Friday, 16 June 2017

معراج النبی

معراج النبی کو سمجھنا انسانی شعور کی رسائی میں ہی نہیں , یہی وجہ ہے کہ جب ہم اسکو اپنے شعور اور عقل کی بنا پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں , تو کچھ ذہنوں میں ابہام جنم لیتا ہے اور کچھ ذھن شان رسالت کی ایک ایک مثال سے ایمان کی تازگی کا ادراک کرتے ہیں - سوال یہ نہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے , سوال یہ ہے کہ کیا الله کے اختیار میں یہ سب ہے کہ نہیں - یقینی طور پر کوئی بھی ہوش و حواس میں شخص الله کی قدرت سے انکار کر ہی نہیں سکتا - معراج کا جو بھی تصور ہے , اسے بحث میں لانا کہ کیا یہ سب ہوا کہ نہیں , نبی پاک بشری جسم اقدس سے تشریف لے گئے  یا روحانی طور پر - بعید از بحث ہے کیونکہ آپ کا سفر آپ کی منشا سے نہیں تھا , یہ رب کائنات کی رضا پہ تھا - اس میں کیا سوال کہ بلانے والے نے کس لباس میں بلایا - کیا آپ کی شان سمجھنے کیلیے اتنا کافی نہیں کہ الله کی پاک ذات نے مدعو فرمایا - دعوت دی اور دعوت بھی ایسی کہ سواری بھی بھیجی گئی - یہ تو آج کی دنیا میں بھی روایت ہے میزبان جس مہمان کو دعوت پہ بلاے اور سواری بھی بھیجے تو یہ مہمان کی محبت , عزت اور توقیر کا انتہائی اظہار ہے - الله کا اس عزت کے ساتھ بلانا , یہ تو معراج کو بھی معراج ملی - کائنات نے کے خالق نے اپنے کلیم سے باتیں کیں , اور جب کوہ طور پہ کلیم خالق جاتے تو حکم ہوتا کہ جوتے اتار کے آؤ , یہ مقام آداب ہے - یہاں میزبان نے جس احترام اور عزت سے بلایا , یہ ہی ایسی معراج ہے جہاں انسانی عقل رک جاتی ہے - پھر اس سے اگلا مرحلہ کیسے سمجھ ایگا , کون جانے کیوں بلایا اور کیسے بلایا - الله اور الله کے مہمان کے راز و نیاز سے پردہ کیسے اٹھے - یہ تو انسانی تخیل سے ماورا مقام ہے - پھر بشری وجود یا روحانی وجود کی کیا بحث -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment