" مولانا خادم حسین کے نام "
اللہ آپ کو حب رسول صل اللہ علیہ وسلم کی مزید سرشاری عطا فرمائے . میرے ماموں کے بیٹے اور میرے گاوں کے بہت سارے نوجوان آپ کے دستے میں شامل نظر آئے . حب رسول ( ص) اعزاز ہے . آپ کے ولولے کی مثبت باتیں اپنی جگہ مسلم ہیں . مگر جذبات کا ہوش پر غالب آ جانا , اس تدبر سے بعید ہے جو آپ ( ص) کی تعلیمات اور اسوہ ہیں . زبان سے کسی کو آزار دینا بھی اسلامی تعلیمات سے نا آشنائی نظر آتی ہے . مقصد کتنا بھی صالح ہو اسکی تشریح گالم گلوچ سے اتنی موثر نہیں ہوتی , جتنی حسن خلق سے ہو جاتی ہے . غالب امکان ہے کہ آپ کی جماعت اس سیاسی میدان میں کودے گی , جس کی بنیاد یہودی کا نظام انتخاب " جمہوریت " ہے . گویا آپ پوری سعی سے اس نظام کی آبیاری کریں گے . کاش ! آپ صرف نظام اسلام کیطرف ہو جائیں . دوسری بات کہ آپ انتخابات میں سنی مسلک کی چھتری استعمال کریں گے . چلیں , اس چھتری تلے آپ اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتے ہیں . اسکے بعد آپ کا پورا زور سنی مسلک کے فقہ پر ہو گا . تقاضا کیا جائے گا کہ آپ سنی مسلک کے فقہ کو اولیت دیں اور آپ ایسا ہی کریں گے . اس موقع پر باقی تمام مسالک کبھی قبول نہیں کریں گے . پھر وہی مروجہ دھرنے , احتجاج اور شدت پسندی سامنے آئیگی . کیا یہ کوشش فساد کی طرف نہیں لے جائے گی . کیا فساد اسلام کی تعلیمات کی نفی نہیں ہو گی .
کیا بہتر نہیں کہ آپ اسلامی نظام کا نعرہ لے کر اٹھیں . جس میں اخلاص کے ساتھ سب مسالک کو ساتھ شامل کریں . اقلیتوں کو امن اور انکے بنیادی حقوق کی پوری ضمانت دیں . جیسے اسوہ حسنہ ہے .
کیا آپ کا مزاج اس تحمل کا ثبوت دے گا . کیا دھرنے والی زبان , اگر آپ کی عادت نہیں بن چکی تو آپ کنٹرول کر لیں گے .
امید ہے اس تحریر کو مثبت انداز میں پڑھا اور سمجھا جائے گا .
ازاد ھاشمی
28 نومبر 2017
Wednesday, 28 November 2018
مولانا خادم حسین کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment