Saturday, 17 June 2017

ہم کسی انقلاب کا انتظار کر رہے ہیں

ہم کسی انقلاب کا انتظار کر رہے ہیں , کہ کوئی مسیحا آنے والا ہے , جو اچانک اے گا اور ملکی معاملات کو کچھ اسطرح سے حل کر دے گا کہ رات کے اندھیرے میں زیورات سے لدی ہوئی لڑکی محفوظ گھر پہنچے گی - عدالتیں غریب اور امیر کے لئے ایک جیسا عدل کریں گی - پولیس ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ لے لے گی - گویا وہ سب جو ہم خواب میں دیکھ سکتے ہیں , ایسے انقلاب کا کھلی آنکھوں سے انتظار کر رہے ہیں -
ایسے انقلاب پاکستان میں مارشل لا کی شکل میں کی  بار دیکھنے کو ملے - کتنے جنرل اے , سالوں حکمرانی کے مزے لوٹے اور پھر کسی پیشہ ور سیاستدان کو قوم کی قسمت کا وارث بنا کر چلے گئے - نہ نظام بدلا نہ ذہن -
یہ تماشا جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا -
اسلامی انقلاب کی راہ فرقہ بندی نے مسدود کر دی ہے , اور مایوس قوم کو سیاستدانوں نے ذہنی طور پر مفلوج کر رکھا ہے - رہی سہی کسر میڈیا اور نام نہاد دانشوروں نے پوری کر دی ہے - وہ مغرب کی ترقی کے قصے سنا سنا کر , اور متضاد نظام حکومت کے قصیدے پڑھ پڑھ کر منزل کی سمجھ ہی نہیں آنے دیتے -
انقلاب مایوس قوموں کے ذہنوں کی تبدیلی سے , کسی دانشور کی سوچ سے , کسی بہادر کی جرات اور ہم خیال لوگوں کے اتحاد سے آیا کرتے ہیں - یہ سب چیزیں ہمارے پاس نہیں ہیں - ہم اپنے چھوٹے چھوٹے حلقوں میں خود سوچ بدلنے کا آغاز کرنے سے کتراتے ہیں اور خود بھی معمول کے ماحول کے دھارے پہ چلتے رہتے ہیں , نہ اپنی روش بدلتے ہیں نہ اپنے ارد گرد تبدیلی کی تحریک کرتے ہیں اور پھر بھی امید لئے بیٹھے ہیں کہ انقلاب آئیگا -
اگر  انقلاب لانا ہے تو پہلے اپنے اندر اندر انقلاب لانا ہو گا , پھر حلقہ احباب میں تحریک کرنا ہو گی - یہ تسلسل جتنی سرعت سے ہو گا اتنی ہی جلدی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی -
اے کاش میں اور آپ اس میں پہلا قدم رکھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment