" ذالک الکتاب لاریب فیہ "
کائنات میں پہلی اور آخری کتاب ، جس کا بھیجنے والا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ وہ کتاب جس میں کوئی " ریب " نہیں ۔ جید علماء نے اس پر محدود کر دیا کہ ریب کا مطلب " شک " ہے ۔ اگر اسے " نقص ، کجی ، یا جھول " کہہ لیا جائے تو مفہوم زیادہ واضع ، عام فہم اور قران کے مقام کی زیادہ وضاحت ہو جاتی ہے ۔
ہم پنسل سے ایک لکیر کھینچتے ہیں ، بالکل سیدھی ، اگر یہ کہیں سے موٹی ، کہیں سے پتلی ہو گی ، تو سیدھا ہونے کے باوجود اسے نقص سے پاک نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ لکیر کا نقص ہے ، ریب ہے ، کجی ہے ، جھول ہے ۔
قران واحد کتاب جس میں کوئی نقص نہیں ، یہاں تک کہ کسی نقص ، کسی ریب ، کسی کجی اور کسی جھول کا نہ سوچا جا سکتا ہے ، نہ شک کی گنجائش ہے ۔
میں سوچا کرتا تھا کہ ہمارے بڑے بڑے مذہبی اکابرین تو کہتے ہیں کہ قران کو سمجھنا ، ایک عام ذہن کی دسترس میں ہی نہیں ۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ قران کی گہرائی میں ، کسی استاد کی مدد کے بغیر جانے سے بہکنے کا امکانات زیادہ ہیں ۔ میں اپنی ناقص سوچ اور ایمان کے ترازو پر جب اللہ کے اس دعویٰ کو دیکھتا ہوں کہ اس کتاب میں کوئی ریب نہیں ، تو چند لفظ آگے بڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسے سمجھنے کی شرط " تقویٰ " ہے ۔ اس سے ہدایت تو صرف تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ملتی ہے ۔ جیسے جیسے تقویٰ کی نعمت ملتی جاتی ہے ، جیسے جیسے تقویٰ سے قربت اختیار کرتے جاو ۔ ہدایت ملتی جائے گی ۔
سوچتا ہوں ، جید علماء نے قران پر اتنا بڑا افتراء کیوں باندھ دیا ۔ یہ کیوں ازبر نہیں کرایا کہ تقویٰ اختیار کرتے جاو ، قران سے ہدایت کی راہیں کھلتی جائیں گی ۔
میں تو یہی سمجھا ہوں ، پتہ نہیں ، بہک گیا ہوں یا ہدایت کی طرف بڑھنے لگا ہوں ۔ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ کے ایک ایک لفظ کو مانتا جاوں اور آگے بڑھتا جاوں ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 25 August 2017
ذالک الکتاب لا ریب فیہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment