ہمارے جتنے بھی سیاسی لیڈر اور اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ہیں - ان میں اکثریت
کروڑ پتی اور ارب پتی لوگوں کی ہے - شاید چند لوگ ایسے ہیں جن کو متوسط
طبقے سے کہا جا سکتا ہے , وہ بھی پچیس تیس لاکھ الیکشن میں خرچ کرتے ہیں -
اور وہ لوگ جو الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور ہار جاتے ہیں ا نکی بھی یہی
کیفیت ہے -
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پیٹ میں قوم کی خدمت کا درد ہوتا رہتا ہے - اور وہ کار ثواب ہی نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر سیاست خود بھی کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی صدقه جاریہ کے طور پر اسی سیاست میں چھوڑ جاتے ہیں -
ان میں اکثر ایسے عابد بھی ہیں جو الله کے کلام کی ایک آیت نہیں جانتے , شراب کو شربت سمجھتے ہیں , کرپشن کو کمیشن کہتے ہیں اور زنا میں کوئی گناہ نہیں سمجھتے -
عوام کی خدمت عوام کی جیب سے , اپنا حصہ اپنی جیب میں ڈالنے کے بعد -
ایک لیڈر جس کی دولت کی چھوٹی سی جھلک چھہ سو ارب ہو , اگر وہ اسکی اسلامی شرح سے زکوات نکالے تو پندرہ ارب روپے کی خطیر رقم نکلتی , جس سے پورے ملک کے غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جا سکتی ہے , 15 بڑے فری ہسپتال بناے جا سکتے ہیں - یہ سہولیات صرف ایک سیاستدان کے ایک پروجیکٹ کا حساب ہے -
اب اگر اسلامی نظام ہو تو صرف انہی سیاستدانوں کی جائداد سے حاصل ہونے والی زکوات کی رقم غربت کے خاتمہ کیلیے کافی ہے - تین چار سال میں ملک میں خوشحالی ہو جاتی ہے -
یہ وہ فکر ہے جو مغرب کو مجبور کیے رکھتی ہے کہ ہمیں کہیں اسلام کا نظام سمجھ نہ آ جاے -وہ ہمارے لیڈروں کو طریقے بتاتے رہتے ہیں , کہ ملک کو کیسے لوٹنا ہے - لوٹی ہوئی رقم کی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہی لیتے ہیں -
یہ اب قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے -
شکریه
آزاد ہاشمی
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پیٹ میں قوم کی خدمت کا درد ہوتا رہتا ہے - اور وہ کار ثواب ہی نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر سیاست خود بھی کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی صدقه جاریہ کے طور پر اسی سیاست میں چھوڑ جاتے ہیں -
ان میں اکثر ایسے عابد بھی ہیں جو الله کے کلام کی ایک آیت نہیں جانتے , شراب کو شربت سمجھتے ہیں , کرپشن کو کمیشن کہتے ہیں اور زنا میں کوئی گناہ نہیں سمجھتے -
عوام کی خدمت عوام کی جیب سے , اپنا حصہ اپنی جیب میں ڈالنے کے بعد -
ایک لیڈر جس کی دولت کی چھوٹی سی جھلک چھہ سو ارب ہو , اگر وہ اسکی اسلامی شرح سے زکوات نکالے تو پندرہ ارب روپے کی خطیر رقم نکلتی , جس سے پورے ملک کے غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جا سکتی ہے , 15 بڑے فری ہسپتال بناے جا سکتے ہیں - یہ سہولیات صرف ایک سیاستدان کے ایک پروجیکٹ کا حساب ہے -
اب اگر اسلامی نظام ہو تو صرف انہی سیاستدانوں کی جائداد سے حاصل ہونے والی زکوات کی رقم غربت کے خاتمہ کیلیے کافی ہے - تین چار سال میں ملک میں خوشحالی ہو جاتی ہے -
یہ وہ فکر ہے جو مغرب کو مجبور کیے رکھتی ہے کہ ہمیں کہیں اسلام کا نظام سمجھ نہ آ جاے -وہ ہمارے لیڈروں کو طریقے بتاتے رہتے ہیں , کہ ملک کو کیسے لوٹنا ہے - لوٹی ہوئی رقم کی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہی لیتے ہیں -
یہ اب قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے -
شکریه
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment