Saturday, 17 June 2017

آخر کیوں اور کب تک "

"آخر کیوں اور کب تک "
ایک معمولی سا تجزیہ ان لوگوں کیلیے جن کو اپنے ایمان سے  زیادہ جمہوریت کی دیوی سے پیار ہے - اور جن لوگوں نے جمہوریت کی عینک پہن رکھی ہے - ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انتخابات کے دیوانے لیڈروں کے پیٹ میں عوام کا درد رہتا ہے اور اس درد کا علاج صرف اسمبلیوں  کی سیٹ ہے - اس کے پیچھے اصل عوامل کیا ہیں - آئیے دیکھتے ہیں  -
 ایک قومی اسمبلی کا ممبر جن مراعات سے مستفید ہوتا ہے , وہ شاید بڑے سے بڑا صنعتکار یا تاجر بھی نہیں ہو سکتا -
 ایک جائزہ لیں کہ ہمارا ایک مخلص نمائندہ کسقدر ہمارے لئے بوجھ ہے - اس میں فقیر منش لوگ بھی ہیں جو اپنی مفلسی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں - یہ بھی کہتے ہیں کہ انکے پاس نہ گھر ہے نہ گاڑی - کون پوچھے کہ حضرت  قومی اسمبلی کی  یہ مراعات سب کو ملتی ہیں تو آپ کو کیوں نہیں -  ماہانہ ملنے والی تنخواہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار , قانون سازی کرنے کی ایک لاکھ , دفتری اخراجات کی مد میں ایک لاکھ چالیس ہزار , آمدو رفت کیلیے اڑتالیس ہزار ایک دورہ , ریل گاڑی ایئر کنڈیشنڈ فری جتنی بار بھی دل چاہے , چالیس بار سالانہ بیوی بچوں سمیت فری ہوائی سفر , پچاس ہزار بجلی کا فری استعمال , ایک لاکھ ستر ہزار کے فون بل فری یعنی ایک قومی اسمبلی کا خدمتگار قوم اور وطن کو صرف حکومتی خزانے سے تھوک لگاتا ہے -
 وہ پانچ سال میں سولہ کروڑ  روپے کا اضافی بوجھ خدمت کے نام پر ہمارے سروں پہ لاد دیتا ہے - ایسے 534 خدمتگار صرف قومی اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لئے قومی خزانے کا 85 ارب روپیہ اڑا رہے ہیں -
 یہ جمہوریت کے احسانات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے -
کیا یہ گھناؤنا کھیل جاری رہنا چاہیے - اگر ہم لوگوں کو آج بھی ہوش نہیں آئ تو ہماری کئی نسلیں قرض کے بوجھ میں دب جائینگی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment