سمجھ نہیں آتا کہ وہ لوگ جو اپنے فرض کی ادائیگی میں جان دے دیتے ہیں , اصل
میں وہ ہیرو ہوتے ہیں یا وہ جو انکی جان لیتے ہیں - سینکڑوں پولیس والے ,
فرض شناس کسٹم افسر , اخبارات کے کئی ایک دبنگ صحافی , فوجی جوان و افسران
, کئی ایک وکیل , پروفیسر , ڈاکٹر اور اسی طرح بیشمار لوگ , جو وطن کی مٹی
سے مخلص تھے مٹی کے اندر بھیج دیے گئے - جو اپنے حلف کی لاج کو ایمان
مانتے تھے , ہمیشہ کے لئے سلا دیے گئے - کیا وہ تنخواہ جو انہیں نان جویں
کے لئے ملتی تھی انکی زندگی کا مول تھی - کیا یہ قوم اور حکمرانوں کی بے
حسی نہیں کہ ان سب کے قاتل ہیرو بنے بیٹھے ہیں - کیا انکے پیٹی بند بھائیوں
کی منافقت نہیں کہ انکے ساتھیوں کے قاتل نہ پکڑے گئے نہ سزا یافتہ ہوے -
کیا پروٹوکول کا جنازہ انکی قربانی کا صلہ ہوتا ہے -
کبھی سوچا کہ اس ماں کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی جب وہ اپنے لخت جگر کے قاتل کی تصویر دیکھتی ہو گی - اس بیوہ سے پوچھو جو اپنے سہاگ کے کپڑوں سے خوشبو سونگھ سونگھ کر جی رہی ہو گی - ان یتیموں سے پوچھو جو کھلنے سے پہلے مرجھا گئے ہیں - جب ہم فرض کو مصلحت پر قربان کرتے ہیں تو یہ سب ہوتا ہے - کل کسی اور کے ساتھ ہوا , آج کوئی دوسرا شکار ہو گا - خاص کر قانون کے محافظوں کو فکر کرنی چاہیے کہ جو خار دار پودا اگ رہا ہے اگر ابتدا میں نہ کاٹا گیا تو اسکے کانٹے ہر کسی کو چبھیں گے - عدل کے محافظوں کو سوچنا ہو گا کہ اگر انکے قلم بک گئے تو پھر ظلم انکے گھروں کا رخ ضرور کرے گا - ظالم کا ہاتھ مروڑنے سے بات بنے گی - اگر ظالم آزاد رہا - تو آپ کو کرسی سے اترتے ہی دبوچ سکتا ہے - کسی بھی فرض شناس کے نام کے ساتھ شہید لکھ دینا , اسکے وارثوں کو ایک چیک دے دینا , بڑی سی تقریب سٹیج سجا کر گلے سے لگاتے ہوے فوٹو سیشن کر لینا - منافقت کے سوا کچھ نہیں -
بے گناہی کا خون خراج مانگے گا اگر تم نہیں دو گے تو تمھاری نسلیں دیں گی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
کبھی سوچا کہ اس ماں کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی جب وہ اپنے لخت جگر کے قاتل کی تصویر دیکھتی ہو گی - اس بیوہ سے پوچھو جو اپنے سہاگ کے کپڑوں سے خوشبو سونگھ سونگھ کر جی رہی ہو گی - ان یتیموں سے پوچھو جو کھلنے سے پہلے مرجھا گئے ہیں - جب ہم فرض کو مصلحت پر قربان کرتے ہیں تو یہ سب ہوتا ہے - کل کسی اور کے ساتھ ہوا , آج کوئی دوسرا شکار ہو گا - خاص کر قانون کے محافظوں کو فکر کرنی چاہیے کہ جو خار دار پودا اگ رہا ہے اگر ابتدا میں نہ کاٹا گیا تو اسکے کانٹے ہر کسی کو چبھیں گے - عدل کے محافظوں کو سوچنا ہو گا کہ اگر انکے قلم بک گئے تو پھر ظلم انکے گھروں کا رخ ضرور کرے گا - ظالم کا ہاتھ مروڑنے سے بات بنے گی - اگر ظالم آزاد رہا - تو آپ کو کرسی سے اترتے ہی دبوچ سکتا ہے - کسی بھی فرض شناس کے نام کے ساتھ شہید لکھ دینا , اسکے وارثوں کو ایک چیک دے دینا , بڑی سی تقریب سٹیج سجا کر گلے سے لگاتے ہوے فوٹو سیشن کر لینا - منافقت کے سوا کچھ نہیں -
بے گناہی کا خون خراج مانگے گا اگر تم نہیں دو گے تو تمھاری نسلیں دیں گی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment