Thursday, 15 June 2017

دو ٹکے کا آدمی

" دو ٹکے کا آدمی - کیسے بات کرتا ہے - اوقات نہیں دیکھتا - پکوڑے بیچتا ہے اور فلسفہ سکھاتا ہے - تیرے جیسے تو میرے مالی ہیں "
نوجوان تکبر اور رعونت کی تصویر بنا ہوا تھا - اس جھگڑے کی بنیاد کیا تھی , کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا -
بابا خموشی سے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا -
" کیا ہوا بابا جی "
" کچھ نہیں بیٹا - آج مجھے میری اوقات بتانے والا کوئی ملا - اس نے کچھ بھی غلط نہیں کہا - ایک پکوڑے بیچنے والے میں عقل ہوتی تو وہ پکوڑے کیوں بیچتا - ہم غریبوں کی اوقات ہوتی ہی کیا ہے - ہم تو معاشرے کا حصہ ہی نہیں ہوتے "
آج پہلی بار اسکی آواز لڑکھڑا رہی تھی - میرے سوال کا جواب ابھی اسکے دل سے باہر نہیں آیا تھا - یہ جو وہ کہہ رہا تھا , معاشرے کی بے حسی پر شکایت تھی - میں نے پھر سوال دہرایا -
" بیٹا یہ نوجوان میرے گہرے دوست کا بیٹا ہے - یہ اس وقت کی بات ہے , جب ہم دونوں کالج سے فارغ ہوۓ - وقت اسکے ساتھ تھا اور میرے خلاف - اسے بنک میں نوکری مل گئی اور میں قسمت کے لکھے دھکے کھاتا رہا - اس نے بنک میں غبن کیا , چند ماہ کی سزا کاٹی اور سیاست شروع کر دی - آج وہ قانون ساز اسمبلی کا ممبر ہے - اربوں کا مالک - دن کو رات کہتا ہے سب رات کہنے لگتے ہیں - یہ اوقات نام کی چیز اسکی لونڈی ہے "
" اس نوجوان نے ایک بھکاری کو بھیک بھی نہیں دی اور گالی بھی دی ہے - میں نے صرف یہ کہا کہ بیٹا بھیک نہ دے سکو نہ دو , مگر گالی دینے سے الله ناراض ہوتا ہے - بس اتنی سی بات تھی - یہ ماں باپ کی ایک ہی اولاد ہے , اسلیۓ بگڑا ہوا ہے "
ہم نے ابھی بات مکمل نہیں کی تھی کہ ایمبولنس کی آواز آنے لگی -
" الله رحم " بابا چیخا -
" یہ ہے انسان کی اوقات "
تھوڑی دیر بعد خبر تھی کہ وہی نوجوان حادثے کا شکار ہو گیا -
(آزاد ہاشمی )

No comments:

Post a Comment