Friday, 25 August 2017

حیران کن

حیران کردینے والی 15 معلومات 1۔ گینڈے کا سینگ بالوں کا بنا ہوتا ہے۔ 2 ۔خشک کاغذ میں % 10 پانی ہوتا ہے۔ 3 ۔ حضرت خالد بن ولید نے 125 کے قریب جنگوں میں حصہ لیا اور کسی میں بھی شکست نہیں کھائی۔ 4 ۔آئن سٹائن وہ واحد سائنس دان تھا جسے نوبل انعام (1921) میں بغیر کسی تجربے کے دیا گیا۔ 5۔ جگنو ایک گوشت خور جانور ہے۔ 6۔ انسو گیس کسی گیس کا نام نہیں ہے۔ 7۔ مئی 1987ءمیں چین میں ایک طوفانی بگولے نے اسکول کے بارہ بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ انہیں بیس کلو میٹر دور تک گھماتا ہوا لے گیا۔ بالآخر وہ سب بگولے کا زور ٹوٹنے کے بعد بچ گئے۔ 8 ۔ انیس سو انتالیس میں جنوبی افریقا اور انگلستان کے درمیان طویل ترین کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلا گیا، یہ جنوبی افریقا میں کھیلا جارہا تھا اور گیارہویں دن کھیل بغیر نتیجہ ختم کردیا گیا کیوں کہ انگریز ٹیم کو واپس جانے کے لیے بحری جہاز میں سوار ہونا تھا۔ 9 ۔ کوئی صدی جمعہ، ہفتہ اور بدھ سے شروع نہیں ہوتی۔ 10 ۔ دنیا کا سب سے بڑا چوہا ولابی ہے یہ میکسیکو کے نیم گھنے بارانی مقامات میں رہتا ہے۔ یہ چوہا بڑی ڈرپوک طبیعت کا مالک ہے۔دن بھر اپنے بل میں دبک کر سویا رہتا ہے اور صرف رات کو غذا کی تلاش میں نکلتا ہے یہ چوہا مچھلیاں بھی کھاتا ہے۔ 11۔ دنیا کی سب سے مختصر جنگ برطانیہ اور زنجبار (افریقہ) کے درمیان لڑی گئی تھی۔ 38 منٹ کی اس جنگ میں برطانیہ جیت گیا تھا۔ 12 ۔ قدیم رومن تہذیب میں مہینے کے پہلے دن کو کیلنڈس کہا جاتا تھا۔ یہیں سے لفظ کیلنڈر کا آغاز ہوا۔ 13 ۔ قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں پانچ شخصیات مدفون ہیں، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، محترمہ فاطمہ جناح، جناب نورالامین اور خود قائد اعظم محمد علی جناح۔ 14۔ ایک میل میں 1.6 کلومیٹر ہوتے ہیں۔ 15 ۔ دنیا کی سب سے مشکل زبان چینی زبان ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔
کاپی پیسٹ۔

کتے کو کتا ہی رہنے دو

" کتے کو کتا ہی رہنے دو "
ایک پوسٹ لگانے کی جسارت کی تھی " عمران خان کا کتا " .یہ کتا عمران خان اور بابر اعوان کی باہمی گفتگو میں ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ معیوب لگا تو  چند سطریں تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھ  دیں ۔ تعجب ہوا جب عمران فوبیا کے اندھوں کو ناگوار لگا ۔
  بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ سامراجی حکمران جب کسی نا پسندیدہ حکمران سے ملتے ہیں تو کتے کو عموماً ساتھ بٹھا لیتے ہیں ۔ یہ حرکت کبھی کسی پسندیدہ حکمرانوں کے لئے نہیں کرتے ۔ اس سے وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔ شاید سمجھ آگیا ہو گا ۔
  بابر اعوان کی جگہ اگر میں ہوتا تو کبھی در گزر نہ کرتا ۔
عجیب لگتا ہے ، جب یہی شخص سٹیج پر " ایاک نعبد و وایاک نستعین  " پڑھ کر آغاز کرتا ہے اور گھر میں پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ کتا ساتھ بٹھا رکھا ہے ۔ کیا یہ دو رخی نہیں ۔
مجھے عمران خان سے کوئی عناد نہیں ۔ کہنا صرف یہ تھا کہ قوم کی امیدوں سے اسطرح مت کھیلو ۔ یہاں بے شمار طاقتور مٹی چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اپنے لوگ ، جو سروں پہ بٹھاتے ہیں ، جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی لوگ گلے میں رسی ڈال دیتے ہیں ۔ قذافی کو دیکھ لو ، صدام کو دیکھ لو ، اور بھٹو کے گلے میں بھی سلیوٹ کرنے والے نے پھندا کس دیا تھا ۔ نواز شریف کی رسوائی پہ انہی لوگوں نے دستخط کئے ہیں ، جو ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے ۔ انکساری سیکھو اور کتے کو کتا ہی رہنے دو ۔ دانشور کتا مت بناو ۔ یہ جو آج عمران فوبیا کے بیمار ہیں ، کل یہی رسوائی کے ثبوت دیں گے ۔  ماضی کی رنگینیاں قابل سر زنش نہیں ، مگر سیاست اور خدمت کے میدان میں یہ بہت بڑا عیب ہے ۔ ایک ایک قدم پورا شعور مانگتا ہے ۔  خدا را اور کچھ نہیں تو اباو اجداد کی روایات ہی یاد رکھو ۔ 
ازاد ھاشمی

عمران خان کا کتا

" عمران خان کا کتا "
آج سوشل میڈیا پہ ایک تصویر دیکھی ، جس میں ہمارے وطن کے نئے قائد کا کتا میز پر بیٹھا ہے اور موصوف کسی ساتھی سے مصروف گفتگو ہیں ۔ قابل اعتراض کتے سے دوستی نہیں ، قابل فکر کتے کا میز پر بیٹھنا ہے ۔ ایک مسلمان مملکت کی باگ ڈور سنبھالنے کی امید لیکر جدوجہد کرنے والے لیڈر کی آزادی فکر و شعور ہے ۔
یہ مستند رائے ہے کہ کتا ایک نجس جانور ہے اور نہایت حریص ،  نہایت بے حیا جانوروں میں شمار ہوتا ہے ۔ وفا کیلئے مشہور بھی ہے اور کچھ نسلیں مالک پر بھی بھونکنے لگتی ہیں ۔ 
یہ تو محترم کی خوش قسمتی ہے کہ ایک بے شعور قوم کی قیادت کر رہے ہیں ، وگرنہ ایسے روئیے کے لوگ قیادت کے اہل نہیں ہوا کرتے ۔ اور اس مزاج کے لوگ نہ تو منکسر مزاج ہوتے ہیں اور نہ مذہبی اقدار کی اطاعت گزاری کرتے ہیں ۔
محترم نے کچھ سماجی کام کئے جو قابل تحسین ہیں ، کرپشن کو جڑ سے نکالنے کیلئے کرپٹ مقتدر لوگوں کی راہیں کاٹ ڈالیں ، قابل تحسین ہے ۔
مگر یہ آزاد خیالی ، یہ لا ابالی ، یہ مغربیت اور اپنی روایات سے متضاد سوچ شایاں نہیں ۔ کوئی بھی نامور اور سنجیدہ لیڈر کتے بلیوں کو انکی حدود سے باہر نہیں لاتا ۔ کتے اور انسان کا الگ الگ مقام ہے ۔ یہ جو صاحب سامنے بیٹھے ہیں انکی یہ عزت افزائی آپ کی رعونت کی غماض ہے ۔ سیاست کیجئے ، مگر اقدار کو قتل مت کریں ۔
جانتا ہوں ، موصوف کے حواریوں  کو آگ لگے گی ، اور مجھے بھی اصطلاحی پٹواریوں کے قبیلے سے جوڑا جائے گا ۔ مگر یہ درست انداز فکر نہیں ۔ غلط کو غلط کہنا ہو گا ، ورنہ ایک بادشاہت ختم ہو کر دوسری بادشاہت شروع ہو جائے گی ۔ قوم جہاں تھی وہاں ہی رہے گی ۔
ازاد ھاشمی

جمہوریت سے عقیدت

" جمہوریت سے عقیدت "
یہودی ، عیسائی اور دیگر مذاہب اس الجھن میں تھے کہ کس طرح مسلمانوں کو ایسی راہ پر لگائیں کہ وہ اپنا راستہ بھول جائیں ۔ کس طرز حکومت پہ قائل کریں کہ گمراہ ،  منکر ، بد کردار  حکمران ان کی قیادت کریں ۔ انکے اندر کونسی تخریب کا بیج بوئیں کہ یہ ٹکڑے ٹکرے ہو جائیں ۔ 
اپنے ان تجربات کا آغاز انہوں نے تفرقہ بازی سے کیا ، اس پر اکثریت متفق ہے کہ انہوں نے مذہب کا پیرہن پہنا کر بہت سارے لوگوں کو مسلمانوں میں داخل کیا ، تفرقات کا بیج بویا ، چھوٹے چھوٹے مسائل کو ہوا دی اور مسلمان گروہ در گروہ ہو گئے ۔ ہمارے علمی محققین کو اس ریسرچ پہ لگا دیا کہ روز مرہ زندگی میں سونا کیسے ہے ، ہاتھ کیسے دہونے ہیں ، غسل جنابت کیسے کرنا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
بھلا دیا کہ قران کو ثواب کیلئے ہی نہیں پڑھنا بلکہ طرز زندگی سیکھنے کے لئے پڑھنا ہے ۔ ان تمام اسلام دشمن مذاہب کا تیر نہایت نشانے پر لگا ۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ قران کو سمجھنے کی کوشش کی تو بہک جائیں گے ۔ اب ہمیں یہ سکھایا جانے لگا کہ غیر مسلم مفکرین نے کیا کیا کہا ۔ کبھی ارسطو ، کبھی سقراط ، کبھی افلاطون حتی کہ ماضی قریب کئی غیر مسلم حکمرانوں کے اقوال از بر کرا دئیے ۔ آہستہ آہستہ یہ زہر ہماری رگوں میں اتر گیا ۔ پھر جس جس عمل سے اللہ نے روکا اسی اسی عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنا ڈالا ۔ جیسے سود ۔
اب اگلا مرحلہ جمہوریت سے شروع ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ پورے مسلمانوں کو اسکا تابع کرنے کی کامیاب تحریک جاری ہے ۔ جو ذرہ برابر رکاوٹ بنتا ہے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے ، جیسے لیبیا ، عراق اور اب اگلا بیج سعودیہ میں لگانے کی تیاری ہے ۔
آپ نے کبھی غور کیا کہ جمہوریت ہماری عقیدت بن گئی ہے ، اسکے لئے مرنے والے کو شہید کہا جاتا ہے ۔ اسلام کا نظام مبہم اور ناقابل عمل سمجھا جا رہا ہے ۔ حتی کہ مذہب کے لبادے میں جمہوریت کے ایجنٹ نہایت منظم طریقے  سے جمہوریت کو فعال کر رہے ہیں ۔ خوف آ رہا ہے کہ بہت جلد جمہوریت کو ایک مذہب سمجھا جانے لگے  گا ۔ ہمارے بچوں کو جمہوریت کے ثمرات پر پڑھانا شروع کر دیا جائے گا  ۔
ارباب علم و دانش کو پوری توجہ سے اس عقیدت کو روکنے کی سعی کرنا ہو گی ۔
ازاد ھاشمی

کبھی سوچ بھی لیا کروب

" کبھی سوچ بھی لیا کرو  "
انسان کی عظمت اسکے اخلاق اور اقدار سے پہچانی جاتی ہے ۔  یہ مصرعہ ہمارے ارد گرد اکثر دھرایا جاتا کہ انسان میں حیا اور اخلاق اسکی دولت ہوتی ہے ۔ یہ پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوتا ہے ۔ کنجر کی تعریف کی ضرورت نہیں ، بس یوں سمجھ لینا کافی ہے کہ کنجر کسی قبیلے یا خاندان کا نام نہیں ، یہ ایک قماش ہے ، جسے جو بھی اختیار کر لے ۔ اس قماش کے لوگوں سے شرفاء اکثر کتراتے ہیں ۔ کیونکہ انکو نہ اپنی عزت سے کوئی واسطہ ہوتا ہے نہ دوسرے کی عزت کا خیال ۔ یہ ایسی گندگی ہوتی ہے جو جس پہ بھی پڑے گی بدبو دار کرے گی ۔
آج اس گندگی کا نام سیاست ہے ۔ جس میں کسی کی عزت ، کسی کی بہن یا بیٹی کی چادر محفوظ نہیں رہ گئی  ۔ وہ سیاستدان  جن کو ہم اپنا رہنماء مان لیتے ہیں ، وہ گفتگو میں ، کردار میں ، تہذیب میں ، غیرت میں روز مرہ کے معاملات میں ، لاکھوں کے جلسوں میں مخالفین کی بیٹیوں کی ایسی کردار کشی کرتے ہیں ، کہ کنجر بھی اتنے بیہودہ نہیں ھوا کرتے تھے ۔
گالم گلوچ کونسا طریقہ ہے ، جس پر شاباشی دی جائے  ۔ حیرت ہے سیاسی کارکنوں کے ، انہوں نے اپنا وقار کیوں داوٴ پہ لگا دیا ۔ کب کسی جیتنے والے نے نعرے لگانے والوں کے دکھ بانٹے ہیں ۔  کب ان سیاسی پنڈتوں نے کسی غریب کی بیٹی کے ہاتھ پیلے کئے ہیں ۔ کب کسی سیاسی پگڑی والے نے کسی  کی عزت پر اپنی چادر ڈالی ہے ۔ کب کسی لیڈر نے کسی غریب ووٹر کا دروازہ کھٹکھٹا کے پوچھا ہے کہ اہل خانہ بھوکے تو نہیں سو گئے ۔ ایک آٹے کی بوری اور ایک گھی کے ڈبے کی دان کر کے فوٹو سیشن منانے والوں  نے ، کبھی نہیں سوچا کہ یہ آٹا ، یہ گھی تو چند دنوں کا راشن ہے ، بعد میں کیا ہو گا ۔
یہ مکار لوگ ، تمہاری حماقت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ کبھی سوچ بھی لیا کرو ، سر پہ سیاست کا کفن باندھنے سے پہلے ۔ کبھی سوچ بھی لیا کرو سیاستدانوں کی پرستش سے پہلے ، کہ یہ کس کردار ، کس قماش کے لوگ ہیں ۔
ازاد ھاشمی

علامہ طاہر القادری کے نام

"علامہ   طاہرالقادری کے نام "
السلام علیکم ! آپ کی درازی عمر کیلئے دعا گو ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم اور شعور کی نعمت سے نواز رکھا ہے ، اور آپ اللہ کے دین کیلئے بہت سارے کام بھی سر انجام دے رہے ہیں ۔ اللہ قبول فرمائے  ۔ گو آپ سے کچھ کہنا ، سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔ مگر کبھی کبھی علمیت کا زعم ، بہت سارے حقائق کو نظر انداز کرنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ علم کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اگر عجز و انکساری آجائے  ، تو نہایت بلند مقام ہے ۔ اگر تکبر کا عنصر غالب آجائے تو سوچ منفی رخ اختیار کر لیتی ہے ۔ پھر کسی کا مثبت مشورہ بھی اول فول لگتا ہے ۔ آپ کی تمام خوبیوں پر ، خود شناسی ، خود پرستی کا غالب آجانا کوئی اچھا شگون نہیں ۔
آپ کو ملکی معاملات نے دل برداشتہ کیا اور اسلام پھیلانے پوری دنیا کی سیاحی پہ نکل پڑے ، آپ کا روسانہ ٹھاٹھ باٹھ ، مال و زر کی فراوانی اور حاکمانہ طرز گفتگو ، خود کو عقل کل سمجھنے کی سوچ نے ، آپ کی ساری قابلیت کو گہنا دیا ہے ۔ کیا ممکن ہے کہ آپ ایسا عملی وقار اختیار کریں جیسا صحابہ کا تھا ۔ تو پھر وہ سب لوگ آپ کو سمجھنے لگیں گے ، جو اب آپ کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں ۔
آپ ایک حیولہ کی طرح ، ملکی سیاست میں آتے ہیں اور پھر کافروں کی اصلاح پر فکر مند ہو کر بھاگ لیتے ہیں ۔ آپ کا سارا ادراک نہ قوم کے کام آرہا ہے ، نہ اسلامی نظام کی راہ ہموار کر رہا ہے ۔ میں ذاتی طور پر آپ کو اسوقت سے جانتا ہوں جب آپ مولانا منشا صاحب کے ساتھ مریدکے تقاریر کے لئے آیا کرتے تھے ۔ اس سارے عرصے میں آپ شیخ الاسلام بن گئے الحمدوللہ ۔ اب کوشش کریں کہ اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کیلئے میدان میں رہ کے جہاد کریں  ۔ طاغوت کی طاقت کو توڑنے کا ثبوت دینا ہو گا ۔ وگرنہ آپ نے کچھ نہیں کیا ، اور آپ کی عملی زندگی  کا قابل تنقید رہنا عجب نہیں ہو گا ۔
سمع خراشی کی معذرت ۔
والسلام
ازاد ھاشمی

اللہ کی بے آواز لاٹھی

" اللہ کی بے آواز لاٹھی "
کیا یہ ہمارے  کرپٹ حکمران صرف آزاد خیال اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں ۔  نہیں  ایسا ہر گز نہیں ۔  ہم سب کسی نہ کسی طرح اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ 
ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرز حکومت کو ہم نے پروان چڑھایا ہے ، اس کے ثمرات انتہائی گھناونے نکل رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کی خواہش کرنے والا ہر شخص حریص اور لالچی ہوتا ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل ہے اور کرسی کی آرزو الگ عمل ۔ 
کس کو خبر نہیں کہ ہر سیاسی مداری کا کھیل کسی نہ کسی کرپشن پر ختم ہوتا ہے ۔ ہر دور میں مداری آتے رہے ، قوم کو نچاتے رہے اور قوم ناچتی رہی ۔ یہ ایک ہی عوام ہے جو کبھی بھٹو زندہ باد کہتی اور پھر بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانئتی ہے ۔ یہ سارے سیاسی بہروپئے ،کبھی کسی کی گود میں اور کبھی کسی کی گود میں ۔ کون نہیں جانتا کہ اسکے علاقے کا ایم ۔ پی ۔اے  ، ایم این اے ، ناظم یا چیئرمین مین کس قماش کا ہے ۔ کون واقف نہیں کہ ہمارے کتنے لیڈر  ، شرابی ہیں ، کتنے زانی ہیں ، کتنے رسہ گیر ہیں ، کتنے نا اہل ہیں ، کتنے اخلاق باختہ ہیں ۔ سب جانتے ہیں ،کہ یہ  تمام ہمارے خون سے اپنے چراغ جلاتے ہیں  ، سب جانتے ہیں کہ انکی لمبی لمبی گاڑیوں میں ہمارا خون جلتا ہے ۔ مگر پھر انہی کو حاکم مان لیتے ہیں ۔ یہ سب مکافات عمل ہے ۔
ہم نے اللہ کا نظام چھوڑا ، اور یہود کا نظام آخری منزل مان لیا ۔ آج کتنے ہیں ، جو اس بات پر قایل ہیں کہ ہمارے پاس جمہوریت کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ وہ بھی شامل ہیں جو صحابہ کے نظام حکومت کو دنیا کا مثالی نظام کہتے ہیں ، مگر تقلید جمہوریت کی کرتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو شہادت حسین کو دین بچانے کا عمل مانتے ہیں ، مگر ووٹ یزیدی خصلت والوں کو دیتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو اپنے نام کے ساتھ اسلامی جوڑے بیٹھے اور آبیاری یہودی کے نظام کی کر رہے ہیں ۔
یہ سب اللہ کی وہ بے آواز لاٹھی ہے کہ  اب سب اس بد دیانت قائدین سے جان چھڑانا چاہتے اور جان نہیں چھوٹ رہی ۔  اگر ہم نے اب بھی راہ نہ بدلی تو اگلے مراحل اور بھی جان لیوا ہونگے ۔
ازاد ھاشمی

ٹوٹا ہوا کھلونا

" ٹوٹا ہوا کھلونا "
معصوم سا حسرتوں اور امیدوں کے تاثرات سے منقش چہرہ ۔ وہ معصوم سی گڑیا ، زندگی اور موت کے درمیان چند سانسوں کی مسافت پر کھڑی تھی ۔ ڈاکٹر اس بات پر قائم تھے کہ اگر اس معصوم کو چند ماہ پہلے علاج کی سہولت مل جاتی تو زندگی اسکے ساتھ تھی ۔ ماں سرہانے بیٹھی کسی معجزے کی منتظر ،  بار بار بیٹی کی آنکھوں میں جھانکتی اور سانسیں لیتا ہوا بت بن جاتی ۔
جس بیٹی کے ہاتھوں پہ مہندی ، ماتھے پہ ٹیکا اور عروسی لباس میں ملبوس دیکھنے خواب وہ دیکھا کرتی تھی ۔ سفید کفن کا خیال آتے ہی مر جاتی ، پھر ایک امید کہ شاید اللہ اسکی دعا سن لے اور اسکی بیٹی اسے واپس مل جائے ۔ چند لمحوں کیلئے پھر سے جی اٹھتی ۔
پچھلے چند دنوں میں وہ کئی بار مر چکی تھی اور کئی بار جی چکی  ۔ اسے یاد آتا تھا کہ اس نے اور اسکے بد نصیب شوہر نے بیٹی کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ، کہ شاید کسی دولتمند کی تجوری سے چند سکے ، مل جائیں اور انکی بیٹی بچ جائے ۔ مگر جس دولت پر سانپ بیٹھا ہو وہ صرف کوئی ڈاکو ہی لے سکتا ہے ۔ ضرورت مند نہیں ۔
" ماں ! ابا کہاں ہے "
" بیٹا ! تیرے لئے کھلونا لینے گیا ہے ۔ بس آنے ہی والا ہے "
" ماں ! دوائی کیوں نہیں  ،کھلونا تو تھا میرے پاس  "  وہ اپنے
سرہانے پڑے ہوئے  کھلونے کو ،  جو ٹوٹ چکا تھا،  ماں کو دکھاتے ہوئے بولی  ۔  ماں کیا کہتی کہ وہ کس کس در پہ دستک دے رہا ہو گا ۔ باپ کیا جانے کہ وہ شہر کے بیچ اکیلا ہے ۔  جہاں کسی کو فرصت ہی نہیں کہ کسی کے غم بانٹے ۔ جہاں خود غرضی نے اپنے مضبوط پنجے ، ہر کسی کے دل میں گاڑھ رکھے ہوں ، وہاں کسی کی بیٹی مر جائے گی ، تو کسی کا دل نہیں پسیجے گا ۔ وہ جب خالی ہاتھ واپس لوٹا ، تو بیٹی کا ٹوٹا ہو کھلونا زمین پر پڑا تھا ۔ وہ باپ کا انتظار کرتے کرتے ، اپنے آخری سفر پر روانہ ہو چکی تھی ۔ 
ازاد ھاشمی

" جماعت اگر چاہے "
ہم زمانہ طالبعلمی سے دیکھتے آئے ہیں کہ چھوٹے بڑے واقعات میں جلوس اور احتجاجی تحریکوں کے تمغے سب سے زیادہ جماعت نے حاصل کئے ۔ قائدین کی ایک آواز اور جلوس سڑکوں پہ ۔ یہ طرہ امتیاز ہمیشہ جماعت کے ہاتھ میں رہا ۔ انکے کارکنوں کے دامن پہ کبھی کرپشن کی ایک چھینٹ بھی دکھائی نہیں دی ۔ انتہائی منظم جماعت کہ اسکی مثال نہیں ملتی ۔ اخلاق میں بے مثال ، گفتگو میں ہمیشہ فاتح ، تقاریر میں درختوں کو بھی قائل کرنے کا ہنر ۔ گویا سیاست کے میدان میں انکے پائے کا کوئی دوسرا لیڈر نہیں ۔  پھر کیا وجہ کہ لوگ انہیں اس قابل کیوں نہیں سمجھتے کہ انہیں کم از کم ایک بار ووٹ دے کر اقتدار کا شوق تو پورا کروا دیں ۔ عوام کو انکی سچائی ، سادگی ، اور حب الوطنی کیوں نظر نہیں آتی ۔ میں نے اکثر جماعت کے اکابرین سے سنا ہے کہ لوگ انہیں ووٹ ہی نہیں دیتے تو وہ اسلامی نظام کیسے لائیں ۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ جو جماعت اتنی منظم ہے ، باکردار ہے ، اور کچھ نہیں تو پورے پاکستان میں دس بیس لاکھ تو مخلص کارکن ہونگے ۔ جو اکابرین کی آواز پر سروں پہ کفن باندھ سکتے ہیں ۔ کیا دس بیس لاکھ لوگ سو سو روپیہ چندہ دینے کیلئے تیار نہیں ہونگے ۔ کیا انکے ایک کارکن کے دو تین مخلص دوست نہیں ہونگے ۔ اگر ہیں تو ملک میں معاشی انقلاب چھ ماہ میں آجائے گا ۔ شعور کیلئے ملک کے ہر کونے میں سکول کھل سکتے ہیں ، غربت کا بوریا باندھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی ۔ پھر پچھلے ستر سال سے جماعت جمہوریت کی بیساکھی سے اقتدار کے پیچھے کیوں بھاگ رہی ہے ۔ لوگوں کو عملی کارکردگی دکھائیے ، لوگ کندھوں پہ بٹھا کے کرسی پر بٹھا دیں گے ۔ آواز دے کے تو دیکھیں کہ جو اسلام کا نظام چاہتے ہیں ، جمہوریت سے الگ ہو کر ہمارے ساتھ آجائیں ، ایک ریفرنڈم تو کروا کر دیکھیں ۔ یہ سب ایک انتخاب میں الٹ پلٹ ہو جائے گا ۔ امن سے ہو جائے گا ۔ نہ کوئی خون ریزی ، نہ کوئی دھرنا ، نہ کوئی احتجاج ۔
یہ زمین پر بیٹھ کر کھانا ، سادہ سے کپڑے پہننا ، آج کے دور میں کسی کو متاثر نہیں کرتا ، لوگ اسے مکاری کا نام دیتے ہیں ، سیاست کہتے ہیں ۔ اسلئے ووٹ لینے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہونے کا امکان مفقود ہے ۔ جانتا ہوں اب جماعت کے سارے ترجمان ، تاویلیں دیں گے اور اس پر غور نہیں کریں گے ۔
ازاد ھاشمی

عبادت یا گناہ

" عبادت یا گناہ "
سیاست کے مندر میں ماتھا ٹیکنے والا ہر شخص ، اس کھیل کو عبادت کہتا ہے ۔ کسی ایک سیاسی پنڈت کا بھگت بن کر رہنا ، قوم کی خدمت ، دین کی خدمت اور جنت کی کنجی  سمجھنے والے یہ دیوانے ایک نہیں ، دو نہیں کروڑوں میں ہیں ۔ سیاست ایک پیشہ بن چکی ہے ، اس پر مکاروں کو حکمرانی کرتے دیکھا گیا ہے ۔ یہ کشتی کی ہی ایک مکروہ شکل ہے ، جس میں مخالف کو پچھاڑنے کیلئے ہر بد اخلاقی جائز ہے ۔ جس پر جو جی میں الزام رکھ دو ، کون تحقیق کرے گا اور کس کو خبر سچ کیا ہے جھوٹ کیا ۔ کسی کی کردار کشی کرو اور جی بھر کر کرو ، سیاست کا  سب سے کاری وار ہے ۔ بہن بیٹیوں پر تہمتیں اور بہتان لگا کر کام چلے تو یہ بھی کر گذرو ۔  یہ تمام حربے سیاست کی اساس ہے اور یہ تمام حربے شیطنت کی کتاب میں عبادت کہلاتے ہیں ۔
اس شیطانی کھیل نے ہمیں مذہبی اقدار سے بہت دور کر دیا ہے ۔ اللہ اور رسول کی باتوں کا وقت ہی نہیں رہا ہمارے پاس ۔ اپنے مسائل کا حل اسی عبادت میں تلاش کرنے کی عادت ہو گئی ہے ۔ اب کوئی اللہ کے دین کی بات کرتا ہے تو دیوانہ لگتا ہے ۔ جو یہ کہے کہ ہمارے مسائل کا حل اللہ کے احکامات کی اطاعت میں ہے ، اسے پتھر کے دور کا انسان تصور کیا جاتا ہے ۔ کوئی اس دیوانے کی بات سننے کو تیار نہیں ۔ دین سے جڑے ہوئے علماء بھی سیاست کی بساط بچھائے بیٹھے ہیں ۔ عجیب سا رحجان ہے ۔
آہستہ آہستہ یہ کھیل ، عقیدے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ اور جو عیب تھا وہ عبادت بنایا جا رہا ہے ۔ تعجب ہوتا ہے جب بڑے بڑے علماء نماز کی امامت کرتے سجدے سے پہلے رکوع کرنا بھول جاتے ہیں ۔ ایسا اسی وقت ہوتا ہے ، جب نماز کے دوران دماغ حاضر نہ ہو ۔ شاباش ہے بھگتوں کہ مجال ہے جو سوچیں کہ ہمارا رہنماء احکامات ربی کے تحت نہیں ہے ۔ پھر بھی اسکے ھاتھ چومنا عقیدت ہی کہلاتی ہے ۔
سوچتا ہوں کہ سیاست عبادت ہے یا گناہ ۔ شاید کسی کے پاس ٹھوس جواب ہو ۔
ازاد ھاشمی

سیاسی گندگی

" سیاسی گندگی "
یہ جو دھما چوکڑی ، گالم گلوچ ، پردہ دری اور کردار کشی کا رحجان ہے ، کیا یہ ہماری تہذیب تھی ۔ کیا ہمیں اس نہج تک پہنچ جانا چاہئے تھا ۔
یہ سیاسی گندگی ان دس بارہ سالوں کی نہیں ، بلکہ تھوڑی سی انگریز نے پنیری لگا دی تھی ،  یہ وہ درخت اور انکی شاخیں ہیں ۔ کچھ  پودے ہر دور کے حکمران ساتھ لگاتے  رہے ۔
کچھ مصلحتوں کے باعث لگائے گئے ۔ اور آج پورے ملک کی گندگی قانون ساز ہے ۔ وہ جن کا کردار پوشیدہ تھا ، اب سر عام ہے ۔ پتہ چل رہا ہے کہ بہت سارے معتبر اخلاقی دیوالیہ ہیں ۔ جن کو اخلاقیات کی ابجد نہیں آتی وہ دنیا میں پاک سر زمین کی نمائیندگی کر رہے ہیں ۔
جو ملک کے اثاثوں کے نگہبان تھے ، انہوں نے ملک کو دونوں ھاتھوں سے لوٹ رکھا ہے ۔ برا ہو ایسی مصلحت ہے جو نہ جج کو لکھنے دیتی ہے اور نہ محافظ کو مجرم پکڑنے دیتی ہے ۔ برا ہو ایسی مصلحت کا جو مذہب کی تبلیغ والوں کو زانی ، راشی ، قاتل اور شرابی حکمرانوں کو قبول کرنے پر مجبور کئے بیٹھی ہے ۔
تف ہے ایسی مصلحت پر ، جس بنا پر ہم برادری ، مفادات اور سیاسی وابستگی پر ووٹ کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔
ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ اس گندگی کی جڑ کہاں ہے اور کیسے کٹے گی ۔
سیاست میں گھروں سے آزادی لئے خواتین ، جس رحجان کو پروان چڑھا رہی ہیں ، کل یہ رحجان ہماری بہو  ، بیٹیوں  کی رغبت بن گیا تو شرفاء کہاں کھڑے ہونگے ۔
کیا یہ تماشا گر اس قابل ہیں کہ انکے لئے دل میں نرم کونا رکھا جائے ۔
اس گندگی کو منہ پہ ملنے سے کیا ملے گا ۔
ازاد ھاشمی

سیاسی تماشے

" سیاسی تماشے "
کیا عجیب سا نہیں لگتا کہ ہمارے سیاسی رہنماء کس ڈگر پر چل رہے ہیں ۔ ایک طاقت کے مظاہرے کیلئے دھرنا دیتا ہے ، ایک جلوس پہ جلوس نکالتا ہے ، ایک طویل ریلی نکال کر باور کرواتا ہے کہ عدالتیں تو للو ہیں ، انکی مت سنو ۔ ایک ملک سے بیزار تھا اور جب دل چاہتا ہے اپنی موجودگی کا احساس دلانے آجاتا ہے ۔ 
یہ سول سرونٹ بھی کیا کریں ، انہی میں سے کسی نہ کسی کی آشیر باد سے سیٹوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ بیچارے پولیس والے بھی کیا کریں ، بڑے صاحب کا حکم  ہے کہ عوام کو سڑک پر لانے کیلئے گلو بٹ کی ضرورت تو رہتی ہے نا۔  بے بس سپہ سالار کی بھی مجبوری ہے کہ خاموشی سے تماشا دیکھے ۔ آخر اسے بھی تو کئی سنئیرز کو چھلانگ کر لایا گیا ہے ۔
کیا لگتا ہے کہ جس مخلوق کو عوام کہا جاتا ہے ، اسے سمجھ آ جائے گی کہ کون غلط ہے اور کون ٹھیک ۔ وہ ایک ٹی وی کھولیں گے تو ایک دانشور اس ریلی کو حکم ربی کہہ رہا ہو گا ، دوسرے ٹی وی پر اسی کو شیطان کی سر پرستی سے تشبیہہ دی جا رہی ہو گی ۔ کیسے سمجھ آئے گی کہ سچ کیا ہے ۔
کیا ابھی کوئی شک باقی رہ گیا کہ ہم سحر زدہ قوم ہیں ۔ بس جب بھی کوئی سامری آئے گا ، ہم اسی کی تقلید میں نکل کھڑے ہونگے ۔ کبھی نہیں سوچیں گے کہ ان سامریوں کی ڈور کون ہلاتا ہے ۔ جو بھی تماشا ہو گا ، وہی دیکھنے لگیں گے ۔
کیا دلیل باقی رہ گئی کہ برائی  کو جتانے والے ہم نہیں  ہیں ۔  یہ عدالتیں ، یہ اینٹلیجنس ادارے ، یہ محافظ تو سب کے سب مٹی کے مادھو ہیں ۔ پتلیاں ہیں ، ہر آنے والے مداری کے لئے ناچیں گی ۔ یہ ہی انکے فرائض ہیں ، یہی دین یہی دھرم ۔ کون کہتا ہے کہ انہوں نے وطن کی مٹی کے تحفظ کا حلف اٹھایا ۔ انہیں تو کرسی پر بیٹھے کو سلیوٹ کرنے کی عادت ہے ۔ وہ چور ہو یا سادھ ۔
کوئی بتا سکتا ہے کہ ان سیاسی تماشوں کا انجام کیا ہو گا ۔
ازاد ھاشمی