Sunday, 25 November 2018

اللہ اور رسولؐ سے فساد ( 7 )

" اللہ اور رسولؐ سے فساد  (7)"
سورہ مائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
 "جو اللہ  تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔ ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ  تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم والا ہے۔"
اللہ اور رسولؐ سے لڑائی کی کئی شکلیں ہیں ، ایک شکل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے نہ صرف غفلت کی جائے بلکہ سرکشی کرتے ہوئے ، شیطنت کو پروان چڑھایا جائے ، جیسے بے حیائی ، قتل و غارتگری ،  گناہ کبیرہ وغیرہ ۔ یہ فساد آزادئ خیال کے نام پر ہمارے معاشرے کے اندر رستا ہوا ناسور ہے ۔ ایک ایسا فساد جس سے اخلاقیات تباہی کے کنارے پہ ہیں اور مذہبی حدود و قیود کی گرفت کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ جس عمل سے اللہ نے روکا ، اس عمل کی پشت پناہی ہو رہی ہے اور جس کے کرنے کا حکم دیا اس سے اجتناب برتا جانے لگا ہے ۔ ہم نے شیطان کے ہر حربے کو کامیاب کرنے کی عادت کو معمول زندگی اور معاشرتی ضرورت بنا ڈالا ہے ۔ جبکہ اللہ ایسے لوگوں کی سزا انتہائی سنگین تجویز فرما رہا ہے ۔
اللہ کی راہ میں عملی جہاد کیلئے نکلے ہوئے وہ لوگ ، جو برائی سے روکتے ہیں اور نیکی کیطرف رغبت دلاتے ہیں ، انکی راہ روکنا اور انہیں اس پر مجبور کر دینا کہ وہ بھی شیطنت کے عمل آ جائیں یا اس عمل میں رکاوٹ نہ بنیں ۔
اللہ کے صالحین ، انبیاء اور اولیاء کا تشخص خراب کرنے کی ہر کوشش ، اللہ سے دعوت پیکار ہے ۔ اوریہ فساد کی بد ترین شکل ہے ۔
اللہ نے جو سزائیں ، ایسے لوگوں کیلئے مقرر فرمائیں ہیں ، وہ اس آیت میں بالکل واضع ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ نومبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment