Saturday, 17 June 2017

ملک کی دولت

سوچنے کی بات یہ نہیں کہ ہمارے بہت سارے لیڈروں نے ملک کی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک اپنی تجارت کو بھی فروغ دیا , بنکوں میں حفظ ما تقدم کے طور پر جمع پونجی بھی بنائی , پراپرٹی بھی خریدی -
فکر کی بات یہ ہے , کہ ہمارے لیڈر ذہنی طور پر پاکستان میں خود کو اور اپنے سرماۓ کو محفوظ کیوں نہیں سمجھتے - وہ  یا
تو  ملک  سے مخلص  نہیں  یا  پھر  لٹنے  کا خوف  ہے-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ سرمایہ کک بیک کے طور بھی وصول کیا ہوا  نہیں , اگر ایسا ہے تو ملک کو کتنا نقصان ملا ہو گا - کیونکہ کک بیک یا کمشن دینے والے تاجر نے بھی خوب ہاتھ رنگے ہوں گے -
فکر کی بات یہ بھی ہے  کہ یہ پیسہ اگر ملک سے باہر گیا تو کسی بنک کو استعمال کیا گیا یا وزارتی وفدوں کے بریف کیسوں میں  گیا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ ملک سے جانے والے دھن کی خبر اپنی ایجنسیوں کو کیوں نہیں ہوتی , ہمیں یہ خبریں دوسرے بتاتے ہیں , جب  کنٹرول  نہیں  تو چوری  ہوتی رہے گی-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ان بد دیانت لوگوں کے ساتھ دیانتداری کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے ابھی تک اسمبلیوں میں کیوں بیٹھے ہیں , کہیں یہ بھی انہی کے ساتھ تو نہیں -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ جو کام عدالتوں کے چیف کو کر لینا چاہیے تھا , وہ کام چور خود کریں گے کہ انکا انصاف کون کرے گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ حب الوطنی کے نعرے لگانے والے سیاسی پنڈت کیوں خاموش ہیں -
فکر کی بات یہ بھی کہ اگر ماضی کی طرح یہ بھی چند دن کے واویلا ہوا اور پھر کہانی ختم , تو قوم کے ساتھ بھیانک مذاق یونہی  ہوتا رہیگا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ بھولے بھالے عوام کو اگر اب بھی عقل نہ آئ , تو کیا ہو گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ہمیں لوٹنے والے ایک دو نہیں , ان گنت ہیں - اور ان لٹیروں کا ساتھ دینے والے بھی محافظوں کے روپ میں ان کو تحفظ دیتے ہیں -
سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی سیاسی وابستگیوں کو اولیت دی , تو ہمیں بربادیوں سے کون بچاے گا -
اے  کاش ! ہم ایک قوم بن کر اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کو اپنا مشن بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment