Tuesday, 12 February 2019

قانون اور قانون ساز

"  قانون اور قانون ساز "
پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ ۔ یہ تھی وہ اساس جس پر برصغیر کے مسلمان جان و مال کی پرواہ کئے بغیر ، والہانہ کود پڑے ۔ کوئی بھی دوسرا نعرہ ہوتا تو پاکستان کبھی وجود میں نہ آتا ۔ ایمان کی حرارت ایسی ہوتی ہے جو اپنی جان ، مال ، اولاد ، گھر بار اور آرام و سکون پر حاوی ہوتی ہے ۔ یہی حرارت ایک نئے خطے کی بنیاد بنی اور اس پر ہم سب متفق ہیں ۔ پہلی قانون ساز اسمبلی میں جو لوگ بھی بیٹھے ، انہوں نے اپنی ساری توانائیاں مروجہ قانون اور دستور پر ہی مرکوز رکھیں ۔ لا الہ الا اللہ ، ایک نعرہ ہی رہا اور اس پر توجہ کی ہی نہیں گئی کہ اس تحریک کا مقصد حاصل ہو جاتا ۔انگریز قانون کی موٹی موٹی کتابیں چھوڑ گیا ،  جس میں وہ تمام قباحتیں موجود تھیں ، جو غاصب ہمیشہ اپنے اقتدار کیلئے موجود رکھتا ہے ۔ ایسا قانون بنایا جاتا ہے ، جس سے اپنی مرضی کے فیصلے کئے جائیں ، جس کو چاہیں  پھانسی کا جھولا جھلا دیں اور جس کو چاہیں قانون کی بندوق تھما دیں کہ ہر مخالف کا سینہ چھلنی کرتا پھرے ،  یہی اس قانون کے ساتھ ہوا ، طاقتور کے ہاتھ میں بندوق اور غریب کے گلے میں پھندہ ۔ یہ قانون عدالتوں میں رائج اور یہی نئی نسلوں کو پڑھایا جانے لگا ۔ اسمبلیوں جو لوگ آتے رہے ، انکا تعلیم سے تعلق برائے نام رہا ۔ وڈیرے ، چودہری ، سردار ، خان اور پیر اسمبلیوں کے مالک بن گئے ۔ قانون انکے گھروں کی باندی رہا ۔ قانون انگریز کی زبان میں لکھا گیا ، اور آج بھی انگریز کی زبان میں ہے ۔ آج بھی اسمبلیوں میں بیٹھی اکثریت اس زبان کو صرف اتنا سمجھتی ہے کہ کسی گورے کا حال پوچھ لیں اور اپنا حال بتا دیں ۔ ہر پانچ سال بعد اسمبلی رواج بن گیا ، اس اسمبلی نے قانون سازی کرنا تھی ، وہ آج تک نہیں ہوئی ۔ دستور نام کی ایک کتاب بھی چھاپ دی ، جس پر کوئی نہ کوئی جھگڑا جاری رہتا ہے اور یہ دستور کسی پر بھی ، کبھی بھی  ایسے لاگو نہیں ہوا ، جیسا لکھا گیا تھا ۔ جس اسمبلی نے یہ دستور پاس کیا ، اس میں وہی روایتی سیاستدان تھے ، جن کا تعلیم سے بہت کم واسطہ رہتا ہے ۔ یہ ہے وہ روایت جس نے ملک میں کبھی عدل کا نفاذ نہیں ہونے دیا ۔ آج جو کھیل جاری ہے کہ ایک عدالت پکڑتی ہے ، دوسری چھوڑ دیتی ہے ۔ طاقتور ، سپریم کورٹ کے جج کو ایسے سمجھتا ہے ، جیسے غلام ۔ غریب بنیادی عدالتوں ہی سے سزا لیکر خاموش ہو جاتے ہیں ۔ سزا کے معیار الگ الگ ، عدل کے ترازو الگ الگ ہونے کی یہی وجہ ہے کہ قانون سازی ہوئی ہی نہیں ۔ پھر معلوم نہیں کہ قانون ساز اسمبلیاں کیوں بنتی رہیں اور نہ جانے کب تک یونہی بنتی رہیں گی ۔ اگر یہی قانون رہتا ہے اور ایسی ہی کارکردگی قانون ساز اسمبلی کی رہتی ہے تو اس قوم کے بخت خراب ہیں یا  " لا الہ الا اللہ " سے کیا گیا مذاق اس سزا کی وجہ ہے ۔ میں بھی خاموش ہوں اور آپ بھی ۔ پھر جو ہو رہا ہے اسے برداشت تو کرنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
١١ فروری ٢٠١٩

Sunday, 10 February 2019

سوال ہی سوال

" سوال ہی سوال "
جب بھی جمہوریت کے بارے میں کچھ لکھو ، ایک جمہوریت پرست طبقہ اس طریقے سے رائے زنی کرتا ہے ، جیسے جمہوریت انکے باپ دادا کا مقدس مذہب اور ایمان کا ایک حصہ ہے ۔ اسلام کے نظام کی خامیوں کو تلاش کرتے ہوئے ، خلفاء کے قتل ، اسلامی تاریخ کے حوصلہ شکن نتائج ، کسی بھی اسلامی ملک میں مروجہ قوانین کا ابہام ، ہمارے ملاوں کی کوشش کے باوجود حل نہ نکلنا ، ضیا الحق کا دو رخا چہرہ ، مسالک کی رسہ کشی وغیرہ وغیرہ کے ثبوت سامنے رکھے جاتے ہیں ۔ تا کہ اسلام کی بات کرنے والا منہ بند کر لے ۔ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام ایک ناکام نظام ہے ۔ جس وجہ سے لاگو کرنے کی کوشش بار آور نہیں ہو گی ، اور نہیں ہو رہی ۔ بس جمہوریت کو پروان چڑھانا ہی دانشمندی ہے ۔ کچھ زیرک تو کہتے ہیں کہ اسلام نظام ہے ہی نہیں ، یہ تو صرف دین ہے ۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی بھی نبی اللہ کے نظام کو لاگو کرنے آیا ہی نہیں ، سب کا منشاء صرف انسانوں کو راہ راست پر لانا تھا ، حکومتی معاملات سے کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔ حالانکہ اس حقیقت سے انکار ہی ممکن نہیں کہ ہر نبی اور رسول کا ٹکراو تھا ہی حکومتوں سے اور نظاموں سے  ۔  نظام کے بگڑنے سے عوام بگڑتی ہے اور سدھرنے سے سدھرتی ہے ۔ یہی تاریخ ہے اور یہی حقیقت ۔  اسلام کے خلاف ہمیشہ شیطانی عمل جاری رہا ہے اور اسے بگاڑنے کی کوشش میں رہا ۔ خلفاء کے قتل میں منافق محرک تھے ، خلفشار ان لوگوں نے جاری رکھا ، صالحین ذمہ دار نہیں تھے ۔ اس خلفشار کے باوجود اگر نظم و ضبط ، انتظام و انصرام ، معاشی اور سماجی ضروریات ، بنیادی حقوق اور حفظ و امان کی بات کریں ، تو دنیا میں ایسی مثال کبھی نہیں ملے گی ۔ جیسی صورت حال خلفاء کے دور میں رہی ۔ ہمارے ملا ، سیاسی اور فوجی حکمران صرف مداری ہیں ۔ کبھی خلوص سے آگے آئے ہی نہیں ۔ سوال پہ سوال کا مطلب صرف بحث کو طول دینا ہوتا ہے ، حل نکالنا نہیں ۔ حل نکالنے کیلئے خلوص سے تحقیق اور حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ جس کی ہمیں عادت نہیں رہی ۔
شکریہ 
ازاد ہاشمی