" عمران خان کا کتا "
آج سوشل میڈیا پہ ایک تصویر دیکھی ، جس میں ہمارے وطن کے نئے قائد کا کتا میز پر بیٹھا ہے اور موصوف کسی ساتھی سے مصروف گفتگو ہیں ۔ قابل اعتراض کتے سے دوستی نہیں ، قابل فکر کتے کا میز پر بیٹھنا ہے ۔ ایک مسلمان مملکت کی باگ ڈور سنبھالنے کی امید لیکر جدوجہد کرنے والے لیڈر کی آزادی فکر و شعور ہے ۔
یہ مستند رائے ہے کہ کتا ایک نجس جانور ہے اور نہایت حریص ، نہایت بے حیا جانوروں میں شمار ہوتا ہے ۔ وفا کیلئے مشہور بھی ہے اور کچھ نسلیں مالک پر بھی بھونکنے لگتی ہیں ۔
یہ تو محترم کی خوش قسمتی ہے کہ ایک بے شعور قوم کی قیادت کر رہے ہیں ، وگرنہ ایسے روئیے کے لوگ قیادت کے اہل نہیں ہوا کرتے ۔ اور اس مزاج کے لوگ نہ تو منکسر مزاج ہوتے ہیں اور نہ مذہبی اقدار کی اطاعت گزاری کرتے ہیں ۔
محترم نے کچھ سماجی کام کئے جو قابل تحسین ہیں ، کرپشن کو جڑ سے نکالنے کیلئے کرپٹ مقتدر لوگوں کی راہیں کاٹ ڈالیں ، قابل تحسین ہے ۔
مگر یہ آزاد خیالی ، یہ لا ابالی ، یہ مغربیت اور اپنی روایات سے متضاد سوچ شایاں نہیں ۔ کوئی بھی نامور اور سنجیدہ لیڈر کتے بلیوں کو انکی حدود سے باہر نہیں لاتا ۔ کتے اور انسان کا الگ الگ مقام ہے ۔ یہ جو صاحب سامنے بیٹھے ہیں انکی یہ عزت افزائی آپ کی رعونت کی غماض ہے ۔ سیاست کیجئے ، مگر اقدار کو قتل مت کریں ۔
جانتا ہوں ، موصوف کے حواریوں کو آگ لگے گی ، اور مجھے بھی اصطلاحی پٹواریوں کے قبیلے سے جوڑا جائے گا ۔ مگر یہ درست انداز فکر نہیں ۔ غلط کو غلط کہنا ہو گا ، ورنہ ایک بادشاہت ختم ہو کر دوسری بادشاہت شروع ہو جائے گی ۔ قوم جہاں تھی وہاں ہی رہے گی ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 25 August 2017
عمران خان کا کتا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment