Friday, 25 August 2017

بوسیدہ لاشیں

" بوسیدہ لاشیں "
فرش پر چٹائی ڈالے وہ اپنے کمزور جسم کی ہڈیوں کو سہلانے کیلئے کبھی اس کروٹ سونے کی کوشش کرتی ،  کبھی اس کروٹ ۔ اسکی دن بدن گرتی صحت بتا رہی تھی کہ شاید پیٹ بھر کھانا بھی میسر نہیں ۔ توکل اور قناعت کا یہ پیکر ، کبھی سوال نہیں کرتا تھا ۔
جوان مگر بد بخت بیٹے ، خوشحال ہوتے ہوئے بھی ماں کی ضروریات سے غافل ہوں ، تو اس سے زیادہ بے حسی کیا ہو گی ۔ بیگمات کے منہ سے ایک لفظ نکلے اور پورا نہ ہو ، یہ انکی لغت میں نہیں تھا ۔
پھر بھی جب کچھ بوجھ بنتا تو ماں کے پاس بھاگتے ہوئے آتے ۔ چند روز پہلے ایک نے ماں سے کہا ۔
" ماں جی ! کار لینی ہے ، پیسے پورے نہیں ، دعا کرنا " 
پھر وہ کار دروازے پر آکھڑی ہوئی ۔ فرش پر سوتے سوتے کمر کی درد سے کڑھتی ہوئی ماں خوشی سے سما نہیں رہی تھی ، سب کو بتا رہی تھی کہ میرے بیٹے نے کار خرید لی ۔ 
جو اولاد ماں کی ضرورت کا خیال نہ رکھ سکے ، اس اولاد کو ملنے والی ہر آسائش بخت نہیں ، اللہ کی کڑی آزمائش ہوا کرتی ہے ۔ مگر یہ احساس زندہ لوگوں کیلئے ہوتا ہے ۔ ایسے مردہ اور  بوسیدہ لاشوں کے لئے نہیں ۔
بیٹی ماں کے درد پر چیخ چیخ کر روتی ہے اور بد بخت بیٹے ماں کی اس ضرورت سے بھی غافل ہو جاتے ہیں ، محض اسلئے کہ انکی بیگمات کے ماتھے پر شکن نہ پڑ جائے ۔
سلام ہے ایسی بیٹیوں کو اور تف ہے ایسے بیٹوں پہ ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment