Friday, 25 August 2017

تم سب مجرم ہوب

" تم سب مجرم ہو "
ہماری موجودہ سیاسی قیادت اس الجھن میں ہے کہ کون کون مجرم ہے اور کون کون پارسا ۔ کون کون صادق ہے اور کون کون کاذب ۔ کون کون امیں ہے اور کون کون خائن ۔
میرے خیال میں سب کے سب مجرم  بھی ہیں ، خائن بھی اور کاذب بھی ۔
دلیل کیا ہے ، ثبوت کیا ہے ؟
نا اہل لوگوں کو قوم کی رہنمائی کا فرض سونپنا جرم نہیں تو کیا ہے ۔ کتنے بیورو کریٹس ، پبلک سرونٹ اور وزیر اپنی اپنی پوسٹ کے اہل ہیں ۔ کونسی جماعت ہے جو اس جرم کی مرتکب نہیں ہوئی کہ نااہل لوگوں کو ہمارے اوپر مسلط کیا جاتا رہا ۔
ملک کے وسائل کو لوٹنے والوں کا ہاتھ روکنے کی بجائے ، انکی اعانت پر کھڑے رہنا جرم نہیں تو کیا پارسائی ہے ؟  کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے ان چوروں کے ہاتھ پکڑے ۔ اسمبلی کے ممبران کی مراعات وطن کے وسائل کا بے جا استعمال نہیں ، تو کیا ہے ۔ کیا وطن کے وسائل کو یوں بے دریغ استعمال کرنا جرم نہیں ۔ یہ مہینوں دھرنا دینا ، ملک کی معیشت پر ضرب نہیں تو کیا ہے ۔ یہ اسلام آباد سے لاہور تک ریلی پر ملکی وسائل کا ضیاع نہیں ؟ 
سب جرم کر رہے ہیں اور سب پارسا بن رہے ہیں ۔ احمق لوگ جوق در جوق ، قوم کی امانت ووٹ کو انہی میں سے کسی ایک مجرم کو دے کر سمجھیں گے کہ ہم نے وطن کی خدمت کر ڈالی ۔
اس سے بڑا خائن کون ہو گا ، جس نے اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کا عہد کر کے اسلام قبول کیا ، اور پھر اسلام کے متبادل نظام کی آبیاری میں لگ گیا ۔
اس سے بڑا مجرم کون ، جو اپنی ریلیوں ، اپنے جلسوں ، اپنے جلوسوں اور اپنی سیاست چمکانے کیلئے ، مریضوں کا راستہ روک لے اور کسی غریب کی جان چلی جائے ۔
کیا سب صاحبان سیاست  کے مجرم ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے ۔
اس سے بڑی وطن دشمنی کیا ہو گی کہ آپ اقتدار میں بیٹھ کے اپنے نااہل عزیزوں ، ووٹروں کو وطن کی لگام تھامنے والی پوسٹ پہ بٹھا دیتے ہو ۔ یہ جرم غداری سے کم نہیں  ، اس سے ملک کی نشوونما رک چکی ہے ۔ 
اگر جج نااہل ہے تو ذمہ دار کون ۔ اگر پولیس افسر راشی ہے تو جرم کی جڑ کون ۔
تم سب مجرم ہو ، قوم سے جھوٹ بولنے کے ، قوم کو بہکانے کے ، قوم سے انکے وسائل چھین لینے کے ۔
تم نے وطن کو افلاس کی چکی میں پیس ڈالا اور وطن کے وسائل انتخابات کے ڈھونگ پر لٹا دئے ۔
تم ایک کار پر بھی سفر کر سکتے تھے ، قافلوں پہ اخراجات کرنے کے مجرم ہو ۔ ملک میں انارکی ، بھائی کو بھائی سے لڑانے کے مجرم ہو ۔ 
کیا پیمانہ تھا جسے ناپ کر تمہیں وہم ہو جاتا ہے کہ تم ہی وطن کی ضرورت ہو  اور کرسی تمہارے ہی پاس ہونی چاہئے ۔  کیا خود پرستی خوبی ہے یا خرابی ۔ تم سب خود پرستی کے مجرم ہو ۔ یہ وطن لوٹنا تم سب کا وطیرہ ہے ، کم یا زیادہ الگ بات ہے ۔
وہ کونسا علم ہے ،  کونسی قابلیت ہے ، جس سے اسمبلیوں میں بیٹھ کر قوم کی خدمت کر رہے ہو اور اتنی مراعات سے مستفید ہو رہے ہو ۔ کیا یہ قوم سے دہوکہ نہیں ۔ کیا جو حاصل کر رہے ہو وہ تمہاری صلاحیت سے مطابقت رکھتا ہے ۔
تم سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہو ، ہماری حماقتوں کا ثمر ہو ۔ مت پوچھو کہ تم سب نے کیا جرم کیا ۔ ہمارے جرموں اور ہماری غفلتوں کی سزا ہو ۔  کیسے بتائیں کہ تم مجرم ہو یا نہیں ۔  سوچو ! اگر شرم آجائے تو اپنے جرائم کی سزا خود تجویز کرو ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment