مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی کا سیاست میں ایک اہم کردار رہا ہے - کوئی
بھی معاملہ سامنے آیا , سڑکوں پہ , اخبارات میں اور پبلک میں احتجاج کرنے
کی روایت کو برقرار رکھا اور اب بھی برقرار رکھے ہوے ہے - جماعت کے اکابرین
سے لےکر کارکنان تک کا تعلیم یافتہ ہونا ایک دوسرا کریڈٹ بھی ہے - انتظامی
لحاظ سے بھی منفرد مقام حاصل ہے - ان سب خوبیوں کے باوجود انتخابات میں
کبھی کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکنا , ہر بار کامیابی کی نوید کا
غلط ہو جانا , نظام اسلام کی تحریک کا صرف تشہیری مہم تک محدود رہنا - ان
تمام خوبیوں کو زیر کر لیتا ہے - جو اس جماعت کا حسن رہا ہے - اگر احباب
جماعت کو ناگوار نہ گزرے تو اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ اسلامی نظام کے
نفاذ کیلیے جو اقدامات اٹھانے چاہیے تھے , وہ اخبارات میں بیان بازی تک تو
ہمیشہ جاری رہے مگر عملی طور پر جمہوریت کی پشت پناہی ہوتی رہی - تمام تر
توجہ سیٹیں جیتنے تک محدود رہی - اہستہ اہستہ سیٹیں بڑھنے کی بجاۓ کم ہوتی
رہیں - نہ اسمبلیوں میں کوئی خاطر خواہ حصہ رہا اور نہ پبلک میں پہلے
جیسی پزیرائی باقی رہی - ایسے نظم و نسق کا , کارکنان اور اکابرین کے علم و
دانش کا , ہر تحریک میں شور و غوغا کا کیا فائدہ , جب اکثریت مذہبی رحجان
سے ہٹ گئی اور لبرل و سیکولر کی اواز بلند ہو گئی - کیا یہ سچ نہیں کہ
جماعت بھی اب دوسری پارٹیوں کی طرح وزارت عظمی کی امیدواری پہ نظر گاڑھ چکی
ہے - کیا بہتر ہوتا کہ جماعت ان 66 فیصد لوگوں کو اعتماد میں لیتی تو
انتخابات میں ووٹ نہیں دیتے , اور اسلامی نظام کو ہی ٹارگٹ کرتی - اس سے
تائید ربی بھی حاصل ہوتی اور اقتدار کی طرف بھی پیش رفت بھی ہو جاتی - اگر
جماعت اکیلی صرف اس ایک بات پہ متحرک ہو جاے کہ ہمیں قومی طور پہ پہلے یہ
فیصلہ کرنا ہے کہ قوم جمہوریت چاہتی ہے یا اسلام - ہمیں انتخاب سے پہلے
ریفرنڈم کرنا ہے کہ اسلام یا جمہوریت - تو یہ ایک قابل قدر اقدام ہو گا -
محض اسلام کے نام پہ جمہوریت کی مدد کرنا , احسن طریقه نہیں اور مذہبی
لوگوں کو قطعی طور پر زیب نہیں دیتا -
امید کرتا ہوں کہ ان چند گزارشات کو ذاتی نہیں لیا جایگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
امید کرتا ہوں کہ ان چند گزارشات کو ذاتی نہیں لیا جایگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment