ہم وہ قوم ہیں , جو کبھی سنجیدہ نہیں ہوتی - کون کیا کر گیا , کون کیا کر
رہا ہے - ہمیں کوئی سرو کار نہیں - جو بھی آیا قوم کو کوئی نہ کوئی الجھن ,
کوئی نہ کوئی امتحان دے کر چلا گیا - ہر نیا آنے والا پہلے والے سے زیادہ
مداری ثابت ہوا -
بھلا ہو جمہوریت کا , کہ کوئی بھی معاملہ ہو جمہوریت کے دیوانے گول کر جاتے ہیں -
عدالتیں , انتظامی ادارے , محافظ اور دانشور سب کے سب اسی خوف میں رہتے ہیں کہ کیا پتہ یہی لوگ کب اقتدار میں آ جایں , اسلیے دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی اچھی نہیں - سب مصلحت کو پوجنے والے ہیں- نہ پہلے کچھ ہوا نہ اب ہو گا -
رہی عوام تو نہ انکا حافظہ اتنا مضبوط ہے کہ گزرے کل کی بات یاد ہو , نہ اتنا شعور ہے کہ فیصلہ کر سکیں -
کیونکہ عوام کے فیصلے یا وڈیرے کرتے ہیں , یا خان , یا چوہدری , اور یا پھر پیسہ -
یہی جمہوریت کا اصل چہرہ ہے -
اسی لئے یہ سب دھندہ ان لوگوں نے چلا رکھا ہے -
کہ اگر نظام اسلام آ گیا , اگر لوگ اسوہ حسنہ پہ چل نکلے تو کسی بھی مجرم کا سزا سے بچ نکلنا ممکن ہی نہیں - پھر نہ قاضی فیصلہ کرتے وقت کانپے گا , نہ محافظ کو مصلحت روکے گی - اور نہ ہی عوام کسی خوف کا شکار ہو گی -
اگر ہم دیانتداری سے تجزیہ کریں تو اس کرپشن کے ساتھ آج بھی ہمارے سارے سیاستداں کھڑے ہیں , جو چند ایک متحرک ہیں , وہ بھی عوام کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے , چند روز ہلہ گلہ ہو گا - پھر سب اسمبلیوں میں اکٹھے بیٹھ جاینگے -
ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کرپشن والے نہیں چھوڑتے تو یہ سب چھوڑ دیں - کم از کم مذہبی جماعتیں تو اس جرم سے الگ ہو جایں -
جمہوریت کو جمہوریت ہی رہنے دیں , اسلامی جمہوریت کا میڈل نہ پہنائیں -
اور اسلامی نظام کے لئے پوری قوت سے متحرک ہو جایں -
یہی ایک طریقہ ہے , کرپٹ لوگوں سے نجات کا - ہو سکتا ہے کہ بہت سارے پارسا کو بھی خوف ہو کہ کہیں وہ بھی ننگے نہ ہو جایں -
یہ وہ وقت ہے کہ قوم اپنی بہتر راہ کا تعین کر لے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
بھلا ہو جمہوریت کا , کہ کوئی بھی معاملہ ہو جمہوریت کے دیوانے گول کر جاتے ہیں -
عدالتیں , انتظامی ادارے , محافظ اور دانشور سب کے سب اسی خوف میں رہتے ہیں کہ کیا پتہ یہی لوگ کب اقتدار میں آ جایں , اسلیے دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی اچھی نہیں - سب مصلحت کو پوجنے والے ہیں- نہ پہلے کچھ ہوا نہ اب ہو گا -
رہی عوام تو نہ انکا حافظہ اتنا مضبوط ہے کہ گزرے کل کی بات یاد ہو , نہ اتنا شعور ہے کہ فیصلہ کر سکیں -
کیونکہ عوام کے فیصلے یا وڈیرے کرتے ہیں , یا خان , یا چوہدری , اور یا پھر پیسہ -
یہی جمہوریت کا اصل چہرہ ہے -
اسی لئے یہ سب دھندہ ان لوگوں نے چلا رکھا ہے -
کہ اگر نظام اسلام آ گیا , اگر لوگ اسوہ حسنہ پہ چل نکلے تو کسی بھی مجرم کا سزا سے بچ نکلنا ممکن ہی نہیں - پھر نہ قاضی فیصلہ کرتے وقت کانپے گا , نہ محافظ کو مصلحت روکے گی - اور نہ ہی عوام کسی خوف کا شکار ہو گی -
اگر ہم دیانتداری سے تجزیہ کریں تو اس کرپشن کے ساتھ آج بھی ہمارے سارے سیاستداں کھڑے ہیں , جو چند ایک متحرک ہیں , وہ بھی عوام کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے , چند روز ہلہ گلہ ہو گا - پھر سب اسمبلیوں میں اکٹھے بیٹھ جاینگے -
ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کرپشن والے نہیں چھوڑتے تو یہ سب چھوڑ دیں - کم از کم مذہبی جماعتیں تو اس جرم سے الگ ہو جایں -
جمہوریت کو جمہوریت ہی رہنے دیں , اسلامی جمہوریت کا میڈل نہ پہنائیں -
اور اسلامی نظام کے لئے پوری قوت سے متحرک ہو جایں -
یہی ایک طریقہ ہے , کرپٹ لوگوں سے نجات کا - ہو سکتا ہے کہ بہت سارے پارسا کو بھی خوف ہو کہ کہیں وہ بھی ننگے نہ ہو جایں -
یہ وہ وقت ہے کہ قوم اپنی بہتر راہ کا تعین کر لے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment