" غامدی صاحب فرماتے ہیں "
قرآن پاک میں ارشاد رب العٰلمین ہے کہ
" یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے "
موصوف سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اس آیت کے مطابق آج کے دور کا تجزیہ فرمائیں ۔ تو موصوف نے فرمایا
" یہ حکم اسوقت کیلئے تھا کیونکہ یہود نے مدینہ میں شر انگیزی شروع کر رکھی تھی ۔ اس آیت کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہئے نہ کہ آج کے حالات کے مطابق ۔ انہوں اسکی ایک دلیل یہ بھی دی کہ اس آیت کے کچھ عرصہ بعد آپؐ نے یہود کے ساتھ تعلقات استوار بھی فرمائے اور معاہدے بھی کئے ۔ اسلئے اب اس کا یہود و نصاریٰ سے تعلق قائم کرنے پر اطلاق کرنا مناسب نہیں ۔
موصوف اسوقت اسلام کے ایک سکالر ہیں اور جو کہہ دیں گے اسکے سامنے ایک عام سے مسلمان کی رائے بے وزن سمجھی جائے گی ۔ مسلمانوں کا المیہ ہی یہی ہے کہ مسلمانوں میں پھوٹ کا اصل محرک اسی طرح کے سکالرز ہی رہےہیں ۔ جن پر یقین نے عام ذہن کے مسلمان کو نہایت آسانی سے بہکا دیا اور دین میں فساد پیدا ہو گیا ۔ آپ کسی بھی اختلاف کو دیکھ لیں ، اسکا آغاز کسی نہ کسی سکالر کے ہاتھوں شروع ہوا ۔ غامدی صاحب کا ہر لمحہ دین کی اشاعت میں صرف ہوتا ہے اور ایک اچھا خاصا طبقہ انکا مقلد ہے ۔ قرآن کا سیاق و سباق سے یعنی تاریخ سے جوڑ دینا ، کسی بھی شخص کو قائل کرنے میں نہایت مضبوط دلیل نظر آتی ہے ۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ آیت اسی وقت کیلئے مخصوص تھی تو شاید غلط نہیں ہو گا ۔ مگر قرآن کی اکثر آیات اسی طرح نازل ہوتی رہیں اور کسی نہ کسی حالات کے سیاق و سباق سے جڑی ہوئی ہیں ۔ اگر یہ فارمولا اختیار کر لیا جائے تو قرآن کی پوری تعلیم محدود وقت کیلئے ہو کر رہ جاتی ہے ۔ جیسے اس آیت کو موصوف نے سیاق و سباق سے محدود کر دیا ۔
کیا قرآن کسی بھی وقت کیلئے محدود تعلیمات کا نام ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ قرآن کا ایک ایک لفظ ہمیشہ کیلئے لاگو اور ہر آیت ایک اصول ہے ، ہمیشہ کیلئے حکم ہے اور اٹل دستور ہے ۔ اگر یہود نصاریٰ اسوقت دوست نہیں ہو سکتے تھے تو آج بھی نہیں ہو سکتے ۔ قرآن کی ہر آیت ابدی ہے اور اسی طرح لاگو ہے جسطرح نزول کے وقت تھی ۔ تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے ہزارہا مدارس ایسے سکالرز پر امت مسلمہ کو چھوڑ کر کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسطرف توجہ اور اگاہی کیوں نہیں دیتے ۔ کل کو ایسے ہی سوال و جواب ایک دلیل بن جائیں گے ۔ اور دین میں ایک نیا گروہ جنم لے لے گا ۔
آزاد ھاشمی
٢١ نومبر ٢٠١٨
Tuesday, 27 November 2018
غامدی صاحب فرماتے ہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment