Friday, 25 August 2017

عبادت یا گناہ

" عبادت یا گناہ "
سیاست کے مندر میں ماتھا ٹیکنے والا ہر شخص ، اس کھیل کو عبادت کہتا ہے ۔ کسی ایک سیاسی پنڈت کا بھگت بن کر رہنا ، قوم کی خدمت ، دین کی خدمت اور جنت کی کنجی  سمجھنے والے یہ دیوانے ایک نہیں ، دو نہیں کروڑوں میں ہیں ۔ سیاست ایک پیشہ بن چکی ہے ، اس پر مکاروں کو حکمرانی کرتے دیکھا گیا ہے ۔ یہ کشتی کی ہی ایک مکروہ شکل ہے ، جس میں مخالف کو پچھاڑنے کیلئے ہر بد اخلاقی جائز ہے ۔ جس پر جو جی میں الزام رکھ دو ، کون تحقیق کرے گا اور کس کو خبر سچ کیا ہے جھوٹ کیا ۔ کسی کی کردار کشی کرو اور جی بھر کر کرو ، سیاست کا  سب سے کاری وار ہے ۔ بہن بیٹیوں پر تہمتیں اور بہتان لگا کر کام چلے تو یہ بھی کر گذرو ۔  یہ تمام حربے سیاست کی اساس ہے اور یہ تمام حربے شیطنت کی کتاب میں عبادت کہلاتے ہیں ۔
اس شیطانی کھیل نے ہمیں مذہبی اقدار سے بہت دور کر دیا ہے ۔ اللہ اور رسول کی باتوں کا وقت ہی نہیں رہا ہمارے پاس ۔ اپنے مسائل کا حل اسی عبادت میں تلاش کرنے کی عادت ہو گئی ہے ۔ اب کوئی اللہ کے دین کی بات کرتا ہے تو دیوانہ لگتا ہے ۔ جو یہ کہے کہ ہمارے مسائل کا حل اللہ کے احکامات کی اطاعت میں ہے ، اسے پتھر کے دور کا انسان تصور کیا جاتا ہے ۔ کوئی اس دیوانے کی بات سننے کو تیار نہیں ۔ دین سے جڑے ہوئے علماء بھی سیاست کی بساط بچھائے بیٹھے ہیں ۔ عجیب سا رحجان ہے ۔
آہستہ آہستہ یہ کھیل ، عقیدے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ اور جو عیب تھا وہ عبادت بنایا جا رہا ہے ۔ تعجب ہوتا ہے جب بڑے بڑے علماء نماز کی امامت کرتے سجدے سے پہلے رکوع کرنا بھول جاتے ہیں ۔ ایسا اسی وقت ہوتا ہے ، جب نماز کے دوران دماغ حاضر نہ ہو ۔ شاباش ہے بھگتوں کہ مجال ہے جو سوچیں کہ ہمارا رہنماء احکامات ربی کے تحت نہیں ہے ۔ پھر بھی اسکے ھاتھ چومنا عقیدت ہی کہلاتی ہے ۔
سوچتا ہوں کہ سیاست عبادت ہے یا گناہ ۔ شاید کسی کے پاس ٹھوس جواب ہو ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment