Friday, 16 June 2017

مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان صاحب نے ہم خیال اور اپنے مقلدین کے اجتماع میں ایک خوشخبری کہیں یا تنبیہ , فرمایا کہ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ مذہبی مدرسوں کو بند کر سکے - بہت  جرات کی بات ہے اور بہت ایمانی جذبہ کا اظہار ہے - ہمارا یقین ہے کہ الله اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے اور کرتا رہے گا - ایک  بات حضرت کو باور کرانے  کی جسارت کر رہا ہوں , یہ جانتے ہوے کہ حضرت کے مقلدین کو یہ جسارت گستاخی لگے گی - مگر سچ یہ ہے کہ اگر مذہبی قائدین کی یہی روش رہی جو آج کل ہے , اور بالخصوص جس سیاسی سوجھ بوجھ کا حضرت خود مظاہرہ کر رہے ہیں - کسی بھی طاقت کو مذہبی مدرسوں کے بند کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی - ان مدرسوں کی افادیت تو ان رہنماؤں کے کردار کی وجہ سے پہلے ہی انتہائی حد تک گر گئی ہے - رہا سہا احترام حضرت کی سیاسی بصیرت کہیں , ذاتی مفادات کہیں یا کوئی بھی نام دیں , ہر برائی کے ساتھ کھڑے ہو جانا  , ہر سیکولر اور لبرل حکمران کی کاسہ لیسی کر کے کوئی نہ کوئی وزارت لے لینا  , کونسی اسلام کی خدمت ہے - دیانتداری سے دیکھا جاے تو مدرسوں کے تقدس کو جتنا نقصان سیاسی ملاؤں نے پہنچایا ہے , اسکا عشر عشیر بھی لبرل اور سیکولر نہیں پہنچا سکے - وہ احترام جو مذہبی قائدین کیلیے ہوا کرتا تھا , اب صرف مقلدین تک محدود ہے - مدرسوں کو چندہ اور بیرونی امداد کا ذریعہ بنا لیا گیا - مذھب کے نام پر دہشتگردی کے گروپ بن گئے - کیا یہ سب مدرسوں کے وقار کے خاتمے کی طرف تیزی سے بڑھتا ہوا سیلاب نہیں - ایسی سنگینی میں بھی آپ سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ میں لگے ہیں - جمہوریت کی دیوی ایسی صورت میں بھی آپ کے دلوں میں سمائی بیٹھی ہے -
معذرت کے ساتھ اگر یہی حال رہا تو مدرسوں کو کوئی دوسرا نہیں آپ خود ختم کرو گے - علماء کی جو قدر و منزلت چند سال پہلے تھی وہ آج نہیں اور آنے والا کل اس سے زیادہ برا دکھائی دے رہا ہے - اس ساری تضحیک کے ذمہ دار بذات خود سیاسی میدان کے سارے پہلوان ملا ہونگے - خدا را اس وقار کو قائم رہنے دیں - یہ ہو گی دین کی اور دینی درس گاہوں کی خدمت -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment