Saturday, 17 June 2017

مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی

مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی کا سیاست میں ایک اہم کردار رہا ہے - کوئی بھی معاملہ سامنے آیا , سڑکوں پہ , اخبارات میں اور پبلک میں احتجاج کرنے کی روایت کو برقرار رکھا اور اب بھی برقرار رکھے ہوے ہے - جماعت کے اکابرین سے لےکر کارکنان تک کا تعلیم یافتہ ہونا ایک دوسرا کریڈٹ بھی ہے - انتظامی لحاظ سے بھی منفرد مقام حاصل ہے - ان سب خوبیوں کے باوجود انتخابات میں کبھی کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکنا , ہر بار کامیابی کی نوید کا غلط ہو جانا , نظام اسلام کی تحریک کا صرف تشہیری مہم تک محدود رہنا - ان تمام خوبیوں کو زیر کر لیتا ہے - جو اس جماعت کا حسن رہا ہے - اگر احباب جماعت کو ناگوار نہ گزرے تو اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کیلیے جو اقدامات اٹھانے چاہیے تھے , وہ اخبارات میں بیان بازی تک تو ہمیشہ جاری رہے مگر عملی طور پر جمہوریت کی پشت پناہی ہوتی رہی - تمام تر توجہ سیٹیں جیتنے تک محدود رہی - اہستہ اہستہ  سیٹیں بڑھنے کی بجاۓ کم ہوتی رہیں - نہ اسمبلیوں میں کوئی  خاطر خواہ حصہ رہا اور نہ پبلک میں پہلے جیسی پزیرائی باقی رہی - ایسے نظم و نسق کا , کارکنان اور اکابرین کے علم و دانش کا , ہر تحریک میں شور و غوغا کا کیا فائدہ , جب اکثریت مذہبی رحجان سے ہٹ گئی  اور لبرل و سیکولر کی اواز بلند ہو گئی - کیا  یہ سچ نہیں کہ جماعت بھی اب دوسری پارٹیوں کی طرح وزارت عظمی کی امیدواری پہ نظر گاڑھ چکی ہے - کیا بہتر ہوتا کہ جماعت ان 66 فیصد لوگوں کو اعتماد میں لیتی تو انتخابات میں ووٹ نہیں  دیتے , اور اسلامی نظام کو ہی ٹارگٹ کرتی - اس سے تائید ربی بھی حاصل ہوتی اور اقتدار کی طرف بھی پیش رفت بھی ہو جاتی - اگر جماعت اکیلی صرف اس ایک بات پہ متحرک ہو جاے کہ ہمیں قومی طور پہ پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ قوم جمہوریت چاہتی ہے یا اسلام - ہمیں انتخاب سے پہلے ریفرنڈم کرنا ہے کہ اسلام یا جمہوریت - تو یہ ایک قابل قدر اقدام ہو گا - محض اسلام کے نام پہ جمہوریت کی مدد کرنا , احسن طریقه نہیں اور مذہبی لوگوں کو قطعی طور پر زیب نہیں دیتا -
امید کرتا ہوں کہ ان چند گزارشات کو ذاتی نہیں لیا جایگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment