Saturday, 17 June 2017

وطن کی مٹی کا قرض ہے

تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ , جو حکومتی معاملات کو دیکھتے رہے اور ہر پہلو سے آگاہ ہیں - جیسے عدالتوں کے ریٹائر جج , تدریسی اداروں کے استاد , بیوروکریٹ , فوجی افسران , پولیس افسران اور کہنہ مشق دانشور -
 کیا سمجھ کر قوم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں - اپنے حصے کی آگہی کیوں نہیں دے رہے - کیا وہ یہی خواب دیکھ رہے ہیں , کہ جن مراعات سے خود لطف اندوز ہوتے رہے - وہ مراعات انکی نسلوں کے حصے میں بھی آئینگی - اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا , حکمران جیسے بھی آتے رہیں - انکی
 نسلیں خوشحال  ہی  رہینگی- یہ  کھلی  آنکھوں کا  خواب  ہے-
چلو اگر دوران ملازمت ان پر پابندیاں تھیں , کہ وہ اسی ڈگر پہ چلیں گے , جس پہ حکومتی سسٹم چلایے گا - جاہل اور  بد دیانت اسمبلیوں میں جو بھی قانون بنائیں گے  وہی حرف آخر ہو گا - مان لیا یہ انکی مجبوری تھی -
 مگر ریٹائرمنٹ کے بعد قوم کے لئے نہ سہی , اپنی نسلوں کے لئے تو سوچیں - اپنے ارد گرد یہ آگاہی تو دیں کہ نئی نسل کا مستقبل کیسے محفوظ ہو  گا -
قوم  کو بتائیں  کہ سیاستداں
کتنے کرپٹ  ہیں -
ہم نے بڑے بڑے افسران کے بچے , چھوٹی چھوٹی ملازمتوں کے لئے دھکے کھاتے دیکھے ہیں - کیونکہ ہر اچھی ملازمت سیاستدانوں کے بچوں اور رشتہ داروں کا حق ہو چکی ہے -
اس جمہوریت کے فریب نے کرپٹ لوگوں کا مضبوط گٹھ جوڑ بنا دیا ہے - جو اکثریت میں ہونے کیوجہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آ رہے ہیں - اس سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے , اسکے  لئے ان تمام لوگوں کو آگے آنا ہو گا , جو دیواروں سے لگے بیٹھے ہیں - اپنے
وطن کی مٹی کا قرض ہے ہم سب پر - ہم سب کو یہ قرض چکانا ہے - مجھے بھی آپکو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment