Friday, 16 June 2017

رسوائی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے

" رسوائی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے - ہم الله کی زمین پہ رہتے ہیں - الله کا دیا ہوا رزق کھاتے ہیں - مگر الله کی عبادت نہیں کرتے - ہم انسانوں کو پوجتے ہیں - اپنی خواہشات کو سجدے کرتے ہیں - ہمارا سارا عمل ریا ہے , دکھاوا ہے دکھاوا "
مجھے ایک عرصے سے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ بابا جی پکوڑے اور سموسے بیچتے ہیں - سوچ اور فکر میں یہ فلسفیانہ رنگ کیسے آ گیا -
" بابا  جی ! آپ نے ساری زندگی سموسے ہی بیچے یا کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا - آپ کو تو پروفیسر ہونا چاہیے تھا "
بابا جی  نے مسکراتے ہوۓ میری طرف دیکھا -
" بیٹا ! زندگی کی ٹھوکریں نہ پڑیں تو عقل نہیں آتی - یہ ٹھوکریں الله اپنے بندوں کے لئے منتخب کرتا ہے - اسکا شکر ہے کہ میں اپنے ہاتھوں سے اپنا رزق تلاش کرتا ہوں - وہ سامنے بڑا سا بنگلہ دیکھ رہے ہو "
بابا جی نے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا -
" یہاں ایک رئیس زادہ رہتا ہے - باپ کی عزت اور نیک نامی کا جنازہ نکال رہا ہے - غریب لوگ پیر صاحب سمجھ کر آتے ہیں - سارے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ظالم - لالچ اور حرص میں ڈوبا ہوا  یہ انسان کسی کو کیا دے گا "
" یاد رکھو بیٹا ! زانی , شرابی اور جواری نہ کسی کا دوست ہوتا ہے , نہ خیر خواہ - یہ وہ رستے ہیں جو ہر برائی کی طرف جاتے ہیں - ان رستوں پہ چلنے والوں کا بہت برا انجام دیکھا ہے میں نے - میں نے کئی رئیس زادوں  کو بھیک مانگتے دیکھا ہے -
جانتے ہو ہم معاشی بد حالی کا شکار کیوں ہوۓ - ہم نے الله اور الله کے رسول سے جنگ کر دی - سود کو اپنی معیشت کا حصہ بنا لیا - اب راستے ڈھونڈھ رہے ہیں خوشحالی کے - زنا کی ترغیب کے لئے میڈیا کو فعال کر دیا - ہم نے آزاد خیالی کے نام پہ برائی کے سارے دروازے کھول دیے "
" اب سمجھ رہے ہیں کہ سیاسی شعبدہ باز خوشحالی لے آئیں گے - فوج امن لے اے گی - الله کو ناراض کر کچھ نہیں اے گا -
الله کی مانو , پھر الله سے مانگو "
بابا جی ٹھیک کہہ رہے تھے -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment