معراج النبی کو سمجھنا انسانی شعور کی رسائی میں ہی نہیں , یہی وجہ ہے کہ
جب ہم اسکو اپنے شعور اور عقل کی بنا پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں , تو کچھ
ذہنوں میں ابہام جنم لیتا ہے اور کچھ ذھن شان رسالت کی ایک ایک مثال سے
ایمان کی تازگی کا ادراک کرتے ہیں - سوال یہ نہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے ,
سوال یہ ہے کہ کیا الله کے اختیار میں یہ سب ہے کہ نہیں - یقینی طور پر
کوئی بھی ہوش و حواس میں شخص الله کی قدرت سے انکار کر ہی نہیں سکتا -
معراج کا جو بھی تصور ہے , اسے بحث میں لانا کہ کیا یہ سب ہوا کہ نہیں ,
نبی پاک بشری جسم اقدس سے تشریف لے گئے یا روحانی طور پر - بعید از بحث ہے
کیونکہ آپ کا سفر آپ کی منشا سے نہیں تھا , یہ رب کائنات کی رضا پہ تھا -
اس میں کیا سوال کہ بلانے والے نے کس لباس میں بلایا - کیا آپ کی شان
سمجھنے کیلیے اتنا کافی نہیں کہ الله کی پاک ذات نے مدعو فرمایا - دعوت دی
اور دعوت بھی ایسی کہ سواری بھی بھیجی گئی - یہ تو آج کی دنیا میں بھی
روایت ہے میزبان جس مہمان کو دعوت پہ بلاے اور سواری بھی بھیجے تو یہ مہمان
کی محبت , عزت اور توقیر کا انتہائی اظہار ہے - الله کا اس عزت کے ساتھ
بلانا , یہ تو معراج کو بھی معراج ملی - کائنات نے کے خالق نے اپنے کلیم سے
باتیں کیں , اور جب کوہ طور پہ کلیم خالق جاتے تو حکم ہوتا کہ جوتے اتار
کے آؤ , یہ مقام آداب ہے - یہاں میزبان نے جس احترام اور عزت سے بلایا , یہ
ہی ایسی معراج ہے جہاں انسانی عقل رک جاتی ہے - پھر اس سے اگلا مرحلہ کیسے
سمجھ ایگا , کون جانے کیوں بلایا اور کیسے بلایا - الله اور الله کے مہمان
کے راز و نیاز سے پردہ کیسے اٹھے - یہ تو انسانی تخیل سے ماورا مقام ہے -
پھر بشری وجود یا روحانی وجود کی کیا بحث -
شکریہ
آزاد ہاشمی
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment