Friday, 25 August 2017

اصل دستور کیوں نہیں

" اصل دستور کیوں نہیں "
انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی ابلیس نے سرکشی کی اور ببانگ دہل انسان کو بہکانے کا اعلان کر دیا ۔ تخلیق انسان کی وقت اللہ کی پاک ذات نے انسان کی برتری علم کو دیا ۔ زمین پر آنے کے بعد تخلیق کے وقت کی جنگ انسان اور شیطان کے درمیان شروع ہو گئی ۔ اللہ پاک کا اعلان کہ جو اسکے بندے ہونگے اسے شیطان بہکا نہیں سکے گا ۔ دنیا بڑھتی رہی ، انسان کی رہنمائی کیلئے اللہ اپنے انبیاء کے ذریعے ہدایت بھیجتا رہا ۔ ایک راہ راست سے اگاہی دیتا رہا ، یہ انسان کیلئے آئین بھی تھا ، دستور بھی ، قانون بھی اور نظام حیات بھی ۔ جو اللہ کے بندے تھے وہ اس پر چلتے رہے اور جو شیطان کے دوست بنتے رہے وہ اپنے اپنے راستوں کا از خود تعین کرتے رہے ۔ یہ شیطان کی راہ پر چلنے والوں کی ہمیشہ اکثریت رہی اور اللہ کی ہدایت پر چلنے ہمیشہ اقلیت میں رہے ۔ اللہ کی پاک ذات نے اپنے دستور ، قانون اور آئین کی ایک شکل زبور کی صورت میں نازل فرمائی ، ایک تورات کی شکل میں ، ایک انجیل کی صورت میں ۔ ان تینوں دساتیر کو شیطان کے بندوں نے تحریف کر کے اصل مفہوم سے دور کر دیا ۔ اپنی ضرورت ، اپنے اپنے اقتدار کی راہیں صاف رکھنے کیلئے اپنی مرضی کے دستور ، قانون ترتیب دے ڈالے ۔
اس کے بعد اللہ پاک نے آخری کتاب " قران پاک " کو مکمل ضابطہ بنا کر نازل فرما دیا ۔ انسان کی رہنمائی کیلئے ہر وہ راہ متعین کر دی جس کی ضرورت انسان کو کسی بھی دور میں پڑ سکتی تھی ۔ اسکی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود لے لی ، اور اسکی عملی تشریح کیلئے اپنے حبیب پاک کو منتخب فرمایا ۔ آپ (ص ) نے اسکا عملی اطلاق کیا ، اور دنیا کی انتہائی مضبوط قوموں کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ دنیا کا بہترین دستور " قران " ہے ۔ مسلمان جب تک اس دستور ، اس آئین ، اس قانون اور اس نظام کو اپنائے رہے ، کیسر و قصری جیسے خود سر حکمران لرزاں رہے ۔ انصاف ، عدل ، معیشت غرضیکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں اسلام کی افادیت تسلیم کی جاتی رہی ۔ نہ اکثریت کی رائے کا جھمیلہ ، نہ مفکرین کے فلسفے کی ضرورت ، نہ دانشوروں کی دانش کا رونا ۔
اب یہ کتاب اللہ کی حفاظت میں ہے ، تحریف ممکن نہیں ۔ شیطان کے پیروکاروں نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ، قران کو سمجھنا ممکن نہیں ۔ یہاں تک کہہ دیا کہ براہ راست قران کو سمجھنے کی کوشش سے بہکنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔ اس سوچ کے محرکات کیا ہیں ، کیا تھے ۔ یہ ایک الگ مضمون ہے ۔
بات وہاں ہی آکر رک گئی کہ وہی راہ اختیار کرو جو اکثریت پسند کرے ۔
ایک آئین 73 میں بنا ، جس میں وطن عزیز کے جید سیاستدان علماء شامل ہوئے ، مگر بے چارے صرف اکثریت کے ہاتھوں کو دیکھ کر آمین بولتے رہے ۔ رفتہ رفتہ تبدیلیاں ہوتی رہیں ، اور ابہام پیدا ہوتے رہے ۔ اب پھر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ آئین ، دستور کی ایک نئی شکل سامنے لائی جائے ۔ ہمارے موجودہ مذہبی سیاستدان ، ماضی کی روایت کو دہرانے کیلئے تیار نظر آتے ہیں ۔ یہ نہیں کہتے کہ ہم مسلمان ہیں ، یہ وطن اسلام کے نام پر لیا گیا ، پھر ہمارا دستور ، ہمارا قانون  اور ہمارا نظام تو موجود ہے ۔ اس نئے پخ کی کیا ضرورت ۔ یہ اکثریت  تو ابد سے شیطان کی سوچ کے تابع رہی ہے ۔ اب کیسے بدل جائیگی ۔  لگتا ہے شیطان کی حمایت میں پھر ہاتھ اٹھیں گے ۔ ہم نے اللہ کا آئین ٹھکرا دیا ، اللہ نے ہم پر لٹیرے حکمران مسلط کر دئے ۔ اب بہترین وقت ہے کہ اپنی اپنی استطاعت سے ،  اپنے حقیقی دستور  کیلئے آواز اٹھائیں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment