Saturday, 17 June 2017

آج گھانا (مغربی افریقہ ) میں

آج گھانا  (مغربی افریقہ ) میں اخبار کی شہ سرخی تھی کہ سات پاکستانی گرفتار کیے گئے ہیں , جن پہ شبہ تھا کہ وہ القاعدہ کے لوگ ہیں - عمر رسیدہ لوگوں کی تصویر بھی دی گئی تھی - در اصل یہ لوگ تبلیغی جماعت کے دورے پر تھے -
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے نام سے جو تشدد اور دہشت گردی کی تحریک چلائی گئی - جسے جہاد کہا گیا , آج ہمارے لئے خفت اور شرمندگی کا سبب بن گیا ہے -
افسوسناک پہلو یہ بھی کہ جہاد کو صرف تلوار کے ساتھ جوڑ دیا گیا , اسکے وہ تمام پہلو بتاۓ ہی نہیں گئے جو جہاد کی اصل روح ہے - اور جو ایک مسلمان کی زندگی میں اصل تبدیلی لاتا ہے , اس پہلو کو کبھی لوگوں تک پھیلایا ہی نہیں گیا -
اب کچھ ایسا تاثر قائم ہو گیا ہے , ہر وہ شخص جس نے اسلام کے مطابق اپنا حلیہ بنا رکھا ہے , وہ یقینی طور پر قدامت پرست ہے - اور کسی بھی لمحے تلوار اٹھا لے گا -
محبت اور امن کا سبق دینے والوں کی یہ پہچان بن جانا بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے - اس  سازش کا پیچھے کفار کی بھر پور کوشش بھی ہے , ہمارے علماء کی بہت سارے معاملات میں ہٹ دھرمی بھی اور ایک عام مسلمان کی بے خبری بھی -
ہمارے مذھب سے جڑے لوگوں کا مزاج بن گیا ہے کہ دلیل کی جگہ زور اور طاقت استمعال کرنا درست سمت ہے - اور ہمارا میڈیا اس مزاج کو مزید اشتعال دلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتا -
وہ لوگ جو غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں , انکو ایسے واقعات پہ جو شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے , اسکا اندازہ ملک کے لوگوں لگانا ممکن ہی نہیں-
اب کیسے بتائیں کہ دین کی تبلیغ کرنے والا کیسا ہوتا ہے اور دہشت گرد کیسا-
کیسے بتائیں کہ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں جو خوں ریزی کی جا رہی ہے قطعی طور پہ وہ جہاد نہیں جس کا سبق ہمیں قران نے دیا ,اور الله کے حبیب نے سکھایا -
ہمیں بہت فکر کی ضرورت ہے تا کہ ہمارا تشخص با عزت طور پہ پہچانا جاے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment