Saturday, 17 June 2017

اگر ہمارے علماء

اگر ہمارے علماء کچھ عرصے کے لئے فرقہ واریت کو چھوڑ کر نظام اسلام کی آگاہی کے لئے متحرک ہو جایں , اور قوم کو اسلام کا معاشی , معاشرتی , عدالتی اور انتظامی نظام سمجھا دیں - تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی بساط لپٹنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی -
صرف زکواتہ کا نظام سمجھ آ جاے تو معیشت کے مسائل کا حل نکل آتا ہے - اسکا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ کھربوں روپے کے اثاثوں پہ ہی اتنا فنڈ ہو جاے گا , جو موجودہ ٹیکس نظام سے حاصل نہیں ہو رہا , دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ مہنگائی مکمل کنٹرول میں آ جاۓگی کیونکہ اس طرز سے اشیاۓ صرف پر بوجھ نہیں ہوتا , تیسرا یہ بوجھ بالواسطہ یا بلاواسطہ عام شہری پر نہیں ہوتا صرف صرف امراء پر ہوتا ہے -
اسی طرح حکمرانوں کے انتظامی اخراجات کا بے ہنگم پن کنٹرول ہو جاتا ہے -
معاشرتی خوف , دہشتگردی , نفاق اور باہمی رنجشیں ختم ہو جایں گی -
عدل کی فضا قائم ہو جانے سے جرائم کا طوفان رک جایگا -
یہ وہ شعور ہے , جس سے عوام کو آگاہی دینا ہمارے مذہبی قائدین , ہمارے علماء , دانشوروں اور صاحبان بصیرت کا فرض ہے -
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جتنی مغز سوزی سیاست اور دیگر معاملات پہ کرتے ہیں اسکا چوتھا حصہ اگر اسطرف کریں تو ہر طرف سکون , امن اور خوشحالی نظر آئیگی  - لبرل اور سیکولر آزم کی مالا جپنے والوں کو بھی سمجھ آ جاۓگی کہ اسلامی نظام موجودہ تمام نظاموں سے بہتر ہے -
اسکے لئے علماء کو بھی فرقہ واریت سے ہٹ کر اسلام کے طرز حکومت پر دسترس حاصل ہو جاۓگی -
الله کرے  یہ گزارش قابل عمل سمجھی جاے
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment