم بن کر اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کو اپنا مشن بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

وطن کی مٹی کا قرض ہے

تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ , جو حکومتی معاملات کو دیکھتے رہے اور ہر پہلو سے آگاہ ہیں - جیسے عدالتوں کے ریٹائر جج , تدریسی اداروں کے استاد , بیوروکریٹ , فوجی افسران , پولیس افسران اور کہنہ مشق دانشور -
 کیا سمجھ کر قوم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں - اپنے حصے کی آگہی کیوں نہیں دے رہے - کیا وہ یہی خواب دیکھ رہے ہیں , کہ جن مراعات سے خود لطف اندوز ہوتے رہے - وہ مراعات انکی نسلوں کے حصے میں بھی آئینگی - اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا , حکمران جیسے بھی آتے رہیں - انکی
 نسلیں خوشحال  ہی  رہینگی- یہ  کھلی  آنکھوں کا  خواب  ہے-
چلو اگر دوران ملازمت ان پر پابندیاں تھیں , کہ وہ اسی ڈگر پہ چلیں گے , جس پہ حکومتی سسٹم چلایے گا - جاہل اور  بد دیانت اسمبلیوں میں جو بھی قانون بنائیں گے  وہی حرف آخر ہو گا - مان لیا یہ انکی مجبوری تھی -
 مگر ریٹائرمنٹ کے بعد قوم کے لئے نہ سہی , اپنی نسلوں کے لئے تو سوچیں - اپنے ارد گرد یہ آگاہی تو دیں کہ نئی نسل کا مستقبل کیسے محفوظ ہو  گا -
قوم  کو بتائیں  کہ سیاستداں
کتنے کرپٹ  ہیں -
ہم نے بڑے بڑے افسران کے بچے , چھوٹی چھوٹی ملازمتوں کے لئے دھکے کھاتے دیکھے ہیں - کیونکہ ہر اچھی ملازمت سیاستدانوں کے بچوں اور رشتہ داروں کا حق ہو چکی ہے -
اس جمہوریت کے فریب نے کرپٹ لوگوں کا مضبوط گٹھ جوڑ بنا دیا ہے - جو اکثریت میں ہونے کیوجہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آ رہے ہیں - اس سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے , اسکے  لئے ان تمام لوگوں کو آگے آنا ہو گا , جو دیواروں سے لگے بیٹھے ہیں - اپنے
وطن کی مٹی کا قرض ہے ہم سب پر - ہم سب کو یہ قرض چکانا ہے - مجھے بھی آپکو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

سیاسی کلچر میں تبدیلی

ہمارے کچھ محترم دوست , اس راۓ پہ سختی سے قائم ہیں کہ موجودہ سیاسی کلچر میں تبدیلی لانا کسی بھی طور ممکن ہی نہیں - اسکی ٹھوس وجہ یہ ہے کہ یہ سیاستدان ایک مافیا ہے , کرپٹ لوگوں کا گروپ ہے جو انتہائی طاقتور بھی ہیں اور شاطر بھی - پورا سسٹم , پورا میڈیا , تمام دانشور انکے زر خرید ہیں - دوسری وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم بحثیت قوم مفادات کے پجاری ہیں , بزدل ہیں , چڑھتے سورج کو پوجنے کے عادی ہیں اور آگے بڑھنے سے کتراتے ہیں -
یہ سب حقیقت ہے - جو کھلاڑی شکست کا خوف لے کر میدان میں اترتا ہے , شکست اسکا مقدر ہوتی ہے - جو جیتنے کے جذبے سے بڑھتا ہے ایک نہ ایک دن جیت اسکی ہوتی ہے - مجھے اور آپکو ایک ایسی ٹیم تشکیل دینی ہے , جن کا شعور بیدار ہو , جن کو اپنی ذات سے زیادہ الله کے نظام سے محبت ہو , جن کے دلوں میں وطن کے مفادات اولین ہوں , جن کو یقین ہو کہ جیت ہماری ہو گی - اگر آج نہیں تو کل -
اگر ہم خوف اور شکست کو اپنے سروں سے نہ اتار سکے , تو ہم اپنی نسلوں کے نام کبھی نہ ختم ہونے والی غلامی لکھ جاینگے - ہماری نسلیں تعلیم سے محروم ہو جاینگی - اقتدار ہمیشہ کے لئے ان سیاستدانوں کی میراث ہو جاےگا - ہمیں نہ تو کسی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھنی ہے , نہ کوئی محاذ تشکیل دینا ہے , ہمیں صرف ان لوگوں کو ساتھ جوڑنے کی کوشش کرنی ہے , جو با شعور ہیں اور مسائل کو گہرائی تک جانتے ہیں - اور یقین واثق ہے کہ اگر یہ خاموش لوگ متحرک ہو گئے تو سسٹم ضرور بدلے گا - اور انشا الله یہ لوگ ضرور متحرک ہونگے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

دیوانے کا خواب

ہمارا اصل مسلہ کیا ہے ? مسلہ یہ ہے کہ انتخابات میں کامیاب ہو کر آنے والے اکثر لوگ کرپٹ ہیں , ملکی مفادات سے مخلص نہیں , اور اسطرح سے منظم ہیں کہ صاحب کردار لوگ آگے آ ہی نہیں سکتے - اسکا کوئی حل نظر ہی نہیں آ رہا -
دیکھنا صرف یہ ہے کہ اسکا کیا حل کیا جاے - ایک با شعور شہری مایوس ہو چکا ہے , کہ اب ان پیشہ ور سیاستدانوں سے چھٹکارے کا کوئی رستہ نہیں -
آئیے , تجزیہ کرتے ہیں - پاکستان میں 33 فیصد ووٹ ڈالے جاتے ہیں , 67 فیصد لوگ جو ایک کھلی اکثریت ہے ووٹ ہی نہیں ڈالتی - تین چار لاکھ ووٹوں والے حلقے سے اکثر 40  - 50 ہزار ووٹ لے جانے والا اسمبلی میں بیٹھ جاتا ہے - جو بمشکل کل ووٹوں کا  14 فیصد بھی نہیں بنتا - یعنی اگر ایک سو افراد میں سے پندرہ  صاحب کردار لوگ ایک ٹیم بنا لیں , جس کے لئے نہ کسی سیاسی لیبل کی ضرورت ہے , نہ کسی اشتہار بازی کی , نہ جھوٹ بولنے کے لئے جلسوں کی - ہر سو میں سے پندرہ لوگوں کا عزم , سارا کھیل بدل کے رکھ دے گا - آئیے اپنے اپنے حلقے میں یہ تناسب قائم کریں -
آئیے ! اپنے اپنے حلقے میں جیتنے والے سیاستداں کے ووٹوں کا  کل  ووٹوں  سے تناسب دیکھیں اور اسے ٹارگٹ بنا کر ہمت کریں - اگلے انتخاب تک سسٹم آپ کے ہاتھ میں ہو گا - یہ دیوانے کا خواب نہیں ایک حقیقت ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

لٹیروں کا غلبہ

بہت سارے دوست پوچھتے ہیں کہ ان لٹیروں کا غلبہ کیسے دور ہو گا - ایک کثیر تعداد تو ایسے لگتا ہے جیسے ہمت ہار چکی ہے - کہ اب ان بد کردار لیڈروں سے چھٹکارے کا کوئی راستہ ہی نہیں بچا -
تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ بھولی بھالی قوم نے جس سے بھی امید باندھی وہی چور نکلا - یہ دھوکوں کا تسلسل امید کی ہر کرن پر غالب آ چکا ہے - مسند سیاست پہ بیٹھا ہر پنڈت اسی چکر میں ہے کہ جتنا ہو سکے لوٹ لے - اس نظام کے بدلنے کا کوئی امکان ہی نظر نہیں آ رہا - میرے بہت سارے دوست اس بات سے متفق ہونگے کہ ایک چھوٹی سی شمع بہت سارے اندھیرے پہ غالب آ جاتی ہے , اور ایسی چھوٹی چھوٹی شمعیں اگر تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ روشن ہو جایں تو یقینی طور پر اندھیرا ختم ہو جاتا ہے  - اور اس تھوڑی سی روشنی سے منزل پہ پہنچنا آسان ہو جایگا -
آئیے ! یہ شمعیں جلانا شروع کریں - مثبت سوچ کے دوستوں کو پیغام دیتے جایں اور ان کو پیغام آگے بڑھانے پر راغب کرتے جایں - کہ ہم نے بغیر کسی مصلحت کے وطن  سے جہالت کا , خود غرضی کا  , منفی سیاست کا , نفاق کا , قوم سے ہر سازش کا , وطن دشمنوں کے غلبے کا اور نا انصافی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہٹا کر رہنا ہے - آپ شمعیں جلاتے جایں - الله کی ذات صبح کر دے گی اور سورج نکل اے گا -
انشا الله
آزاد ہاشمی

مذہبی جماعتوں کا اجلاس

ایک اچھی خبر کہ پینتیس مذہبی جماعتوں کا اجلاس ہوا - جس میں سیکولر اور لبرل رحجان کو روکنے کا عزم کیا گیا - مذہبی حلقوں کے لئے یہ ایک مژدہ نوید ہے - قابل تحسین بات ہے - اب اگر اس عزم کو تکمیل تک پہنچانے میں کسی بھی وجہ سے , کسی بھی مصلحت کے تحت یا کسی بھی گروہی انتشار کی وجہ سے مکمل نہ کیا گیا تو شاید یہ آخری کوشش ہو گی - اور پھر  سیکولر  , لبرل اور لادینی سیلاب کو نہ روکا جا سکے -
بہت سال پہلے نظام مصطفیٰ کی تحریک چلی , کئی اکابرین اسمبلیوں میں بھی گئے مگر کوئی بھی قابل ذکر نتیجہ نہیں نکلا - وہی لبرل دندناتے رہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے وہ میڈیا پہ بے خوف بولتا ہے - انہی لوگوں  کے ساتھ مذہبی جماعتوں کے نمائندے اسمبلیوں  میں بیٹھے بے بسی سے ہر قانون کا حصہ بننے پر مجبور ہیں - یہ وقت کیوں آیا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا وطن , لبرل اور سیکولر لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا - اگر انصاف سے دیکھا جاے تو لبرل لوگوں کی کامیابی کے پیچھے انہی جماعتوں کی کمزوری کا ہاتھ ہے , جو پہلے تو ایک جماعت ہونے کی بجاے پینتیس جماعتیں بن گئے اور اس نا اتفاقی کا فائدہ اٹھا لیا گیا - دوسرے نمبر پر ان جماعتوں کو جو لبرل تحریک اٹھتے ہی کرنا چاہیے تھا , وہ آج کر رہے ہیں - جبکہ یہ ناسور پورے بدن میں پھیل چکا ہے - اور اب اسکا علاج نا ممکن حد تک مشکل ہے -
نعرے , جلسے , تقاریر , احتجاج  , دھرنے , بھوک ہڑتالیں اور لمبے لمبے لیکچر کس کو دکھائیں گے - کون سنے گا ,جبکہ  سارے کے سارے جو پہلی اور دوسری صف میں ہیں - لبرل ہیں , سیکولر ہیں , مغرب زدہ ہیں , کرپٹ ہیں , بے حس ہیں اور ملک کے مفادات سے مخلص بھی نہیں -
چلو یہ پینتیس جماعتوں کا اتحاد یہ ثابت کر دکھاے کہ یہ چند فرقوں کا اکٹھ نہیں ,
بلکہ مسلمانوں کا اتحاد ہے , نظام مصطفیٰ کے جھنڈے تلے -
یہ بے لوث پاکستانیوں کا اتحاد ہے پاکستانی پرچم تلے -
تو یقین جانیں ہر سر جو الله کے سامنے جھکتا ہے , اس اتحاد کے ساتھ ہو گا - اور اگر یہ بھی ایک وقتی , سیاسی اور الیکشن جیتنے کا اتحاد ہے , تو یہ دھوکہ اسلام اور پاکستان کے ساتھ آخری دھوکہ ہے -
الله کرے یہ وہی اتحاد ہو , جس کی حقیقی ضرورت ہے.
آمین
آزاد ہاشمی

انصاف یا ظلم

انصاف یا ظلم !
سوشل میڈیا پہ دو نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں , جن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں - پولیس مقابلہ کرتے ہوۓ مارے گئے - سوال یہ نہیں کہ انہوں نے کیا جرم کیا جو پکڑے گئے - سوال یہ ہے کہ ہتھکڑیوں میں کوئی مقابلہ  کیسے کر سکتا ہے - سوال یہ کہ جہاں مقابلہ ہوا وہاں یہ بہادر قیدی پہنچے کیسے - سوال یہ ہے کہ جس اسلحہ سے مقابلہ کیا پولیس کی نگرانی میں وہ اسلحہ ان کے پاس کیسے پہنچا -
کچھ مخصوص پولیس افسران کے ساتھ یہ مقابلوں کا تسلسل ایک طویل عرصے سے لوگ دیکھ رہے ہیں -
مجرم کو سزا ملنا چاہیے تا کہ جرم کا خاتمہ ہو , سزا سر عام ملنی چاہیے , مگر اسطرح سے نہیں , جیسے کچھ مخصوص پولیس افسران نے وطیرہ بنا رکھا ہے - انکے خلاف نہ محکمانہ کاروائی کی جاتی ہے , نہ عدالتیں پوچھتی ہیں , نہ میڈیا شور مچاتا ہے , نہ انسانی حقوق کے علمبردار بولتے ہیں , نہ سیاسی پنڈت کچھ کہتے ہیں -
یہ کونسا عدل ہے , جس کا اختیار پولیس افسر کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چاہے تو مار دے , چاہے تو قاتل کو مفرور قرار دے دے - یہ وہ برائی ہے - جس  نے معاشرے کو دہشت گرد دئیے - جس کی وجہ سے کئی بے گناہ پولیس والے مارے گئے -  اور  اصل فساد کی  جڑیں   ابھی  تک   ہری بھری ہیں - رشوت لے  کر جعلی مقدمات , غریب لوگوں پہ بلا وجہ کی دھونس دھمکی اور ایسے ہی اختیارات کے نا جایز استعمال کی وجہ سے پولیس کا اعتماد ختم ہو چکا - جس ادارے کو تحفظ کا نشان ہونا چاہیے تھا , وہ ادارہ خوف کی علامت بنا ہوا ہے -
اسطرف دیانتدار افسران کی خصوصی توجہ کی اشد ضرورت ہے - نہیں تو انتقام کی آگ انکی آنے والی نسلوں کو ضرور جلاے گی -
الله زیادتی کرنے والے کسی بھی فرد کو معاف نہیں کرتا - یہ ہمارا ایمان بھی ہے اور مشاہدہ بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہمارے وہ لوگ

ہمارے وہ لوگ جو شعوری طور  پر ملکی مسائل کو سمجھتے ہیں اور یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ ان پیچیدہ مسائل کو حل کر سکیں - ایسے تمام لوگ خاموش تماشا دیکھ رہے ہیں , اندر اندر کڑھتے ہیں , اور کسی کی مثبت سوچ کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں - کوشش کرنے والوں کو دعائیں بھی دیتے ہیں - نیک خواہشات کا اظہار بھی کرتے ہیں - مگر خود آگے بڑھ کے رہنمائی سے کترانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی - شاید یہ وجہ ہو کہ مروجہ سیاسی رحجان اور کیچڑ اچھالنے کی سیاست میں اپنے لباس کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے - عام طور پر شریف النفس لوگ اپنی عزت کی فکر میں دیوار سے لگے رہتے ہیں -
مگر اس مصلحت پسندی نے اب ہر کسی کی عزت داؤ پہ لگا دی ہے - وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ملک کے اندر ایک مثبت تبدیلی کی اشد ضرورت ہے , بد دیانت قیادت اور سیاستدانوں کا راستہ روکنا لازمی ہو گیا ہے - ان سب کو ہر مصلحت چھوڑ کر اپنے حلقے میں متحرک ہونا ہو گا - اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنے قلم سے , اپنی علم سے , اپنے تجربے سے اپنے ہم خیال لوگوں کو ترغیب دینا ہو گی - اگر یہ بھی نہ ہو تو کم از کم اپنے اہل خانہ  کو ہی تحریک کریں - بہت سارے لوگ یہ کہہ کر پہلو بچا لیتے ہیں کہ میرے ایک کی کوشش سے کیا ہو گا - گہری اندھیری رات میں ایک چراغ پورے شہر کو روشن نہ بھی کر سکے اپنے ارد گرد سے تو اندھیرا ختم کر ہی دیتا ہے -
آئیے ! ایسے چراغ جلاتے جایں , ایک روز پورا شہر روشن ہو جائیگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہم کسی انقلاب کا انتظار کر رہے ہیں

ہم کسی انقلاب کا انتظار کر رہے ہیں , کہ کوئی مسیحا آنے والا ہے , جو اچانک اے گا اور ملکی معاملات کو کچھ اسطرح سے حل کر دے گا کہ رات کے اندھیرے میں زیورات سے لدی ہوئی لڑکی محفوظ گھر پہنچے گی - عدالتیں غریب اور امیر کے لئے ایک جیسا عدل کریں گی - پولیس ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ لے لے گی - گویا وہ سب جو ہم خواب میں دیکھ سکتے ہیں , ایسے انقلاب کا کھلی آنکھوں سے انتظار کر رہے ہیں -
ایسے انقلاب پاکستان میں مارشل لا کی شکل میں کی  بار دیکھنے کو ملے - کتنے جنرل اے , سالوں حکمرانی کے مزے لوٹے اور پھر کسی پیشہ ور سیاستدان کو قوم کی قسمت کا وارث بنا کر چلے گئے - نہ نظام بدلا نہ ذہن -
یہ تماشا جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا -
اسلامی انقلاب کی راہ فرقہ بندی نے مسدود کر دی ہے , اور مایوس قوم کو سیاستدانوں نے ذہنی طور پر مفلوج کر رکھا ہے - رہی سہی کسر میڈیا اور نام نہاد دانشوروں نے پوری کر دی ہے - وہ مغرب کی ترقی کے قصے سنا سنا کر , اور متضاد نظام حکومت کے قصیدے پڑھ پڑھ کر منزل کی سمجھ ہی نہیں آنے دیتے -
انقلاب مایوس قوموں کے ذہنوں کی تبدیلی سے , کسی دانشور کی سوچ سے , کسی بہادر کی جرات اور ہم خیال لوگوں کے اتحاد سے آیا کرتے ہیں - یہ سب چیزیں ہمارے پاس نہیں ہیں - ہم اپنے چھوٹے چھوٹے حلقوں میں خود سوچ بدلنے کا آغاز کرنے سے کتراتے ہیں اور خود بھی معمول کے ماحول کے دھارے پہ چلتے رہتے ہیں , نہ اپنی روش بدلتے ہیں نہ اپنے ارد گرد تبدیلی کی تحریک کرتے ہیں اور پھر بھی امید لئے بیٹھے ہیں کہ انقلاب آئیگا -
اگر  انقلاب لانا ہے تو پہلے اپنے اندر اندر انقلاب لانا ہو گا , پھر حلقہ احباب میں تحریک کرنا ہو گی - یہ تسلسل جتنی سرعت سے ہو گا اتنی ہی جلدی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی -
اے کاش میں اور آپ اس میں پہلا قدم رکھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

آج گھانا (مغربی افریقہ ) میں

آج گھانا  (مغربی افریقہ ) میں اخبار کی شہ سرخی تھی کہ سات پاکستانی گرفتار کیے گئے ہیں , جن پہ شبہ تھا کہ وہ القاعدہ کے لوگ ہیں - عمر رسیدہ لوگوں کی تصویر بھی دی گئی تھی - در اصل یہ لوگ تبلیغی جماعت کے دورے پر تھے -
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے نام سے جو تشدد اور دہشت گردی کی تحریک چلائی گئی - جسے جہاد کہا گیا , آج ہمارے لئے خفت اور شرمندگی کا سبب بن گیا ہے -
افسوسناک پہلو یہ بھی کہ جہاد کو صرف تلوار کے ساتھ جوڑ دیا گیا , اسکے وہ تمام پہلو بتاۓ ہی نہیں گئے جو جہاد کی اصل روح ہے - اور جو ایک مسلمان کی زندگی میں اصل تبدیلی لاتا ہے , اس پہلو کو کبھی لوگوں تک پھیلایا ہی نہیں گیا -
اب کچھ ایسا تاثر قائم ہو گیا ہے , ہر وہ شخص جس نے اسلام کے مطابق اپنا حلیہ بنا رکھا ہے , وہ یقینی طور پر قدامت پرست ہے - اور کسی بھی لمحے تلوار اٹھا لے گا -
محبت اور امن کا سبق دینے والوں کی یہ پہچان بن جانا بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے - اس  سازش کا پیچھے کفار کی بھر پور کوشش بھی ہے , ہمارے علماء کی بہت سارے معاملات میں ہٹ دھرمی بھی اور ایک عام مسلمان کی بے خبری بھی -
ہمارے مذھب سے جڑے لوگوں کا مزاج بن گیا ہے کہ دلیل کی جگہ زور اور طاقت استمعال کرنا درست سمت ہے - اور ہمارا میڈیا اس مزاج کو مزید اشتعال دلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتا -
وہ لوگ جو غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں , انکو ایسے واقعات پہ جو شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے , اسکا اندازہ ملک کے لوگوں لگانا ممکن ہی نہیں-
اب کیسے بتائیں کہ دین کی تبلیغ کرنے والا کیسا ہوتا ہے اور دہشت گرد کیسا-
کیسے بتائیں کہ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں جو خوں ریزی کی جا رہی ہے قطعی طور پہ وہ جہاد نہیں جس کا سبق ہمیں قران نے دیا ,اور الله کے حبیب نے سکھایا -
ہمیں بہت فکر کی ضرورت ہے تا کہ ہمارا تشخص با عزت طور پہ پہچانا جاے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

جمہوریت کے سوا

میرے کچھ زیرک دوستوں کا خیال ہے کہ جمہوریت کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں - دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں , ان تمام میں ایک ایسا گروپ  ہے , جس کو" تھنک ٹینک " کا نام دیا جاتا ہے - یہ وہ گروپ ہے جو قابل ترین لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے , جو حکمرانوں کو رہنمائی کرتا  ہے - یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نہ صرف علمی طور پہ قابلیت کے عروج پہ ہوتے ہیں بلکہ کردار میں  مثالی سمجھے  جاتے ہیں -
یہ نظام اسلام کا نظام ہے , جسے مجلس شورائی کہا جاتا ہے - یہ وہ نظام ہے جو چودہ سو سال پہلے الله کے حبیب نے ہمیں عملی طور پہ سکھایا - مگر ہم نے اس نظام کو بھلا دیا اور ایک دوسرے نظام کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا -
اور آج اپنے ہی ہاتھوں سے بد کردار لوگوں کو اپنے سروں پہ مسلط کر لیا  - اب ہم تذبذب میں ہیں کہ ان سے جان کیسے چھڑائیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

جمہوریت کا جائزہ

آج ہم اپنی جمہوریت کا جائزہ لیتے ہیں , جسکے نام پہ مر جانا شہادت سمجھا جاتا ہے , اور جسکی ترویج و تنظیم کو بہت سارے دیوانے عبادت بھی کہتے ہیں - سیاست کے پنڈت جمہوریت کو عوام کی حکمرانی عوام کے ہاتھوں میں سمجھتے ہیں - مغربی تہذیب کے دلدادہ اسے وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں اور اس پر سختی سے قائم بھی ہیں -
ٹھیک ہے کہ جن قوموں کے پاس کوئی نظام نہیں تھا , انہوں نے اسے خود تو اپنا لیا , مگر جن قوموں کے پاس نظام تھا , ان پر اس نظام کو زبردستی لاگو کیوں کیا جا رہا ہے -
اگر ہم اپنے وطن کو دیکھیں کہ اسوقت کتنے ممبران اسمبلی اپنے دین سے واقف ہیں , تو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ جمہوریت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اسلامی ملکوں کی باگ ڈور مذھب سے بیگانہ لوگوں کے ہاتھ میں دے دی جاے , تا کہ بغیر کسی اضافی کوشش کے اپنی ہمنوائی حاصل ہو جاے -
دوم - یہ تجزیہ کیا جاے کہ کتنے ممبران دیانتدار ھیں اور کتنے بد دیانت , تو یہ سمجھنے میں آسانی ہو جاے گی  کہ  کسی ملک کی معیشت کا جنازہ نکالنا ہو تو یہی وہ نظام ہے جس سے بد دیانت لوگوں کا انتخاب آسانی سے کیا جا سکتا ہے -
اگر ہم مزید غور کریں تو بلا شبہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسوقت کثیر تعداد نا اہل  لوگوں کی ہے جن کے ہاتھ میں تمام امور حکومت ہیں , یہ بھی صرف جمہوریت سے ممکن ہے کہ عنان حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاے جن کو شکار کرنا آسان ہو -
جمہوریت کا ایک پھل یہ بھی ہے کہ بے شمار پارٹیوں کو میدان میں اتار دیا جاے تا کہ متفقہ طور پر سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاے اور لوگ سمجھ ہی نہ پائیں کہ انکے حق میں کیا غلط ہے اور کیا ٹھیک  -
ایک خرابی یہ  بھی ہے کہ ہر سیاسی گروپ جب حکومت میں ہو گا تو وہ میرٹ کا خیال کیے بغیر اپنے سیاسی ہمدردوں  کو اہم عہدوں پر لگا دیں گے - جس سے پورا سسٹم اپاہج ہو جایگا -
کیا سب ثمرات ہمیں جمہوریت سے نہیں مل چکے -
آئیے ! غور کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

یہ کیسا مذاق ہے

یہ کیسا مذاق ہے کہ جب بیسیوں لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں , سینکڑوں زخمی اور اپاہج ہو جاتے ہیں - تو یاد آ جاتا ہے کہ ہمیں ان واقعات کے محرک لوگوں کو سزا دینی چاہیے - ہمیں اسوقت پتہ چلتا ہے کہ  جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے - گھنٹوں میں سینکڑوں مشکوک لوگ گرفتار کر لئے جاتے ہیں - یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو شائد پہلے سے معلوم ہوتے ہیں , یا شائد یہ لوگ محض خانہ پری کے لئے پکڑے جاتے ہیں -
ہمارے امراء اور بیگمات موم بتیاں , پھول اور اگر بتیاں لے کر اس جگہ سجانے آ جاتے ہیں , جہاں بد قسمت لوگوں کے چتھڑے پڑے ہوتے ہیں -
کیا یہ تمام لوگ جو ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں , جب انکو کو معلوم ہوتا ہے کہ کون لوگ مشکوک ہیں , تو یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں , انکو اپنے آہنی ہاتھ کیوں نہیں دکھاتے - کیا انکو پکڑنے کے لئے بہت ساری جانوں کا نذرانہ ضروری ہوتا ہے -
اور جن لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے , انکے ساتھ بعد میں کیا ہوا , قوم کو بتایا کیوں نہیں جاتا -
کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسے واقعات میں گرفتار کیۓ جانے والے کتنے مجرم پھانسی دیے گئے -
کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ مارے جانے والوں میں کتنے لیڈروں کے رشتہ دار تھے , کتنے جنرلوں کے عزیز تھے , کتنے پولیس افسران کے قریبی تھے -
غریب مارے گئے , پانچ لاکھ دے کر آنسو پونچھ دیے جایں  گے - اور جو اپاہج ہو گئے انکو بیساکھیاں تحفے میں دے دی جاینگی -
اب کون ہے جو اس گناہ کی جرات کرے کہ قوم کے مسیحا سے پوچھے کہ صاحب بہادر بلا امتیاز کاروائی کیلیے اتنی جانوں کا نذرانہ کیوں ضروری تھا - پہلے خیال کیوں نہیں آیا -
یہ گناہ تو بڑے سے بڑا میڈیا  کا ہیرو بھی نہیں کرے گا - یہ ہے
وہ مجرمانہ خاموشی جس کے ہم سب ذمہ دار ہیں - موت قریب قریب ہر آنگن میں پہنچ گئی ہے -
بد قسمتی اور قوم کے بے حس ہونے کا اندازہ لگائیں کہ جس وزیر کو اس واقعہ کی تحقیق کا انچارج بنایا گیا ہے , اسے کل ایک ٹی وی  پروگرام میں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس گلشن کے دروازے کتنے ہیں , جہاں موت ناچی ہے - اور موصوف پروگرام میں اینکر کو آنکھیں دکھا رہے تھے -
ایسے غنڈہ راج میں جو ہو رہا ہے کچھ عجب نہیں -
پتہ نہیں قوم کو یہ سزا کب تک ملتی رہیگی -
آزاد ہاشمی

لاہور میں اعصاب شکن دھماکہ

لاہور میں اعصاب شکن دھماکہ , بیسیوں بے گناہ لوگوں کا قتل , سینکڑوں کے زخمی ہو جانے کے بعد کیا ہو گا - وہی بے حس حکمران جان سے جانے والوں کے ورثا کو پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کو دو دو لاکھ کا اعلان کریں گے - ہسپتالوں کے دھواں دار دورے ہونگے , اخبارات اور میڈیا پر تصویریں چلیں گی - کھیل ختم -
کیا یہ تشدد کا تسلسل ہماری ناکامی نہیں - کیا ہماری ایجنسیاں اس اطمینان کو برقرار رکھنے میں ناکام نہیں , جو قوم کو متوقع تھا - اگر یہ کہا جاے کہ "را" کی کاروائی ہے , تو کیا ہماری قابلیت پہ سوالیہ نشان نہیں - اگر یہ کہا جاے کہ مذہبی انتہاء پسندی ہے تو کیا یہ ہماری مذہبی تربیت کی خامی نہیں -
ایسے لگتا ہے کہ ہمارے حکمران , ہمارے سیکورٹی کے ادارے , ہماری ایجنسیاں سب کے سب قوم سے جھوٹ بولتے ہیں - انکے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں -
 یہ اس تسلسل کا پھل ہے , جس میں سیاسی لوگوں نے نا اہل لوگوں کو بھرتی کیا اور میرٹ کا خون ہوتا رہا - آج سب کے سب نا اہلوں کی ٹیم بڑی بڑی کرسیوں پہ بیٹھے ہیں -
اب صرف ایک حل باقی ہے کہ پوری قوم یکجہتی سے ان مسائل سے خود نمٹنے کے لئے متحرک ہو جاے - ہر شخص اپنی اور اپنے ارد گرد کی حفاظت کا ذمہ لے لے - نا اہل حکمرانوں سے اگر امیدیں  لگاے رکھیں گے , تو یہ دھماکے , یہ خون کی ہولیاں ہوتی رہیں گی -
یہ سب جاری رہنا حکمرانوں کے مفاد میں نہ ہوتا تو یقینی طور پر اسکا خاتمہ ہو چکا ہوتا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

کھلاڑی وطن اور قوم کا نمائندہ

کسقدر شرمناک بات ہے کہ ہم لوگوں نے ہر چیز , ہر کام , ہر شخص کو دیکھنے کے لئے لسانی , صوبائی اور مذہبی تعصب کی عینک لگا رکھی ہے - ہماری پستی کا اب یہ عالم ہو گیا ہے کہ ہم اپنے ہر ہیرو کو رسوائی کا ہار پہنا دیتے ہیں -
سیاست کے زہر نے ہم سے ہر وہ میدان چھین لیا ہے , جو ہماری پہچان تھا - کھیل ایک تفریح ہے اور اسے اسقدر  اعصاب شکن بنا دیا ہے , اب ہم نے کھلاڑیوں کو انکی کارکردگی سے دیکھنا چھوڑ دیا ہے , انکی زبان کے حوالے سے پہچانتے ہیں - یہ وہ سیاست ہے جو ان کھیلوں کے کرتا دھرتا نے شروع کی اور آج کھیل کا کوئی  میدان ہمارے ہاتھ میں نہیں - کل کے ہیرو کو بدنامی کا یہ تاج پہنانا محض کوئی ایک میدان کی شکست کے سبب نہیں , بلکہ یہ وہ چنگاری ہے جو کبھی نہیں بجھے گی -
بد قسمتی یہ ہے کہ اس آگ کو بھڑکانے میں ہم سب حصہ ڈال رہے ہیں - کھلاڑی وطن اور قوم کا نمائندہ ہوتا ہے , اور وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پہ اپنا نام بناتا ہے - اور جو کھلاڑی کئ  سال تک ملک اور قوم کو دنیا بھر میں عزت دلاۓ , ایسی کھلاڑی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک شرمناک حرکت ہے -
ہمیں الفاظ لکھتے وقت ایک سلجھی ہوئی قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہیے - اور میڈیا کو ان باتوں کا خصوصی خیال رکھنا لازمی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

بحثیت قوم

بحثیت قوم ہمیں اپنا اپنا رویہ دیکھنا ہو گا کہ جب سے پاکستان بنا , شروع کے چند  سال چھوڑ کر باقی تمام عرصۂ قوم کے ساتھ سیاست کے پنڈت آنکھ مچولی کرتے رہے - ہم اور ہماری ایجنسیاں آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے - کبھی کبھی فوجی حکمرانوں کی حب الوطنی جاگی اور حکومت پر قبضہ کر کے , دو تین مہینے بہت ھل جل دکھائی - پھر وہی جو سیاسی لوگ کرتے ہیں کرتے رہے -
قومی شعور نہ کبھی بیدار ہوا اور نہ کبھی اس طرف توجہ گئی - الیکشن کے دنوں میں ہر پارٹی دوسری پارٹی کی لوٹ مار کے قصے سناتی رہی اور پھر جو بھی آیا , اس  نے بہتی گنگا میں نہ صرف ہاتھ دھوے بلکہ خوب نہایا - ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ اس کھیل کا آخر کیا ہو گا -
غداروں کی ایک لمبی فہرست ہر پانچ سال کے بعد منظر عام پہ آتی ہے , بہت واویلا ہوتا ہے , پھر وہی غدار حکمرانی کرنے لگتے ہیں - وہی لٹیرے پھر لوٹنے لگتے ہیں - ہم اپنی جان یہ کہہ کر بچانے لگتے ہیں , کہ امریکہ کا ہاتھ ہے - میں  نے اپنی ہوش میں کبھی امریکن کو ووٹ ڈالتے نہیں دیکھا - اگر وہ کہیں چھپ چھپا کر ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں - تو دنیا کی بہترین ایجنسیاں کہاں ہوتی ہیں -
میڈیا , رٹائرڈ جنرل , بیورو کریٹ , ایجنسیاں بہت سارے موجودہ اہم شخصیات پر وطن دشمنی , کرپشن , ملکی وسائل کا ذاتی استمعال , پورے ثبوتوں کے ساتھ سنبھال کے بیٹھی ہیں - کیوں - عمل کرنے پہ کونسی رکاوٹ ہے - قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا - کیا یہ خاموشی بذات خود ایک جرم نہیں -
ہم فوج کو سلام کرتے ہیں کہ جب بھی وہ چاہتے ہیں , سارے اداروں کا انتظام سنبھال لیتے ہیں , مگر نتیجہ کیا نکلا - کرپشن رک گئی یا ادارے ٹھیک ہو گئے -
اسکا یہ اثر ہوا کہ ملک کے کونے کونے میں دہشتگرد , ملک دشمن عناصر نے اپنا تسلط قائم کر لیا - آج فوج کے کتنے افسران , کتنے جوان شہید ہوے - اور ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خرابی ختم ہو گئی - کیا یہ ہماری اہلیت پہ سوالیہ نشان نہیں -
اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم سب بے حس ہیں - ہم سب اپنے ملک سے مخلص نہیں - ہم سب مفادات کے پجاری ہیں -
ہمیں انفرادی طور پر جاگنا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

فرقہ پرستی

ہر مسلمان چند اصولوں پر متفق ہیں - ایک الله کی ذات وحدہ لا شریک ہے , دوسرا قران پاک مکمل ضابطہ حیات ہے , سنت نبوی ہماری رہنما ہے , احادیث ہمارے تمام سوالوں کا جواب ہے - جب سب ان اصولوں پر متفق ہوں , تو یقینی طور اسلامی مدرسے انہی اصولوں پر رہ کر تعلیم دیتے ہوں گے - اس سے کیا فرق ہے کہ مدرسہ بریلی میں ہو یا دیو بند میں , مدرسے کو کوئی بھی نام چلا رہا ہو , تعلیم کا اصل مقصد تو اسلامی تعلیم ہی ہے - پھر ایسا کیا غضب ہوا کہ دیو بند میں پڑھنے والے دیوبندی کہلانے پہ فخر کرنے لگے , بریلی میں پڑھنے والے بریلوی ہو گئے -احادیث کو بخوبی جاننے والوں نے  اہلحدیث کا نام اپنی پہچان بنا لیا - اسی طریقے سے بہت سارے مدرسوں کے شناختی نام دیکھنے میں آتے ہیں جو اکثر علماء نے اپنے ناموں کے ساتھ لگا لئے ہیں. یہ عقیدت ہے , اشتہار ہے یا فرقوں کی پہچان -
اس سے کونسی یگانگت ثابت ہوتی ہے - کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ ہم اپنے نام اسلامی طرز پر باپ دادا کے نام ساتھ لگاتے یا اپنے قبیلے کے نام کی پہچان دیتے -
کیا یہ مدرسوں کی پہچان گروہی یا فرقہ پرستی ظاہر نہیں کرتی -
کیا گروہی بندی اور فرقہ پرستی اسلامی تعلیمات کی نفی نہیں - کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہر مدرسے کا نصاب الگ الگ ہے - کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ایک سوچ بنا کر آگے بڑھیں اور اپنی طاقت کو انتشار میں ختم نہ کریں - اس سے اسلامی نظام کی راہ اختیار کرنے میں آسانی ہو جاۓگی اور طاغوت کو شکست ہو جاۓگی -
الله ہمیں سمجھنے کی توفیق بخشے -
آمین
آزاد ہاشمی

احساس محرومی

احساس محرومی اگر کسی فرد میں ہو جاے , کسی قبیلے میں ہو جاے یا کسی قوم میں ہو جاے - تو ان سب کا اگلا قدم تشدد اور باغیانہ رویہ ہوتا ہے -
ہمارے سیاسی لیڈر اکثر سامراج کے پٹھو رہے ہیں اور اکثر کلیدی عہدوں پر بھی دشمنوں کے غلام بیٹھے رہتے ہیں , انکی حتمی کوشش ہوتی ہے کہ اس احساس کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاے - اصل میں یہی اصل غدار ہیں , جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا , غیور پٹھانوں میں اس بیج کو بونے کی مسلسل کوشش جاری ہے اور انھیں دہشت گردی کی ٹوپی پہنائی جا رہی ہے - بلوچ بھی اسی سازش کا شکار کیے جا رہے ہیں - سندھیوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا رہا ہے - مہاجر بھی کچھ حقوق کے لئے تگ و دو میں لگے رہے اور آخر کار تشدد کی راہ پہ نکل پڑے -
ان سب کا پختہ خیال اور نا قابل تبدیل سوچ یہ بن گئی کہ اس ساری نا انصافی کے ذمہ دار پنجابی ہیں -
نا اہل قیادتوں نے احساس محرومی ختم کرنے کی کوئی بھی پالیسی بناے بغیر ڈنڈے اور طاقت کا استعمال شروع کر دیا - اور ان محروم لوگوں کے گلے میں غداری کا تمغہ سجا دیا -
ان سب کے نمائدے بھی اسمبلیوں میں اپنی اپنی جھولی بھرنے میں لگے رہے - یہاں تک کہ حق مانگنے والوں کو گلیوں میں نکلنا پر , جھنڈا اٹھانے والے ہاتھ بندوق اٹھانے پر تیار ہو گئے -
اب دیکھنا یہ تھا کہ اصل غدار کون تھا اور اصل دشمن کون ہے -
یہ سوچنا دانشوروں کا کام ہوتا ہے - وہ قوم کی رہنمائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں -
بد قسمتی یہی ہے کہ دانشور بھی کسی نہ کسی کے زر خرید غلام ہیں -
اب عام شہری کو آپس میں مل بیٹھنا ہو گا - سندھی , مہاجر , پنجابی , بلوچ , پٹھان , سرائیکی یا ہزارہ وال بن کر نہیں - بھائی بن کر - پارٹیوں کے لیبل اتار کر - سوچنا ہو گا , اپنے محلوں , شہروں اور قصبوں میں -
یہ ہم سب کی سانجھی سر زمین ہے - حوصلہ شکنی کرنا ہو گی , تعصب پسند لیڈروں کی ' فرقہ پرست ملاؤں کی , نفرت پھیلانے والے دانشوروں کی -
یہی ایک حل ہے قومی یکجہتی کا -
الله کرے ہم سمجھ سکیں -
آمین
آزاد ہاشمی

قابل تحسین ہوتے ہیں وہ لوگ

قابل تحسین ہوتے ہیں وہ لوگ , جو اپنا وقت , توانائی , علم , قابلیت اور الله کے عطا کردہ وسائل کو انسانیت کی خدمت میں لگا دیتے ہیں -
اگر اسے گہری نظر سے دیکھا جاے تو الله کا خاص فضل ہوتا ہے ایسے لوگوں پر جن کو الله اس خدمت کے لئے منتخب کر لیتا ہے -
سوشل میڈیا پہ آج یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ کچھ الله کے انعامات سے نوازے ہوے لوگ , غریب اور مستحق بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کر رہے ہیں -
یہ وہ نیکی ہے , جس سے الله کی رضا کا ملنا یقینی ہے - یہ ایسی مثال ہے , جو ہر کسی کی تقلید کی محرک ہو سکتی ہے -
اے الله جن لوگوں نے یہ قدم اٹھایا ہے , انکو اپنی رحمتوں کے ثمرات سے اتنا نواز کہ وہ ایسے مزید اقدامات کرتے رہیں - انکی زندگیاں خوشیوں سے بھر دے - انہیں ہر دکھ , ہر غم اور ہر پریشانی سے محفوظ رکھ -
اے الله ! مجھے اور میرے پیاروں کو بھی ایسے کاموں کے لئے منتخب فرما - تجھے تیری رحمتوں کا واسطہ -
آمین
آزاد ہاشمی

اس سے کیا فرق پڑتا ہے

اس سے کیا فرق پڑتا ہے , کہ کون اردو بولتا ہے کون پنجابی , کون سندھی بولتا ہے کون بلوچی , کون پشتو بولتا ہے کون سرائیکی - یوم قرارداد پاکستان پہ ہم نہ سندھی تھے نہ پنجابی , نہ بنگالی تھے نہ مہاجر , نہ بلوچ تھے نہ پٹھان - ہم سب کی ایک لگن تھی , ایک سوچ تھی , ایک مشن تھا , ایک خواب تھا , ایک ولولہ تھا , ایک تحریک تھی - ہم ایک قوم تھے اور اس قوم کا نام تھا مسلمان - ہم اپنی پہچان چاہتے تھے , اپنے اصول چاہتے تھے , اپنا نظام چاہتے تھے , اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے تھے -


  • یہ وہ تڑپ تھی , جس کے لئے ہم نے ہر قربانی کی ٹھان لی - اور ہر طاقتور کے سامنے کھڑے ہونے کا مصمم ارادہ کر لیا - 

پھر دنیا نے دیکھا کہ صرف سات سال میں ہم  نے دنیا کے نقشے پہ پاک وطن کی لکیریں کھینچ دیں - سب ایک تھے , غریب اور امیر , نواب اور تانگہ بان ایک ساتھ متحرک تھے , جاگیردار اور کسان ایک جھنڈا اٹھاے پھر رہے تھے -
یہ لگن سامراج کے سینے میں اٹھنے والا وہ درد تھا , جس کا علاج وہ ڈھونڈھنے میں لگے رہے - اور آج انہوں نے یہ لگن چھین لی - آج ہم , ہمارے ادارے , ہمارے رہنما , ہمارے افسران , ہمارے پالیسی بنانے والے , سب کے سب , لسانی , علاقائی , مذہبی گروپوں کا شکار ہو  گئے ہیں - امتیازی سلوک ہر شعبے کی نا قابل علاج بیماری بن گئی ہے -
ہمیں ایک بار پھر سے ایک قرار داد کی ضرورت ہے - ہمیں ایک بار پھر  سے ایک عزم دہرانا ہے - ہمیں ایک بار پھر دنیا کو دکھانا ہے -
" ہم سب ایک ہیں , ہم سب آزاد ہیں , ہم سب زندہ قوم  کے افراد ہیں "
ہمیں آج پھر عہد کرنا ہے - اخوت کا , یکجہتی کا , امن کا اور اس نظام کا جو ہماری منزل تھا , جو ہمارا جنوں تھا , جو ہماری امنگ تھا - کل
ہماری جنگ  سامراج  سے  تھی, آزادی کی  جنگ - آج  بھی ہماری  ہے  , سامراج  کے  گماشتوں  سے,  وطن فروشوں  سے - یہ  جنگ  بھی  ہمیں  اسی  عزم  سے  لڑنی ہے -
آ ئیے عہد کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا -
" مجھے جنت سے زیادہ نماز عزیز ہے , کیونکہ جنت میری رضا ہے , اور نماز میرے رب کی رضا ہے "
اب سمجھ آئ اس سجدے کی عظمت جو نواسہ رسول نے خنجر تلے کیا - نماز کی معراج کا جو نمونہ کربلا کی نوکیلے پتھروں والی ریت پر تیروں سے چھلنی جسد مبارک کے ساتھ فاطمہ کے لال نے کیا نہ کبھی پہلے ہوا نہ کبھی بعد میں ہو گا -
کیا معراج ہے الله کی رضا کو حاصل کرنے کی , اپنا جو کچھ بھی  تھا سب دے دیا الله کی رضا کے لئے-
 بیٹے , بھائی , بھتیجے , ساتھی سب کے خون سے سرخ زمین  پر   سجدہ-
الله کو راضی کرنے کی لگن کی اور کیا انتہا ہو گی -
 نہ عرش پہ کبھی کسی نے ایسا سجدہ کیا نہ فرش پہ -
آزاد  ہاشمی

آل نبی کی شان

سب مانتے ہیں کہ آل نبی کی شان قلم کے احاطہ سے باہر ہے - سوچ اور فکر کتنی بھی بلند کیوں نہ ہو جاۓ , اس مقام تک نہیں پہنچ سکتی جس مقام پہ اہل بیت ہیں - نہ علی کے علم تک , نہ فاطمہ کی عبادت تک , نہ حسن کی استقامت تک , نہ حسین کی شہادت تک -
علمیت کے بعض دعویدار باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ مصائب کربلا بیان کرنے سے اہل بیت کی شان کم  ہو  جاتی ہے - محدود فکر یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کربلا کی داستان تو ہے ہی جبر و استبداد اور صبر و رضا -
کون ہے جو علی اصغر کے گلے میں اٹکے ہوے تیر کو بھلا پایا ہے - کیسے چھپے گا فرات کے پانی پہ اشقیا کا قبضہ - کیا نام دو گے سجدے میں حسین کا سر کاٹنے کو - کیا کہو گے رسیوں میں جکڑی رسول کی اولاد کو -
چلو ! تم سناؤ کربلا کی داستان -
تم کہو کیا کیا ہوا کربلا میں - تم بتاؤ یزید کے دربار میں بہادر بی بی کیسے  لائی گئی -
کہو جب کوفے کے بازار میں اہل بیت کا قافلہ داخل ہوا تو نواسہ رسول کا سر کہاں تھا -
ارے یہ کہانی تاریخ کی وہ کہانی ہے جس کی گواہی فلک بھی دے گا اور افلاک کا مالک بھی -
مت بھول زینب کی چادر کوئی عام چادر نہیں تھی - حسین کا سر کوئی عام سر نہیں تھا - عباس کے بازو کوئی عام بازو نہیں تھے - اے کاش تیرے دل میں بھی گداز ہوتا جو تیری آنکھوں میں چند آنسو اہل بیت کی محبت کے لے آتا -
آزاد ہاشمی

فساد فی الارض کرنے والے

الله کے حکم کے مطابق , فساد فی الارض کرنے والے اہل ایمان نہیں ہوتے - شیطان  نے تخلیق آدم کے وقت سجدہ نہ کرنے کی جو دلائل دیے - اس میں یہ بھی ذکر کیا کہ یہ ابن آدم زمین پر خون ریزی کرے گا اور فساد فی الارض کا مرتکب ہو گا -
کربلا میں جو ہوا , اس سے بڑا فساد , اس سے  بڑی خون ریزی , اس سے بری توہین انسانیت کبھی نہ ہوئی نہ ہو گی -
ایسا فساد جس سے رسول کے گھر والوں کو نہ صرف تہ تیغ کیا بلکہ ان کے جسموں پر گھوڑے دوڑا دیے - معصوم بچوں کو تیروں سے چھلنی کیا - پردہ دار خواتین  کی  چادریں چھین کر رسیوں سے جکڑ دیا - اور  بازاروں میں تماشا بنایا - ہے کوئی جو کہہ  سکے کہ یہ فساد فی الارض کی بد  ترین مثال  نہیں تھی -
ان فسادیوں کو الله کے احکمات کے منکر کہنے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے -
آزاد ہاشمی

چند لمحوں کے لئے کربلا چلے جانا-

کبھی وقت ملے تو چند لمحوں کے لئے کربلا چلے جانا-  وہاں بے وطن قافلہ خیمہ زن ہے - پردہ دار بیبیاں ہیں , جن  کے ننگے سر کبھی فلک نے بھی نہیں دیکھے  - معصوم بچے ہیں , چند سن رسیدہ مرد ہیں اور چند کڑیل جوان ہیں - مختصر سا قافلہ ہے اور ایک جم غفیر فوج نے روک رکھا ہے - تیر تفنگ سے لیس لشکر اپنی پوری رعونت سے اٹھکیلیوں میں مگن ہے - سلام کہنا اور سالار قافلہ سے حسب و نسب پوچھنا - اور پوچھنا یہ کون ہیں جنہوں نے آپ کا راستہ روک رکھا ہے اور آپ بے سر و سامانی والے کون ہو - اگر حسن خلق سے جواب ملے تو سمجھ لینا کہ رسول کا گھرانہ ہے - سالار قافلہ میں خوف کی کوئی علامت نہ ملے تو جان لینا علی کا بیٹا ہو گا -خیموں میں ہو کا عالم ملے تو سمجھ جانا کہ پس خیمہ فاطمہ کی بیٹیاں ہوں گی -
سخی گھرانہ ہے - جو چاہے مانگ لینا - ایک اجازت اپنے لئے , ایک اجازت میرے لئے بھی - رونے کی مظلومین کربلا کی بے بسی پہ اجازت مانگ لینا - قربان ہونے کی اجازت مانگ لینا اہل بیت کی ناموس پہ - محبت مانگ لینا شهیدان کربلا کی - سجدے کی لذت مانگ لینا - اپنی بیٹیوں کے چادریں مانگ لینا - عباس کی وفا مانگ لینا - جو من چاہے مانگ لینا - کبھی خالی نہیں لوٹو گے -
آزاد ہاشمی

تاریخ کے اوراق میں نرالی کہانی

تاریخ کے اوراق میں نرالی کہانی ہے - جسے عقل کے اندھے جنگ کہتے ہیں اور صاحبان شعور عظیم قربانی کا نام دیتے ہیں - اگر چند لمحوں کے لئے جنگ ہی مان لیں تو بھی یہ نرالی جنگ تھی - جس میں جیتنے کا گمان رکھنے والے ہار گئے اور بظاہر ہارنے والے ابدی فتح پا گئے - ایک طرف طاقت کا نشہ اور دوسری طرف الله کی رضا کا سرور - ایک طرف   دریا کی موجوں پہ قبضہ اور دوسری طرف پیاس ہی پیاس - ایک طرف چند ماہ کا معصوم دوسری طرف بہترین تیر انداز - ایک طرف حافظ اور قاری دوسری طرف الله کے حبیب کے  گھر والے , ایک طرف سارے منافق دوسری طرف علی کی اولاد - ایک طرف جبر ہی جبر دوسری طرف صبر ہی صبر -
یہ کہانی چند روز کی نہیں بلکہ قیامت تک کی کہانی ہے -
جب جب دنیا جاگے گی تب تب یہ کہانی نکھرے گی -
(آزاد هاشمی )

کربلا سے لٹا ہوا قافلہ

سوچتا ہوں کہ جب کربلا سے لٹا ہوا قافلہ گھر لوٹا ہو گا - بی بی صغرا نے بیمار بھائی سے پہلا سوال کیا پوچھا ہو گا - معصوم اصغر کا پوچھا ہو گا یا جوان علی اکبر کا پوچھا ہو گا - با با حسین کا پوچھا ہو گا یا چچا عباس کا - پھوپھی زینب کی چادر کا سوال کیا ہو گا یا ماں کے ہاتھوں پہ رسیوں کے نشانوں کی وجہ پوچھی ہو گی -
سوچتا ہوں کیسے سنائی ہو  گی داستان بہن کو - کیسے بتایا ہو گا چچا کے کٹے بازووں کا - کیسے بتایا ہو گا بابا کے نیزے پہ سجے سر کا - زبان نہیں کھلی ہو گی بازار   میں ننگے سروں والی بیبیوں کا تماشہ دکھانے والے ظالموں کے ظلم پہ -
سوچتا ہوں کہ صغرا جب بھائی  کی خاموشی کا مطلب سمجھی ہو گی - تو ضرور پوچھا ہو گا -
" بھائی ! بابا علی کو آواز دے لی ہوتی , دادی فاطمہ کو بلایا ہوتا "
بہن پوچھے جاتی ہو گی - بھائی روتے جاتا ہو گا-
آزاد ہاشمی

ہے کوئی ایسی قربانی

الله کے خلیل نے الله کی رضا کی خاطر اپنے لخت جگر کی قربانی کا ارادہ فرمایا - اور اپنے ارادے کی تکمیل میں کسی بھی فطری کمزوری کو روکنے کے لئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے کو ضروری خیال کیا - بیٹے کو بھی باندھ لیا - ایک طرف تو جذبہ پدری تھا دوسری طرف رضاۓ ربی تھی - یہ تھا آغاز رضاے ربی کے لئے اولاد کی قربانی کا -
اس آغاز کو ایک ایسا روپ بخشا کربلا کی تپتی ریت پہ حبیب خدا کے نواسے " حسین " نے -
الله کی راہ میں , الله کی رضا پہ , نہ آنکھوں پہ پٹی باندھی , نہ بیٹوں کے پاؤں میں رسی باندھنے کی نوبت آئ - اپنے ہاتھوں پہ اٹھا کے , اپنی کھلی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کے ٹکڑے , اپنی آنکھوں کے نور قربان کر دیے -
ہے کوئی ایسی قربانی , تاریخ کے کسی ایک صفحه پہ لکھی ہوئی جو حسین نے اپنے خون سے لکھی -
آزاد ہاشمی

محرم الحرام کی آمد سے چند روز پہلے

محرم الحرام کی آمد سے چند روز پہلے کچھ علم و دانش کے بادشاہ معاویہ کی شان میں قصیدے شروع کر دیتے ہیں - باقی سارا سال خاموشی رہتی ہے - حالانکہ
فرقہ کوئی  بھی  ہو  اہل  بیت  کی  محبت  کو  اسلام کے  اساس  سے الگ نہیں  کرتا- اگر  ان چند دنوں کو  ان  کے  نام کر  دیا  جاے تو  کوئی  حرج  بھی  نہیں -
کچھ ایسی ہی تحریک میلاد النبی سے پہلے بھی شروع ہو جاتی ہے - اور پوری لے دے کے ساتھ آمد رسول کی خوشی منانے کو بدعت ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں -
کیا دین اختلافات کے لئے موضوع ڈھونڈھنے کا نام ہے - الله کے حبیب کی آمد پہ خوشی منا لینے سے کونسی حدود ٹوٹ جاتی ہے -
وہ کونسا گھر ہے , وہ کونسا خاندان ہے ,وہ کونسے ماں باپ ہیں , جن ہاں بچوں کی پیدائش پہ خوشی کا اظہار نہیں ہوتا - یہ ایک فطری تقاضا ہے -
اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آپ تو پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں , بلا شک پوری کائنات میں خوشی کی لہر آئ ہو گی -
سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ماہ مبارک کو  خوشی منانے سے منسوب کر دینے سے اسلام کا کونسا قانون ٹوٹ جاتا ہے -
کیا بہتر نہیں کہ اختلافی بیانات دے کر معاملات کو خراب نہ کیا جاے -
الله ہمیں ہدایت دے.
آمین
آزاد ہاشمی

تاریخ گواہ ہے

تاریخ گواہ ہے کہ غزوہ احد کے وقت ہندہ نام کی ایک وحشی عورت نے حضرت حمزہ کی لاش کو اسطرح پامال کیا کہ کان کاٹ ڈالے , ناک کاٹ ڈالی , سینہ چاک کیا , دل نکالا , چبایا اور تھوک دیا - یہ درندہ عورت معاویہ کی ماں اور یزید کی دادی تھی - دودھ کا اثر دیکھیں کہ معاویہ نے نواسہ رسول امام حسن کو ایسا زہر دیا کہ کلیجہ بوٹیاں بن کر باہر آ گیا - پوتے نے پورے اہل بیت کے شہیدوں کی جسم پامال کر دئیے -
انصاف کا دامن تھام کے سوچو , کیا ایسے لوگوں کو الله کے حبیب نے جنّت کی بشارت دی ہو گی - جو انسانیت کے نام پہ سیاہ دھبہ ہیں -
کبھی نہیں -
آزاد ہاشمی

رسوائی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے

" رسوائی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے - ہم الله کی زمین پہ رہتے ہیں - الله کا دیا ہوا رزق کھاتے ہیں - مگر الله کی عبادت نہیں کرتے - ہم انسانوں کو پوجتے ہیں - اپنی خواہشات کو سجدے کرتے ہیں - ہمارا سارا عمل ریا ہے , دکھاوا ہے دکھاوا "
مجھے ایک عرصے سے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ بابا جی پکوڑے اور سموسے بیچتے ہیں - سوچ اور فکر میں یہ فلسفیانہ رنگ کیسے آ گیا -
" بابا  جی ! آپ نے ساری زندگی سموسے ہی بیچے یا کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا - آپ کو تو پروفیسر ہونا چاہیے تھا "
بابا جی  نے مسکراتے ہوۓ میری طرف دیکھا -
" بیٹا ! زندگی کی ٹھوکریں نہ پڑیں تو عقل نہیں آتی - یہ ٹھوکریں الله اپنے بندوں کے لئے منتخب کرتا ہے - اسکا شکر ہے کہ میں اپنے ہاتھوں سے اپنا رزق تلاش کرتا ہوں - وہ سامنے بڑا سا بنگلہ دیکھ رہے ہو "
بابا جی نے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا -
" یہاں ایک رئیس زادہ رہتا ہے - باپ کی عزت اور نیک نامی کا جنازہ نکال رہا ہے - غریب لوگ پیر صاحب سمجھ کر آتے ہیں - سارے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ظالم - لالچ اور حرص میں ڈوبا ہوا  یہ انسان کسی کو کیا دے گا "
" یاد رکھو بیٹا ! زانی , شرابی اور جواری نہ کسی کا دوست ہوتا ہے , نہ خیر خواہ - یہ وہ رستے ہیں جو ہر برائی کی طرف جاتے ہیں - ان رستوں پہ چلنے والوں کا بہت برا انجام دیکھا ہے میں نے - میں نے کئی رئیس زادوں  کو بھیک مانگتے دیکھا ہے -
جانتے ہو ہم معاشی بد حالی کا شکار کیوں ہوۓ - ہم نے الله اور الله کے رسول سے جنگ کر دی - سود کو اپنی معیشت کا حصہ بنا لیا - اب راستے ڈھونڈھ رہے ہیں خوشحالی کے - زنا کی ترغیب کے لئے میڈیا کو فعال کر دیا - ہم نے آزاد خیالی کے نام پہ برائی کے سارے دروازے کھول دیے "
" اب سمجھ رہے ہیں کہ سیاسی شعبدہ باز خوشحالی لے آئیں گے - فوج امن لے اے گی - الله کو ناراض کر کچھ نہیں اے گا -
الله کی مانو , پھر الله سے مانگو "
بابا جی ٹھیک کہہ رہے تھے -
آزاد ہاشمی

ایک ریفرنڈم اور -

ایک ریفرنڈم اور -
جمہوریت کو بنیاد بنا کر ہمارا سارا کرپٹ طبقہ ہر من مانی کر رہا ہے - برگر فیملیز , چبا چبا کر انگلش بولنے والے , جدید دور کے جدید محقق , دنیا کی خبروں کے علامہ یہ باور کراتے رہتے ہیں , کہ صرف اور صرف جمہوریت ایسا نظام ہے , جس سے پوری دنیا کا نظم  و نسق قائم ہے - ہمارے  ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ دوست تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام نا قابل عمل نظام ہے - یہ جبر اور قدامت پرستی ہے - موجودہ دور سے کسی طور ہم آہنگ نہیں -
چلیں آج جمہوریت کی بات کرتے ہیں , ہم راضی ہیں تم بھی مان لو تو ایک فیصلہ اکثریت سے لے لیتے ہیں , تم بھی تحریک کرو ہم بھی کرتے ہیں - ایک ریفرنڈم اپنے وطن میں کروانے کی تحریک - صرف یہ جانتے ہیں کہ کتنے لوگ اسلام کا نظام چاہتے ہیں اور کتنے لوگ سیکولر , لبرل جمہوریت چاہتے ہیں - کتنے لوگ اپنی بہن بیٹیوں کو آزاد ماحول دینے پہ راضی ہیں اور کتنے لوگ اسلامی اقدار کی حدود سے متفق ہیں - جو فیصلہ اکثریت سے ہو جاے اسی پر سب کمر باندھ لیں - یہ ہے جمہوریت کا بنیادی اصول - آؤ کندھے سے کندھا ملا کے آگے بڑھتے ہیں -
میرا ایمان ہے کہ بڑے سا لبرل بھی اپنے بہو , بیٹیوں , ماں اور بہنوں کو آزاد ماحول دیتے وقت دو قدم پیچھے کو اٹھاۓ گا - انشاء الله -
شکریہ
آزاد ہاشمی

لوگوں کی اکثریت کےکہنےپرچلوگے

 اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا
" اگرتم زمین میں بسنے والےلوگوں کی اکثریت کےکہنےپرچلوگےتووہ تمہیں اللہ کےراستےسے بهٹکادینگے.  وہ تومحض گمان پرچلتے اورقیاس آرائیاں کرتےہیں. درحقیقت تمهارا رب بہترجانتاہے کہ کون اسکےراستےسےہٹاہواہےاورکون سیدھی راہ پرہے "
ہم نے آنکھیں بند کر کے سیاسی ملاؤں کی تقلید شروع کر رکھی ہے - کبھی الله تعالی کے احکامات کو نہ خود سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی ملاؤں نے ہمیں سمجھنے دیا - کیا یہ آیت جمہوریت کی مدلل تصویر پیش نہیں کرتی - پھر کیا یہ دین کی خبر رکھنے والوں کی نظر سے نہیں گزری یا انہوں نے کسی ذاتی مصلحت کی بنا پر اسے عوام سے چھپا رکھا ہے - ہم اپنی فرقہ پرستی اور گروہی سوچ کی وجہ سے مذہبی قائدین کی ہر بات سے اتفاق کرنے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں - اور انکے ہر فیصلے کو درست ثابت کرنے کے دلائل ڈھونڈھنے میں لگے رہتے ہیں - حرف آخر ملا نہیں قران ہے اور قران کے احکامات سے کوئی بھی فقہ , کوئی بھی حوالہ , کوئی بھی تفسیر  اگر  متصادم ہے تو یقینی طور پہ فاسق ہے -
کیا جواز ہے مذہبی جماعتوں کے پاس جو سیاست کے میدان میں متحرک ہیں , کہ جمہوریت کے نظام کیلیے جدوجہد کی جاے اور اسلامی نظام کی ثانوی حیثیت تسلیم کر لی جاے - کیا یہ درست نہیں ہو گا کہ مذہبی جماعتوں کے اس دو رخی کردار پر محاسبہ کیا جاے  - کیا اسے اسلام کے نظام کے خلاف محاذ سمجھنا غلط ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

آخر کیوں اور کب تک "

"آخر کیوں اور کب تک "
ایک معمولی سا تجزیہ ان لوگوں کیلیے جن کو اپنے ایمان سے  زیادہ جمہوریت کی دیوی سے پیار ہے - اور جن لوگوں نے جمہوریت کی عینک پہن رکھی ہے - ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انتخابات کے دیوانے لیڈروں کے پیٹ میں عوام کا درد رہتا ہے اور اس درد کا علاج صرف اسمبلیوں  کی سیٹ ہے - اس کے پیچھے اصل عوامل کیا ہیں - آئیے دیکھتے ہیں  -
 ایک قومی اسمبلی کا ممبر جن مراعات سے مستفید ہوتا ہے , وہ شاید بڑے سے بڑا صنعتکار یا تاجر بھی نہیں ہو سکتا -
 ایک جائزہ لیں کہ ہمارا ایک مخلص نمائندہ کسقدر ہمارے لئے بوجھ ہے - اس میں فقیر منش لوگ بھی ہیں جو اپنی مفلسی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں - یہ بھی کہتے ہیں کہ انکے پاس نہ گھر ہے نہ گاڑی - کون پوچھے کہ حضرت  قومی اسمبلی کی  یہ مراعات سب کو ملتی ہیں تو آپ کو کیوں نہیں -  ماہانہ ملنے والی تنخواہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار , قانون سازی کرنے کی ایک لاکھ , دفتری اخراجات کی مد میں ایک لاکھ چالیس ہزار , آمدو رفت کیلیے اڑتالیس ہزار ایک دورہ , ریل گاڑی ایئر کنڈیشنڈ فری جتنی بار بھی دل چاہے , چالیس بار سالانہ بیوی بچوں سمیت فری ہوائی سفر , پچاس ہزار بجلی کا فری استعمال , ایک لاکھ ستر ہزار کے فون بل فری یعنی ایک قومی اسمبلی کا خدمتگار قوم اور وطن کو صرف حکومتی خزانے سے تھوک لگاتا ہے -
 وہ پانچ سال میں سولہ کروڑ  روپے کا اضافی بوجھ خدمت کے نام پر ہمارے سروں پہ لاد دیتا ہے - ایسے 534 خدمتگار صرف قومی اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لئے قومی خزانے کا 85 ارب روپیہ اڑا رہے ہیں -
 یہ جمہوریت کے احسانات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے -
کیا یہ گھناؤنا کھیل جاری رہنا چاہیے - اگر ہم لوگوں کو آج بھی ہوش نہیں آئ تو ہماری کئی نسلیں قرض کے بوجھ میں دب جائینگی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی

مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی کا سیاست میں ایک اہم کردار رہا ہے - کوئی بھی معاملہ سامنے آیا , سڑکوں پہ , اخبارات میں اور پبلک میں احتجاج کرنے کی روایت کو برقرار رکھا اور اب بھی برقرار رکھے ہوے ہے - جماعت کے اکابرین سے لےکر کارکنان تک کا تعلیم یافتہ ہونا ایک دوسرا کریڈٹ بھی ہے - انتظامی لحاظ سے بھی منفرد مقام حاصل ہے - ان سب خوبیوں کے باوجود انتخابات میں کبھی کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکنا , ہر بار کامیابی کی نوید کا غلط ہو جانا , نظام اسلام کی تحریک کا صرف تشہیری مہم تک محدود رہنا - ان تمام خوبیوں کو زیر کر لیتا ہے - جو اس جماعت کا حسن رہا ہے - اگر احباب جماعت کو ناگوار نہ گزرے تو اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کیلیے جو اقدامات اٹھانے چاہیے تھے , وہ اخبارات میں بیان بازی تک تو ہمیشہ جاری رہے مگر عملی طور پر جمہوریت کی پشت پناہی ہوتی رہی - تمام تر توجہ سیٹیں جیتنے تک محدود رہی - اہستہ اہستہ  سیٹیں بڑھنے کی بجاۓ کم ہوتی رہیں - نہ اسمبلیوں میں کوئی  خاطر خواہ حصہ رہا اور نہ پبلک میں پہلے جیسی پزیرائی باقی رہی - ایسے نظم و نسق کا , کارکنان اور اکابرین کے علم و دانش کا , ہر تحریک میں شور و غوغا کا کیا فائدہ , جب اکثریت مذہبی رحجان سے ہٹ گئی  اور لبرل و سیکولر کی اواز بلند ہو گئی - کیا  یہ سچ نہیں کہ جماعت بھی اب دوسری پارٹیوں کی طرح وزارت عظمی کی امیدواری پہ نظر گاڑھ چکی ہے - کیا بہتر ہوتا کہ جماعت ان 66 فیصد لوگوں کو اعتماد میں لیتی تو انتخابات میں ووٹ نہیں  دیتے , اور اسلامی نظام کو ہی ٹارگٹ کرتی - اس سے تائید ربی بھی حاصل ہوتی اور اقتدار کی طرف بھی پیش رفت بھی ہو جاتی - اگر جماعت اکیلی صرف اس ایک بات پہ متحرک ہو جاے کہ ہمیں قومی طور پہ پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ قوم جمہوریت چاہتی ہے یا اسلام - ہمیں انتخاب سے پہلے ریفرنڈم کرنا ہے کہ اسلام یا جمہوریت - تو یہ ایک قابل قدر اقدام ہو گا - محض اسلام کے نام پہ جمہوریت کی مدد کرنا , احسن طریقه نہیں اور مذہبی لوگوں کو قطعی طور پر زیب نہیں دیتا -
امید کرتا ہوں کہ ان چند گزارشات کو ذاتی نہیں لیا جایگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

آپ کس لیڈر کو پسند کرتے ہیں

" بابا جی ! آپ کس لیڈر کو پسند کرتے ہیں "
میں اکثر ایسے سوال کر کے بابا جی کو چھیڑتا رہتا ہوں - میرا خیال تھا کہ وہ معمول کے مطابق ہنستے ہوے کوئی جواب دیں گے - مگر آج کیفیت مختلف تھی - بابا جی نے پکوڑے بنانا بند کر دئیے - اور غصے سے بولے -
" کیا کہا - میرا پسندیدہ لیڈر کون ہے - یہ پوچھا تم نے - تم نہیں جانتے کہ میں مسلمان ہوں "
میں سمجھ گیا کہ بات بگڑ گئی ہے -
" یہی بد قسمتی ہے - کہ ہم نے دنیا کے حریص کتوں کو لیڈر مان لیا - یہ جو روز خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے , اسی وجہ سے ہے - کیا پوری کائنات کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی دینے والے سے بہتر کوئی لیڈر ہے "
میں ایک بے جان بت بنا کھڑا تھا -
" ارے نادان ! الله نے ہم تمام مسلمانوں کے لئے صرف اپنے حبیب کی اطاعت فرض کی ہے - پھر کسی دوسرے لیڈر کی ضرورت نہیں رہ جاتی "
میں بھاگنے کی راہ ڈھونڈھ رہا تھا -
" سنو ! اگر اپنی فلاح چاہتے ہو , ان دنیاوی مصیبتوں سے چھٹکارہ چاہتے ہو تو اپنے رب کو راضی کرو - وہی کرو جو رب چاہتا ہے - رب صرف اپنی حکمرانی چاہتا ہے - اپنے حبیب کا اسوہ لاگو کرنا چاہتا ہے - اپنا نظام چاہتا ہے -  ان دنیا کے حرص میں لتھڑے ہوے لوگوں کی پرستش چھوڑ دو - ان کی تعریفوں میں اپنے ایمان برباد مت کرو - جو تعریف کے لائق ہے , اسی کی تعریف کرو "
بابا جی , کو میری بے بسی سمجھ آ گئی - میری طرف دیکھ کے مسکراتے ہوے پکوڑے بنانے میں لگ گئے -
آزاد ہاشمی

امیدیں عدالت کے سربراہ سے

کچھ عرصۂ پہلے ہم نے بہت  ساری  امیدیں عدالت کے سربراہ سے وابستہ کر لیں - ہمیں یقین ہو گیا کہ اب انصاف ہر دہلیز تک پہنچ جاے گا - اب ہر مجرم سزا سے نہیں بچے گا - خواہ اس کا سٹیٹس کچھ بھی ہو - مگر پتہ یہ چلا کہ کچھ بھی نہیں بدلا - اب بھی سزا کا پھندہ غریب کے گلے کے لئے ہی ہے - اب بھی ملک  لوٹنے والا لیڈر ہی ہے - اور ایک روٹی چوری کرنے والا خطرناک مجرم ہے - اب  بھی پیسے والے کے لئے جیل ہوٹل ہے اور غریب کے لئے جاے عبرت - مایوس قوم ہر آنے والے  کو مسیحا مان لیا کرتی ہے - دہشت کی آندھی میں پولیس کا کردار نفی تھا  , اور خوف ہر گھر میں ناچ رہا تھا - ہر کونے میں , ہر عبادت گاہ میں , ٹرین میں , بس میں  , پارک میں موت  ہی موت نظر آنا شروع ہو گئی تھی -
ہم کسی بہادر کے انتظار میں تھے - نظریں گھوم پھر کر فوج ہی پہ ٹک رہی تھیں -
اب یہ امید بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی نظر آنے لگی ہے - یوں لگ رہا ہے کہ دہشت کے پنجے ابھی تک ہماری شہ رگ پہ ہیں - یکے بعد دیگرے موت کی ہولی جاری ہے - لوگوں کی مایوس  کھسر پھسر شروع ہو چکی ہے -
ہمارے فیصلہ کرنے والے لوگ , اگر مخلص ہو کر سوچیں تو یہ جنگ پوری قوم کو لڑنے کے لئے تیار کرنا ضروری ہے -
ایسی جنگیں بحثیت قوم لڑی جاتی ہیں - اس جنگ میں دانشور , میڈیا , سیاستدان , مذہبی جماعتیں غرضیکہ ہر محب وطن کو شامل کرنا ہو گا -
بد قسمتی یہ ہے , اس دہشت کی پزیرائی مذکورہ تمام شعبے کسی نہ کسی طرح ایک عرصے سے کر رہے ہیں - اور ان غداروں کو روکنے کا ابھی تک کوئی بھی بندو بست نہیں ہوا - نا معلوم وہ کیا اسباب ہیں جس وجہ سے غداری کے مرتکب لوگوں کو , ملک لوٹنے والوں کو , دشمنوں کے گن گانے والوں کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا - ایک روز یہ مصلحت ہی راستے کا بہت بڑا پتھر ہو گا -
الله ہماری مدد فرماے - آمین
آزاد ہاشمی

کیا ہوا تیرے دل کو

لوگ پوچھتے ہیں
کیا ہوا تیرے دل کو
کیا کہوں کہ
بے وفا ہو گیا ہے
روٹھ جاتا ہے بات بات پر
نہ جانے کیوں خفا ہو گیا ہے
ہر بات اسکی مانتا رہا ہوں
نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے
کبھی بیٹھنے لگتا ہے
کبھی بھڑک اٹھتا ہے
نہ سنتا ہے کسی کی
نہ مانتا ہے کسی کی
کچھ تو کہے
کچھ تو بولے
کچھ تو مانگے
ایسے لگتا ہے کہ نہ آشنا ہو گیا ہے
(آزاد ہاشمی )

Friday, 16 June 2017

اسلام کے دامن میں

اسلام کے دامن میں
رکھا کیا ہے
حسین کا سر ہے
زینب کی ردا ہے
عباس کے بازو ہیں
حر کی وفا ہے
اک سجدہ حسین کا ہے
اک علی کی سخا ہے
اک بازار کوفہ ہے
اک تپتی کربلا ہے
اک آل رسول کے قیدی ہیں
اک ظالم کی جفا ہے
اک عروج صبر ہے
اک جبر کی انتہا ہے

اے کفبلا

اے کربلا کی مٹی تجھے یاد تو ہو گا , اے کربلا کی زمین پہ بکھرے نوکیلے کنکروں تم بھی بھول نہیں پاۓ ہو گے , فرات کے بہتے دریا تو بھی گواہ ہو گا - کہ نبی کی بیٹی کے لخت جگر نے کس شان سے الله کے دین کی آبرو سربلند کی - تم گواہی تو دو گے کہ اگر باغ رسول کے یہ سارے پھول خاک کی پیاس اپنے خون نہ بجھاتے تو آج ساری دھرتی الله کے دین سے خالی ہوتی - اگر نبی کی نواسی اپنی چادر قربان نہ کرتی تو آج ہر معصوم کے سر سے چادر چھن گئی ہوتی -
اے فلک کبھی دیکھا تو نے ایسا جس اسلام کی شمع جلاۓ رکھنے کے لئے اپنے گھر کے سارے چراغ بھجا دئیے ہوں -
یزیدیت کے خلاف چند ماہ کے بچے کو کبھی حلق پہ تیر کھاتے دیکھا -
اے فلک ! کبھی دیکھا تو نے حسین جیسا باپ اور علی اکبر جیسا بیٹا , کبھی دیکھا تو نے کربلا جیسا معرکہ - کبھی دیکھا تو نے یزید جیسا ظلم -کبھی  دیکھا
تو نے سکینہ جیسا قیدی - سچ بتا کبھی دیکھا سر کے بالوں سے پردے کی لاج رکھنے والا چہرہ -
اے تاریخ کے لکھاریو ! ہے کوئی مثال کائنات میں کسی ایسے سجدے کی جو حسین نے کیا -
کبھی دیکھا کسی نبی کی آل کو رسیوں میں جھکڑے ہوۓ -
کبھی دیکھی علی کی بیٹی جیسی گرج کسی ظالم کے دربار میں -
کبھی دیکھی یزید جیسی شکست اور رسوائی -
کیا آل رسول کی بے پردہ بیبیوں کو دیکھ کر فلک تو  رویا ہو گا -
جب سکینہ کو طمانچے لگے زمین تو  کانپی ہو گی -
جب حسین کی گردن پہ خنجر چلا نبی کی بیٹی کا کلیجہ تو  کٹا ہو گا -
جب زینب آتش زدہ خیموں میں آل نبی کے پھولوں کو ڈھونڈنے بے پردہ بھاگی فرشتوں کی آنکھیں پر نم تو  ہوئی ہوں گی -
جب کٹے ہوۓ جسموں پہ گھوڑے دوڑے ہوں گے تو خالق کائنات نے لعنت تو  بھیجی ہو گی ظالموں پر -(آزاد ہاشمی

شان نبی

سوچا کہ حبیب خدا کی شان بے مثال میں چند جملے لکھتا ہوں , دل سے آواز آئ - اے بندے تیرے شعور میں وہ بلندی کہاں جو خالق کے محبوب کی شان لکھ سکے - تیری سوچ میں وہ الفاظ کہاں جو شان مصطفیٰ کا حق ادا کر سکیں - یہ تو وہ کتاب ہے جو قیامت تک لکھی جاتی رہے تو مکمل نہ ہو, اور تو چند جملے لکھنے کا سوچ رہا ہے - آپ کے حسن پہ لکھے گا تو کیا لکھے گا - کہاں سے لاۓ گا ان زلفوں کی مثال , کہاں سے لاۓ گا تبسم کے لئے الفاظ , ارے نادان جس کی چادر کی قسمیں الله کھاتا ہو , تو  اس  کی شان کیسے لکھ سکے گا - ارے جس کو الله راز و نیاز کے لئے عرش پہ بلاۓ , اسکی شان تیری سمجھ میں کیسے آی  جو لکھے گا -
کیا لکھے گا اس سادگی پہ کہ پوری کائنات کا سرور ہو کر , سارے نبیوں کا امام ہو کر بھی کھجور کے پتوں کی چٹائی کو بچھونا بناۓ رکھے -
تیرے چند جملے تیری عقیدت کی حد تک ٹھیک ہیں - لکھ لے کہ اس در پہ قبولیت ہی ملتی ہے - مگر سوچتے رہنا کہ اسکی شان کوئی نہیں لکھ سکتا جس پہ الله درود بھیجتا ہو اور قران میں تعریف لکھ ڈالے. جس کی رضا کو الله اپنی رضا کہے , جس پہ درود بھیجے بغیر کوئی عبادت قبول نہ ہو -
(آذآد ہاشمی

نواز شریف

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو -
محترم نواز شریف بھی وہی ہیں , انکے کاسہ لیس بھی وہی , وزیر اور مشیر بھی وہی , انداز و ناز بھی وہی -
جب یہ اپنی دولت کی بیساکھیوں پر پہلی بار مسند اقتدار پہ جلوہ افروز ہوۓ , انکے جلو میں اور بھی بہت سارے کہنہ مشق اور وراثتی سیاستدان بھی تھے - جو دال نہ گلنے پر الگ ہوتے گئے , مگر جن کی امیدیں اور مفادات پورے ہوتے رہے وہ آج بھی ساتھ ہیں -
ایک خوبصورت خواب دکھایا گیا کہ قوم چندہ دے تو سارا قرض اتار دیں گے - لوگوں نے حسب عادت جو جو بن پایا دے دیا - پھر کسی کو یاد ہی نہیں رہا کہ قرضہ اترا کہ نہیں -
ترقی کے خواب , موٹر وے , سڑکیں , پل اور میٹرو جیسے منصوبے بنتے رہے - قوم سمجھتی رہی کہ ترقی کا آغاز ہو گیا -
صنعتیں , زراعت , تجارت , برآمدات ,تعلیم , صحت اور دوست ملکوں سے تعلقات  برباد   ہوتے رہے , مگر ہم مگن تھے خواب دیکھنے میں - یہ خیال ہی نہیں آیا کہ یہ بڑے بڑے منصوبے ترقی نہیں تجارت ہو رہی ہے - ان پر ملنے والا کک بیک اصل ٹارگٹ ہے - یہ ہی وہ پیسہ ہے جس کو آف شور تجارت پہ لگایا جاتا رہا -
حیرانی اس معصوم صورت حکمرانوں پہ نہیں , حیرانی ان سیاستدانوں پہ ہے , ان میڈیا کے بادشاہوں پہ ہے , قومی سلامتی کے حلف لینے والوں پہ ہے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوئی , کہ ملک کو ترقی کے نام پہ لوٹا جا رہا ہے -
اسے قوم کے تمام ذمہ داروں کی بے خبری کہیں , حصہ داری کہیں , غفلت کہیں یا وطن سے غداری کہیں -
وطن میں کتنے لوگ ہیں جن کے دلوں کی شریانیں بند ہیں , ان لوگوں کا وطن میں علاج کبھی حکومت کی ذمہ داری  نہیں ہوا - پھر وطن کے وسائل پہ وزیر محترم کا علاج اور وہ بھی بیرون ملک پورے پروٹوکول سے - کیوں - کیا یہ آواز کبھی اٹھے گی , کبھی کوئی دیانتدار محتسب , کوئی مسیحا , کوئی لیڈر , کوئی میڈیا کا بادشاہ , کوئی اسمبلی , کوئی محب وطن پارٹی اس کا احتساب کر سکے گی -
یقینی طور پہ نہیں -
یہ وہ محاذ ہے جس پر جب تک ہم سب انفرادی طور پہ بر سر پیکار نہیں ہونگے - جب تک ہم خود سیاسی وابستگیوں سے الگ ہو کر جدوجہد نہیں کریں گے , کچھ نہیں ہو گا -
ہمیں ووٹ , جسے قومی امانت کہتے ہیں , قومی مفادات کو سامنے رکھ کر دینا ہو گا - نعرے نہیں کارکردگی دیکھنا ہو گی , کردار دیکھنا ہو گا , ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے اجتناب کرنا ہو گا - رہبر اور رہزن میں فرق کرنا ہو گا - اب کی بار پھر کوئی لٹیرا آیا تو شاید ہماری نسلیں بیچ جاے -
شکریہ
 آزاد ہاشمی