" قاضی کی آنکھ مچولی "
جس ملک میں عدلیہ کرپٹ ہو جائے ، اس ملک میں " جس کی لاٹھی اسکی بھینس " ہوا کرتی ہے ۔ انارکی ، بدامنی اور کرپشن کا جن بوتل سے باہر آجاتا ہے ۔ کرپشن کے معانی اور مفہوم ، صرف رشوت ستانی تک محدود نہیں ہوتے ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی بھی کرپشن ہی ہے ۔ عدالتی فیصلوں میں تساہل ، صوابدیدی اختیارات کا ایسا استعمال جو قانون کے متضاد ہو اور قانون سے ناواقفین کا کرسیوں پر براجمان ہونا بھی کرپشن ہی ہے ۔ اپنے سے اعلیٰ کا اثر قبول کرنا بھی عدالتی کرپشن ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان کی عدالتی تاریخ ایسے کارناموں سے بھری پڑی ہے ۔ کئی بے قصور پھانسی پہ لٹک گئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے قصور تھے ۔ بھٹو ایک قتل میں ملوث قرار دے کر پھانسی چڑھ گیا اور سینکڑوں افراد کا قاتل آزاد گھوم رہا ہے ۔ کئی اعلیٰ عدالتوں کے قاضی متنازعہ ہیں ۔ بالخصوص آخری دو چیف جسٹس تو عجیب شعبدہ باز نظر آئے ہیں ، جو اپنے دائرہ کار سے ہٹ کر سیاسی عدل کرنے پر زیادہ متحرک رہے ۔ انصاف کا بول بالا تو نہیں ہوا ، البتہ بیشمار ہیجان نے جنم لے لیا ۔ ہر ادارہ خوفزدہ ہے کہ نہ جانے کب چیف صاحب کا بریگیڈ وہاں آ دھمکے اور جرائم کی فہرست دروازے پر لگا کر چلا جائے ۔ عملی طور پہ کیا ہوا ، نتائج کیا نکلے ، صرف یوں لگتا ہے کہ کسی محلے کا " نورا یا شیدا " بھڑکیں مارتا پھرتا ہے ۔ مگر کرتا کراتا کچھ نہیں ۔ موصوف کی بھڑکوں کے چند دن باقی ہیں اور پھر حسب معمول ایک پنڈورا بکس کھلے گا ، کوئی " تھو تھو " کرے گا ، کوئی ثبوت اٹھائے پھرے گا ، اور کچھ رنگین مزاج تماش بین کا رول ادا کریں گے ۔ کچھ میرے جیسے " بڈھے خبطی " اپنا فشار خون بلند کریں گے ۔ کئی صحافی بھی کسی نہ کسی کا لفافہ ہاتھ میں تھام کر " منہ سے جھاگ " اگلتے نظر آئیں گے ۔ یہ آنکھ مچولی ختم ہوگی تو کوئی دوسری شروع ہو جائے گی ۔ ڈاکو ، لٹیرے ، قاتل اور ملک دشمن دندناتے پھریں گے ۔ علماء ، اساتذہ اور انصاف کا شور مچانے والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا ۔ عدالت فیصلے لکھے گی اور جو گلا پھندے پہ پورا اترے گا ، اسی گلے میں پھندہ ہو گا ۔ موصوف سے نہ ڈیم بنا ، نہ عدالتیں سدھریں ، نہ لوٹی رقم واپس آئی اور نہ ہی کوئی ادارہ راہ راست پہ آیا ۔ ہاں ایک فساد چھوڑ کر رخصتی لے لی ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ نومبر ٢٠١٨
Wednesday, 28 November 2018
قاضی کی آنکھ مچولی
مولانا خادم حسین کے نام
" مولانا خادم حسین کے نام "
اللہ آپ کو حب رسول صل اللہ علیہ وسلم کی مزید سرشاری عطا فرمائے . میرے ماموں کے بیٹے اور میرے گاوں کے بہت سارے نوجوان آپ کے دستے میں شامل نظر آئے . حب رسول ( ص) اعزاز ہے . آپ کے ولولے کی مثبت باتیں اپنی جگہ مسلم ہیں . مگر جذبات کا ہوش پر غالب آ جانا , اس تدبر سے بعید ہے جو آپ ( ص) کی تعلیمات اور اسوہ ہیں . زبان سے کسی کو آزار دینا بھی اسلامی تعلیمات سے نا آشنائی نظر آتی ہے . مقصد کتنا بھی صالح ہو اسکی تشریح گالم گلوچ سے اتنی موثر نہیں ہوتی , جتنی حسن خلق سے ہو جاتی ہے . غالب امکان ہے کہ آپ کی جماعت اس سیاسی میدان میں کودے گی , جس کی بنیاد یہودی کا نظام انتخاب " جمہوریت " ہے . گویا آپ پوری سعی سے اس نظام کی آبیاری کریں گے . کاش ! آپ صرف نظام اسلام کیطرف ہو جائیں . دوسری بات کہ آپ انتخابات میں سنی مسلک کی چھتری استعمال کریں گے . چلیں , اس چھتری تلے آپ اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتے ہیں . اسکے بعد آپ کا پورا زور سنی مسلک کے فقہ پر ہو گا . تقاضا کیا جائے گا کہ آپ سنی مسلک کے فقہ کو اولیت دیں اور آپ ایسا ہی کریں گے . اس موقع پر باقی تمام مسالک کبھی قبول نہیں کریں گے . پھر وہی مروجہ دھرنے , احتجاج اور شدت پسندی سامنے آئیگی . کیا یہ کوشش فساد کی طرف نہیں لے جائے گی . کیا فساد اسلام کی تعلیمات کی نفی نہیں ہو گی .
کیا بہتر نہیں کہ آپ اسلامی نظام کا نعرہ لے کر اٹھیں . جس میں اخلاص کے ساتھ سب مسالک کو ساتھ شامل کریں . اقلیتوں کو امن اور انکے بنیادی حقوق کی پوری ضمانت دیں . جیسے اسوہ حسنہ ہے .
کیا آپ کا مزاج اس تحمل کا ثبوت دے گا . کیا دھرنے والی زبان , اگر آپ کی عادت نہیں بن چکی تو آپ کنٹرول کر لیں گے .
امید ہے اس تحریر کو مثبت انداز میں پڑھا اور سمجھا جائے گا .
ازاد ھاشمی
28 نومبر 2017
Tuesday, 27 November 2018
میلاد النبیؐ پر ہی بحث کیوں ؟
"میلاد النبیؐ پر ہی بحث کیوں؟ "
ہم مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ ہے کہ ہم مسالک کو ضد بنا کر چل رہے ہیں ۔ فطرت کا اصول ہے کہ ہر انسان کا شعور و آگہی مختلف ہوتا ہے ۔ ہم نے یقین بنا لیا ہے کہ جس بھی مکتبہ فکر سے جڑے بیٹھے ہیں ، اسکے اکابرین نے جو کہہ دیا ، وہ ہی ایمان کا لازمی حصہ ہے ۔ اور اسکے دلائل اکٹھے کرنے کو ایمان بنا لیتے ہیں ، ستم در ستم یہ ہے کہ جس معاملے میں دلائل نہ ملیں ، اس پر خود دلائل گھڑ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ جنہیں ضعیف احادیث کہا جاتا ہے ، یہ ایسے ہی گھڑے ہوئے دلائل کے کام آتی ہیں ۔ ربیع الاول کے آغاز ہی میں
" بدعت " کا لفظ ہر زبان پہ آ جاتا ہے ۔ بدعت کے معنی اور مفہوم کو کئی رنگ دے دئیے گئے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہر وہ عمل جو قرآن میں نہیں ، اسے قرآن سے منسوب کرتے ہوئے اختیار کر لینا بدعت ہے ۔ دوسرا وہ عمل جو رسولؐ کی حیات طیبہ میں معمول میں نہیں رہا ، اسے اختیار کر لینا بدعت ہے ۔
تیسرا وہ جو صحابہ ؓ نے معمول نہیں بنایا بدعت ہے ۔ چوتھا وہ جو احادیث سے ثابت نہیں بدعت ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ان تمام تشریحات کا اصل موضوع " میلاد النبی " کا اہتمام کرنا یا پھر اس دن کو " عید " کہنا ہوتا ہے ۔
نبیؐ کے یوم پیدائش پر اس کے ذکر و درود کا خاص اہتمام کر لینا ، بدعت کیسے ہے جبکہ یہ معمول تو ہمارے روزمرہ کے فرائض کا حصہ ہے ۔ اسلام کی چند اصول ہیں جس پر کسی عمل کی پرکھ ہوتی ہے ۔ گناہ اور گناہ کبیرہ ، کفر اور شرک کی کسوٹی پر پورا اترنے والا کوئی بھی عمل اسلام میں جائز نہیں ۔ اور اسکی واضع حدود ہیں ۔ اب میلاد منانا ، اسکی خوشی کرنا ، اسکے لئے محافل کا انتظام کرنا ، گھروں کو چراغاں کرنا ، اسلام کی نظر میں گناہ کبیرہ ہے ؟ شرک ہے ؟ یا کفر ہے ؟
ظاہر ہے ان میں سے کوئی حد لاگو نہیں ہوتی ۔ رہ گئی " بدعت " کہ قرآن میں نہیں ، رسولؐ کے اسوہ کا حصہ نہیں ، صحابہؓ کے عمل میں شامل نہیں ، اسلئے بدعت ہے ۔ ہمارے زندگی کے بیشمار عمل ایسے ہیں جو بدعات کے پیمانے پر پورے اترتے ہیں ۔ جن کا حکم نہ قرآن میں ہے ، نہ رسولؐ کا اسوہ ہے ، نہ صحابہؓ کا عمل ہے ۔ اس پر شور و غوغا کیوں نہیں ؟ عید میلاد النبی تو سال میں ایک بار ہے اور جو اصل بدعات ہیں وہ روز کا معمول ہیں ۔ ان پر محققین کی نظر کیوں نہیں جاتی ۔ یوں لگتا ہے کہ مسالک کی ضد کے سوا کچھ نہیں ۔ عید میلاد النبیؐ منانے سے نہ تو اسلام کی تعلیمات پر کوئی منفی اثرات ہیں ، نہ اسلام کے اصول و ضوابط متاثر ہوتے ہیں ، نہ قرآن کی کسی آیت کا انحراف ہوتا ہے ۔ پھر اسے اسقدر بحث کا موضوع بنا دینا چہ معنی دارد؟
آزاد ھاشمی
٢٠ نومبر ٢٠١٨
غامدی صاحب فرماتے ہیں
" غامدی صاحب فرماتے ہیں "
قرآن پاک میں ارشاد رب العٰلمین ہے کہ
" یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے "
موصوف سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اس آیت کے مطابق آج کے دور کا تجزیہ فرمائیں ۔ تو موصوف نے فرمایا
" یہ حکم اسوقت کیلئے تھا کیونکہ یہود نے مدینہ میں شر انگیزی شروع کر رکھی تھی ۔ اس آیت کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہئے نہ کہ آج کے حالات کے مطابق ۔ انہوں اسکی ایک دلیل یہ بھی دی کہ اس آیت کے کچھ عرصہ بعد آپؐ نے یہود کے ساتھ تعلقات استوار بھی فرمائے اور معاہدے بھی کئے ۔ اسلئے اب اس کا یہود و نصاریٰ سے تعلق قائم کرنے پر اطلاق کرنا مناسب نہیں ۔
موصوف اسوقت اسلام کے ایک سکالر ہیں اور جو کہہ دیں گے اسکے سامنے ایک عام سے مسلمان کی رائے بے وزن سمجھی جائے گی ۔ مسلمانوں کا المیہ ہی یہی ہے کہ مسلمانوں میں پھوٹ کا اصل محرک اسی طرح کے سکالرز ہی رہےہیں ۔ جن پر یقین نے عام ذہن کے مسلمان کو نہایت آسانی سے بہکا دیا اور دین میں فساد پیدا ہو گیا ۔ آپ کسی بھی اختلاف کو دیکھ لیں ، اسکا آغاز کسی نہ کسی سکالر کے ہاتھوں شروع ہوا ۔ غامدی صاحب کا ہر لمحہ دین کی اشاعت میں صرف ہوتا ہے اور ایک اچھا خاصا طبقہ انکا مقلد ہے ۔ قرآن کا سیاق و سباق سے یعنی تاریخ سے جوڑ دینا ، کسی بھی شخص کو قائل کرنے میں نہایت مضبوط دلیل نظر آتی ہے ۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ آیت اسی وقت کیلئے مخصوص تھی تو شاید غلط نہیں ہو گا ۔ مگر قرآن کی اکثر آیات اسی طرح نازل ہوتی رہیں اور کسی نہ کسی حالات کے سیاق و سباق سے جڑی ہوئی ہیں ۔ اگر یہ فارمولا اختیار کر لیا جائے تو قرآن کی پوری تعلیم محدود وقت کیلئے ہو کر رہ جاتی ہے ۔ جیسے اس آیت کو موصوف نے سیاق و سباق سے محدود کر دیا ۔
کیا قرآن کسی بھی وقت کیلئے محدود تعلیمات کا نام ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ قرآن کا ایک ایک لفظ ہمیشہ کیلئے لاگو اور ہر آیت ایک اصول ہے ، ہمیشہ کیلئے حکم ہے اور اٹل دستور ہے ۔ اگر یہود نصاریٰ اسوقت دوست نہیں ہو سکتے تھے تو آج بھی نہیں ہو سکتے ۔ قرآن کی ہر آیت ابدی ہے اور اسی طرح لاگو ہے جسطرح نزول کے وقت تھی ۔ تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے ہزارہا مدارس ایسے سکالرز پر امت مسلمہ کو چھوڑ کر کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسطرف توجہ اور اگاہی کیوں نہیں دیتے ۔ کل کو ایسے ہی سوال و جواب ایک دلیل بن جائیں گے ۔ اور دین میں ایک نیا گروہ جنم لے لے گا ۔
آزاد ھاشمی
٢١ نومبر ٢٠١٨
اگر جج زندہ ہوتے
" اگر جج زندہ ہوتے "
ہمارے وطن کا اصل المیہ عدل اور انصاف کا فقدان ہے . جس ملک کے عدل کرنے والے کرپٹ ہو جائیں , وہ ملک ہر طرح کی برائیوں کا مرکز بن جاتا ہے . جب قاضی بکنے لگے اور عدل نیلام ہونا شروع ہو جائے تو سمجھ لیں کہ وطن بربادی کے راستے پہ چل نکلا ہے . پھر نہ حقوق باقی رہ جاتے ہیں اور نہ حب الوطنی . ہمارے اکثر جج صاحبان دولت اور دھن کی ہوس کا شکار ہو چکے ہیں . انہیں قانون سے زیادہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کا چسکا پڑ چکا ہے . کیونکہ سودا بازی کیلئے سب سے زیادہ کارگر ہتھیار ہی صوابدیدی اختیارات ہیں . عدلیہ کے جج صاحبان قوم کے ساتھ عدل کے نام پر جو ظلم روا رکھے ہوئے ہیں , اسکی دلیل کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ بےقصور پھانسی کے پھندے پہ جھول جاتے ہیں , اگر انکے ہاتھ لمبے نہ ہوں اور قصور وار عدالت کی عزت بانس پر چڑھا دیتے ہیں , اگر اقتدار اور طاقت ہاتھ میں ہو . جسکی مثال موجود ہے . طاقتور کیلئے نہ کوئی توہین عدالت ہے اور نہ کوئی جرم . غریب کیلئے نہ کوئی عزت ہے نہ بنیادی حقوق .
ابھی دو روز پہلے فساد کو روکنے کیلئے فوج کے ایک جنرل نے ثالثی کی , جبکہ وہ طاقت بھی استعمال کر سکتا تھا . جسٹس صاحب کو برا لگا . شاید اسلئے کہ کریڈٹ فوج کیوں لے گئی . یا شاید اسلئے کہ فساد کیوں رک گیا . دونوں صورتوں میں اگر جنرل کے اختیارات سے ثالثی ماورا تھی تو عدالت کو قانون کے تحفظ کی خاطر بیانات جاری کرنے کی بجائے نوٹس بھیجنے چاہئے تھے . قوم بھی مانتی کہ جسٹس صاحب جرات مند ہیں . عدل کی تاریخ میں ایک سنگ میل قائم ہو جاتا . آئیندہ کوئی جنرل سو بار سوچتا . یا پہلے جسٹس صاحب کے ہاں حاضری دے کا اجازت طلب کرتا .
ایک سوال پوچھنا ضروری لگتا ہے کہ اگر پولیس ایسے بگڑے ہوئے حالات کو کنٹرول کر سکتی ہے تو فوج کو طلب ہی کیوں کیا جاتا ہے . پولیس کی ناکامی کی صورت میں جسٹس صاحب کیسے کنٹرول کرتے کوئی دلیل کوئی طریقہ کوئی گر یا کوئی دعا بتادیں . فوج سے یہ ہی توقع کیوں کہ وہ بوٹ اور بندوق کی زبان ہی میں بات کریں . وہ بھی تو اخلاقی مصلحت کی راہ چن سکتے ہیں .
اللہ رحم کرے محترم جسٹس صاحب پر , اور انکی تاریخ میں امر ہونے کی آرزو پوری ہو جائے .
ازاد ھاشمی
27 نومبر 2017
Monday, 26 November 2018
ڈاکٹر اشرف جلالی صاحب کے نام
" ڈاکٹر اشرف جلالی صاحب کے نام "
محترم جلالی صاحب ! اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے . آپ کی ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا . جس کا مدعا یہ تھا کہ موجودہ سیاست تمام خبائث کی جڑ ہے . مجھے آپ کی بات سے کلی اتفاق ہے . آپ کی دوسری منشاء یہ تھی کہ اس سیاست میں تبدیلی لانے کیلئے لوگوں کو آپ جیسے معتبر نام منتخب کرنے ہونگے . میری ناقص عقل نے یہ اخذ کیا کہ آپ , اپنے رفقاء کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے ہیں . اگر ایسا ہے تو یقینی طور پر آپ جمہوری طرز حکومت کے مطابق حصہ لیں گے . جمہوری طرز حکومت کو کیسے ثابت کریں گے کہ یہ نظام اسلام کے طرز حکومت سے مطابقت رکھتا ہے . اسلام کے نظام کیلئے شاخوں سے شروع کرنے کی بجائے جڑ سے شروع کیوں نہیں کرتے . آپ نے نہایت کامیابی سے حکومت کو زمین پہ بچھا دیا . اگر آپ کے ذہن میں ہے کہ یہ آپ لوگوں کے ادراک سے ہوا تو خام خیالی ہے . یہ کامیابی اور لوگوں کا ولولہ اسلام کی خاطر تھا . لوگوں نے سر پہ کفن حب رسول صل اللہ علیہ وسلم کیلئے باندھے . جب آپ انتخاب کیلئے مروجہ جمہوریت کی سیڑھی استعمال کریں گے , تائید ربی آپ لوگوں کے شامل حال نہیں رہے گی . آنے والا وقت اسی کا ہے , جو خلوص نیت سے اسلامی نظام کیلئے آگے بڑھے گا . جمہوریت کا سہارا منافقت ہوگا اور دھوکہ ہو گا , ان قربانیوں سے جنہوں نے آپ لوگوں کی آواز پر کفن باندھ لئے .
از راہ کرم , ارادے تبدیل کر کے اسلامی انقلاب کی آواز دیں . مسالکی انقلاب کی نہیں . سنی مسلک کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے , مسلمان عقیدے کی طاقت کا مظاہرہ کریں . یہی طریقہ ہے مروجہ سیاست کودفن کرنے کا . کفر کے فتووں کی کتابیں مدرسوں تک محدود کر دیں اور کافروں کو اسلام کی روشنی دکھانا شروع کریں . وہ کردار لیکر اٹھیں کہ اقلیتیں بھی آپ کی آواز بن کر آپ کے ساتھ آ جائیں . زبان اور کردار میں وہ مٹھاس بھر لیں کہ ہر کوئی آپ کیطرف کھنچا چلا آئے .
مجھے نہیں معلوم کہ ان چند الفاظ کا آپ کیا مفہوم لیں گے . کیونکہ آپ عالم بھی ہیں , ڈاکٹر بھی اور بہت سارے مقلدین کے رہنماء بھی . علم میں بردباری ہو تو کمال ہے . عجز ہو تو اعجاز ہے اور اکڑ آ جائے تو .....
امید ہے کہ اس سمع خراشی سے آپ سیخ پا نہیں ہونگے .
والسلام
ازاد ھاشمی
26 نومبر 2017
Sunday, 25 November 2018
اللہ اور رسولؐ سے فساد ( 7 )
" اللہ اور رسولؐ سے فساد (7)"
سورہ مائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
"جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔ ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم والا ہے۔"
اللہ اور رسولؐ سے لڑائی کی کئی شکلیں ہیں ، ایک شکل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے نہ صرف غفلت کی جائے بلکہ سرکشی کرتے ہوئے ، شیطنت کو پروان چڑھایا جائے ، جیسے بے حیائی ، قتل و غارتگری ، گناہ کبیرہ وغیرہ ۔ یہ فساد آزادئ خیال کے نام پر ہمارے معاشرے کے اندر رستا ہوا ناسور ہے ۔ ایک ایسا فساد جس سے اخلاقیات تباہی کے کنارے پہ ہیں اور مذہبی حدود و قیود کی گرفت کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ جس عمل سے اللہ نے روکا ، اس عمل کی پشت پناہی ہو رہی ہے اور جس کے کرنے کا حکم دیا اس سے اجتناب برتا جانے لگا ہے ۔ ہم نے شیطان کے ہر حربے کو کامیاب کرنے کی عادت کو معمول زندگی اور معاشرتی ضرورت بنا ڈالا ہے ۔ جبکہ اللہ ایسے لوگوں کی سزا انتہائی سنگین تجویز فرما رہا ہے ۔
اللہ کی راہ میں عملی جہاد کیلئے نکلے ہوئے وہ لوگ ، جو برائی سے روکتے ہیں اور نیکی کیطرف رغبت دلاتے ہیں ، انکی راہ روکنا اور انہیں اس پر مجبور کر دینا کہ وہ بھی شیطنت کے عمل آ جائیں یا اس عمل میں رکاوٹ نہ بنیں ۔
اللہ کے صالحین ، انبیاء اور اولیاء کا تشخص خراب کرنے کی ہر کوشش ، اللہ سے دعوت پیکار ہے ۔ اوریہ فساد کی بد ترین شکل ہے ۔
اللہ نے جو سزائیں ، ایسے لوگوں کیلئے مقرر فرمائیں ہیں ، وہ اس آیت میں بالکل واضع ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ نومبر ٢٠١٨