احساس محرومی اگر کسی فرد میں ہو جاے , کسی قبیلے میں ہو جاے یا کسی قوم
میں ہو جاے - تو ان سب کا اگلا قدم تشدد اور باغیانہ رویہ ہوتا ہے -
ہمارے سیاسی لیڈر اکثر سامراج کے پٹھو رہے ہیں اور اکثر کلیدی عہدوں پر بھی دشمنوں کے غلام بیٹھے رہتے ہیں , انکی حتمی کوشش ہوتی ہے کہ اس احساس کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاے - اصل میں یہی اصل غدار ہیں , جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا , غیور پٹھانوں میں اس بیج کو بونے کی مسلسل کوشش جاری ہے اور انھیں دہشت گردی کی ٹوپی پہنائی جا رہی ہے - بلوچ بھی اسی سازش کا شکار کیے جا رہے ہیں - سندھیوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا رہا ہے - مہاجر بھی کچھ حقوق کے لئے تگ و دو میں لگے رہے اور آخر کار تشدد کی راہ پہ نکل پڑے -
ان سب کا پختہ خیال اور نا قابل تبدیل سوچ یہ بن گئی کہ اس ساری نا انصافی کے ذمہ دار پنجابی ہیں -
نا اہل قیادتوں نے احساس محرومی ختم کرنے کی کوئی بھی پالیسی بناے بغیر ڈنڈے اور طاقت کا استعمال شروع کر دیا - اور ان محروم لوگوں کے گلے میں غداری کا تمغہ سجا دیا -
ان سب کے نمائدے بھی اسمبلیوں میں اپنی اپنی جھولی بھرنے میں لگے رہے - یہاں تک کہ حق مانگنے والوں کو گلیوں میں نکلنا پر , جھنڈا اٹھانے والے ہاتھ بندوق اٹھانے پر تیار ہو گئے -
اب دیکھنا یہ تھا کہ اصل غدار کون تھا اور اصل دشمن کون ہے -
یہ سوچنا دانشوروں کا کام ہوتا ہے - وہ قوم کی رہنمائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں -
بد قسمتی یہی ہے کہ دانشور بھی کسی نہ کسی کے زر خرید غلام ہیں -
اب عام شہری کو آپس میں مل بیٹھنا ہو گا - سندھی , مہاجر , پنجابی , بلوچ , پٹھان , سرائیکی یا ہزارہ وال بن کر نہیں - بھائی بن کر - پارٹیوں کے لیبل اتار کر - سوچنا ہو گا , اپنے محلوں , شہروں اور قصبوں میں -
یہ ہم سب کی سانجھی سر زمین ہے - حوصلہ شکنی کرنا ہو گی , تعصب پسند لیڈروں کی ' فرقہ پرست ملاؤں کی , نفرت پھیلانے والے دانشوروں کی -
یہی ایک حل ہے قومی یکجہتی کا -
الله کرے ہم سمجھ سکیں -
آمین
آزاد ہاشمی
ہمارے سیاسی لیڈر اکثر سامراج کے پٹھو رہے ہیں اور اکثر کلیدی عہدوں پر بھی دشمنوں کے غلام بیٹھے رہتے ہیں , انکی حتمی کوشش ہوتی ہے کہ اس احساس کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاے - اصل میں یہی اصل غدار ہیں , جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا , غیور پٹھانوں میں اس بیج کو بونے کی مسلسل کوشش جاری ہے اور انھیں دہشت گردی کی ٹوپی پہنائی جا رہی ہے - بلوچ بھی اسی سازش کا شکار کیے جا رہے ہیں - سندھیوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا رہا ہے - مہاجر بھی کچھ حقوق کے لئے تگ و دو میں لگے رہے اور آخر کار تشدد کی راہ پہ نکل پڑے -
ان سب کا پختہ خیال اور نا قابل تبدیل سوچ یہ بن گئی کہ اس ساری نا انصافی کے ذمہ دار پنجابی ہیں -
نا اہل قیادتوں نے احساس محرومی ختم کرنے کی کوئی بھی پالیسی بناے بغیر ڈنڈے اور طاقت کا استعمال شروع کر دیا - اور ان محروم لوگوں کے گلے میں غداری کا تمغہ سجا دیا -
ان سب کے نمائدے بھی اسمبلیوں میں اپنی اپنی جھولی بھرنے میں لگے رہے - یہاں تک کہ حق مانگنے والوں کو گلیوں میں نکلنا پر , جھنڈا اٹھانے والے ہاتھ بندوق اٹھانے پر تیار ہو گئے -
اب دیکھنا یہ تھا کہ اصل غدار کون تھا اور اصل دشمن کون ہے -
یہ سوچنا دانشوروں کا کام ہوتا ہے - وہ قوم کی رہنمائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں -
بد قسمتی یہی ہے کہ دانشور بھی کسی نہ کسی کے زر خرید غلام ہیں -
اب عام شہری کو آپس میں مل بیٹھنا ہو گا - سندھی , مہاجر , پنجابی , بلوچ , پٹھان , سرائیکی یا ہزارہ وال بن کر نہیں - بھائی بن کر - پارٹیوں کے لیبل اتار کر - سوچنا ہو گا , اپنے محلوں , شہروں اور قصبوں میں -
یہ ہم سب کی سانجھی سر زمین ہے - حوصلہ شکنی کرنا ہو گی , تعصب پسند لیڈروں کی ' فرقہ پرست ملاؤں کی , نفرت پھیلانے والے دانشوروں کی -
یہی ایک حل ہے قومی یکجہتی کا -
الله کرے ہم سمجھ سکیں -
آمین
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment