پارک میں بہت سارے لوگ بچوں کے ساتھ جھولوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے - ایسے موقعے یاد داشت میں کبھی محفوظ نہیں ہوتے -
آج ایک فیملی پر ہر کسی کی نظر جمی ہوئی تھی - شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اس فیملی کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی کمنٹس نہ دے رہا ہو -
الله کی بنائی ہوئی ہر صورت ایک شاہکار ہے - مگر کچھ صورتوں پر نظر رک جاتی ہے - اور کچھ لمحوں کے لئے آنکھ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے - آج ایسا ہی سماں پارک میں بھی تھا - سادگی , حسن و جمال , پوری خوبیوں سے نوازا ہوا متحرک بت , ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ , شاید الفاظ میں ادائیگی کا حق پورا نہ ہو - اس خوبرو عورت کے ساتھ اسکا رفیق سفر اور دو بچے بھی تھے - بچے بھی نہایت خوبرو تھے مگر مرد بالکل تضاد تھا - سیاہ کالا رنگ نہایت عجیب سے خد و خال - پتہ نہیں اسے کیا سوجھی , اپنے اہل خانہ سے الگ جا کے بیٹھ گیا - میں سرکتے سرکتے اس کے پاس جا بیٹھا - اس نے بہت خوش مزاجی سے مجھے مخاطب کیا -
" بھائی صاحب - آپ کو کوئی جنتی عورت دیکھنی ہے "
" جی , میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا " میں شرمندگی محسوس کرنے لگا - شاید اسے میرا قریب بیٹھنا اچھا نہیں لگا -
" وہ دیکھ رہے ہو , میری بیوی نے ہر طرح سے پردہ کر رکھا ہے - مگر پھر بھی ہر نظر اسے گھور رہی ہے - ہمارے معاشرے کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے - وہ الله کی بندی کسی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی "
" آپ دیکھیں کہ میں کتنا بد صورت ہوں اور وہ الله کی تخلیق کا نمونہ - ہمارے سفر کے آج بیس سال پورے ہوۓ ہیں - اس بیس سال میں مجھے ایک لمحہ یاد نہیں کہ اسے میری شکل بری لگی ہو - آخر کبھی تو دل میں آتا ہو گا کہ کاش میرا ساتھی بھی خوبصورت ہو - مجھے نہیں یاد کہ کبھی مجھے پانی کی طلب ہوئی ہو اور مجھے مانگنا پڑا ہو - کبھی کبھی تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ اسے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے پاس لگی ہے - ہماری شادی بھی اچانک ہوئی - اسکے والد نابینا تھے سرک کراس کرتے انکا ایکسیڈنٹ ہو گیا , میں ایک فیکٹری میں ڈرائیور ہوں , میں انہیں ہسپتال لے کے گیا , انکی حالت بہت خراب تھی , انہوں نے مجھ سے مرتے وقت اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامنے کو کہا , ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا - میں نے جب دیکھا تو انکار کر دیا , مجھے میرا ضمیر روک رہا تھا - کہاں میں اور کہاں یہ - میری نظر میں انکے باپ کا یہ اندھا فیصلہ تھا - یہ دیوی میرے انکار کا سبب پوچھ رہی تھی - میں نے وجہ بتائی تو روتے ہوۓ بولی - خوبصورتی سیرت میں ہوتی ہے صورت میں نہیں "
" آج بیس سال گزر گئے "
" الله کا شکر ادا نہیں کر سکتا , پتہ نہیں میری کونسی نیکی تھی , جس کا یہ صلہ ملا ہے "
" مگر جب کبھی ہم لوگ اکٹھے کہیں نکلتے ہیں , لوگ طرح طرح کے آوازے کستے ہیں - اس وقت میں عجیب سی کیفیت سے دو چار ہو جاتا ہوں "
" نیک لوگوں کو حوریں ملیں گی الله نے مجھے اسی دنیا میں نواز دیا "
" ہر وقت ڈرا رہتا ہوں کہیں اسے میری ذات سے کوئی دکھ پہنچ گیا تو الله کو کیا چہرہ دکھاؤں گا "
وہ خوش بھی تھا اور نہ کردہ جرم پر پشیمان بھی -
(آزاد ہاشمی )
آج ایک فیملی پر ہر کسی کی نظر جمی ہوئی تھی - شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اس فیملی کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی کمنٹس نہ دے رہا ہو -
الله کی بنائی ہوئی ہر صورت ایک شاہکار ہے - مگر کچھ صورتوں پر نظر رک جاتی ہے - اور کچھ لمحوں کے لئے آنکھ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے - آج ایسا ہی سماں پارک میں بھی تھا - سادگی , حسن و جمال , پوری خوبیوں سے نوازا ہوا متحرک بت , ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ , شاید الفاظ میں ادائیگی کا حق پورا نہ ہو - اس خوبرو عورت کے ساتھ اسکا رفیق سفر اور دو بچے بھی تھے - بچے بھی نہایت خوبرو تھے مگر مرد بالکل تضاد تھا - سیاہ کالا رنگ نہایت عجیب سے خد و خال - پتہ نہیں اسے کیا سوجھی , اپنے اہل خانہ سے الگ جا کے بیٹھ گیا - میں سرکتے سرکتے اس کے پاس جا بیٹھا - اس نے بہت خوش مزاجی سے مجھے مخاطب کیا -
" بھائی صاحب - آپ کو کوئی جنتی عورت دیکھنی ہے "
" جی , میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا " میں شرمندگی محسوس کرنے لگا - شاید اسے میرا قریب بیٹھنا اچھا نہیں لگا -
" وہ دیکھ رہے ہو , میری بیوی نے ہر طرح سے پردہ کر رکھا ہے - مگر پھر بھی ہر نظر اسے گھور رہی ہے - ہمارے معاشرے کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے - وہ الله کی بندی کسی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی "
" آپ دیکھیں کہ میں کتنا بد صورت ہوں اور وہ الله کی تخلیق کا نمونہ - ہمارے سفر کے آج بیس سال پورے ہوۓ ہیں - اس بیس سال میں مجھے ایک لمحہ یاد نہیں کہ اسے میری شکل بری لگی ہو - آخر کبھی تو دل میں آتا ہو گا کہ کاش میرا ساتھی بھی خوبصورت ہو - مجھے نہیں یاد کہ کبھی مجھے پانی کی طلب ہوئی ہو اور مجھے مانگنا پڑا ہو - کبھی کبھی تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ اسے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے پاس لگی ہے - ہماری شادی بھی اچانک ہوئی - اسکے والد نابینا تھے سرک کراس کرتے انکا ایکسیڈنٹ ہو گیا , میں ایک فیکٹری میں ڈرائیور ہوں , میں انہیں ہسپتال لے کے گیا , انکی حالت بہت خراب تھی , انہوں نے مجھ سے مرتے وقت اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامنے کو کہا , ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا - میں نے جب دیکھا تو انکار کر دیا , مجھے میرا ضمیر روک رہا تھا - کہاں میں اور کہاں یہ - میری نظر میں انکے باپ کا یہ اندھا فیصلہ تھا - یہ دیوی میرے انکار کا سبب پوچھ رہی تھی - میں نے وجہ بتائی تو روتے ہوۓ بولی - خوبصورتی سیرت میں ہوتی ہے صورت میں نہیں "
" آج بیس سال گزر گئے "
" الله کا شکر ادا نہیں کر سکتا , پتہ نہیں میری کونسی نیکی تھی , جس کا یہ صلہ ملا ہے "
" مگر جب کبھی ہم لوگ اکٹھے کہیں نکلتے ہیں , لوگ طرح طرح کے آوازے کستے ہیں - اس وقت میں عجیب سی کیفیت سے دو چار ہو جاتا ہوں "
" نیک لوگوں کو حوریں ملیں گی الله نے مجھے اسی دنیا میں نواز دیا "
" ہر وقت ڈرا رہتا ہوں کہیں اسے میری ذات سے کوئی دکھ پہنچ گیا تو الله کو کیا چہرہ دکھاؤں گا "
وہ خوش بھی تھا اور نہ کردہ جرم پر پشیمان بھی -
(آزاد ہاشمی )
No comments:
Post a Comment