Thursday, 3 August 2017
3 اگست
3 اگست
واقعات ترميم
1914ء - پہلی جنگ عظیم میں جرمنی نے فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا
2005ء - ماریطانیہ میں فوجی بغاوت صدر احمد طایا کی حکومت برطرف کردی گئی [1]
1960ء - مغربی افریقا کے ملک ، نائیجریانے فرانس سے آزادی حاصل کی [1]
1957ء - ملائیشیا کی آزادی کے بعد پرنس عبدالرحمن نے حکومت سنبھالی [1]
1934ء - ایڈولف ہٹلر جرمنی کا حکمران بنا [1]
1928ء - ممتاز، ماہر قانون اور برٹش انڈیا کے پہلے مسلمان جج سید امیر علی کاا نتقال ہوا [1]
1914ء - جنگ عظیم اوّل: جرمنی نے فرانس پر حملہ کردیا [1]
1783ء - جاپان میںآ تش فشاں پھٹنے سے 35ہزار افراد ہلاک ہوگئے [1]
ولادت ترميم
- 1855ء - جو ہنٹر برطانوی کرکٹر (وفات: 1891ء)
- 1920ء - پی ڈی جیمز برطانوی ناول نگار
- 1940ء - مارٹن شین امریکی اداکار
- 1960ء - گوپال شرما بھارتی کرکٹر
- 1970ء - من موہن وارث بھارتی گلوکار
- 1980ء - نادیہ علی امریکی گلوکارہ، گیتکار
وفات ترميم
- 2011ء - بوبا اسمتھ امریکی فٹبالر اور اداکار (پیدائیش: 1945ء)
- 2013ء ـ فرمان فتح پوری (پاکستان کے مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر) بمقام کراچی، پاکستان
تعطیلات و تہوار ترميم
- نائجر کا یوم آزادی
قیادت کا مزاج اور احتساب
" قیادت کا مزاج اور احتساب "
ہم نظریاتی قوم بن ہی نہیں سکے . بلکہ ہم قوم ہی نہیں بن سکے . ہم گروہ در گروہ تقسیم شدہ لوگ ہیں . جن کا ایک ایک زندہ بت ہے اور اس بت کو ہم قائد , لیڈر اور امیر کہہ لیتے ہیں . اسکا مزاج , بود و باش , گفتگو , سوچ کچھ بھی ہو , اسکے بارے میں نہ سوچتے ہیں اور نہ دوسرے کو سوچنے دیتے ہیں . اسکی تقلید فرض بنا لیتے ہیں پھر یہی تقلید قومی خدمت کا محور ہو جاتی ہے .
ہونا یہ.چاہئیے کہ لیڈر کے مزاج کا بھی پورا احتساب کیا جائے , اسکی سوچ کو اپنی روایات کے مطابق پرکھا جائے , اسکے نظریات کی.چھانٹ پھٹک کی جائے , اسکے کردار پر توجہ کی جائے . کیسے ممکن ہے کہ دین کا باغی , قومی روایات سے نا بلد , دولت کا پجاری , غنڈہ مزاج اور بازاری زبان بولنے والا ہماری قوم کی بہتر رہنمائی کر سکے گا . مگر ہم لوگ چونکہ جانتے ہی نہیں کہ نظریہ کس بلا کا نام ہے , اسلئے ہم شخصیت کے نام پر سیاست کرتے ہیں . اکثر سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کی اجارہ داری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہم نے کبھی نظریاتی سیاست کی ہی نہیں .
ہم میں اس جرات کا فقدان ہے جو قوموں کی نظریاتی اساس ہوا کرتی ہے .
جب تک یہ تبدیلی نہیں آئے گی کہ اپنے لیڈر کی غلط بات کو غلط کہا جائے , تب تک کچھ بھی بہتر نہیں ہو گا . ہم یونہی آپس میں الجھے رہیں گے . یہی روایات اپنی نسلوں کو دے کر چلے جائیں گے . ہمارے اکثر سیاست سے وابستہ لوگ , بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں اس جماعت سے تیس پینتیس سال سے جڑا بیٹھا ہوں . اور اس پر حکمران نسلوں کی چمچہ گیری کر رہا ہوں .
کیا یہ مزاج کبھی بدلے گا .
ازاد ھاشمی
اب کیا کروگے
" اب کیا کرو گے "
اب شاہد خاقان عباسی کے سر پر وزیراعظم کا تاج سج گیا ہے , جمہوریت کی آشیر باد سے . سنا ہے جناب پر بھی اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے . اب کیا کروگے . کیا جواز باقی ہے قوم کو صادق اور امین قیادت دینے کا . ایک قانون بنا ڈالو کہ خائن اسمبلی میں نہیں آئے گا . ایک تھنک ٹینک بنا لو جو انتخابات میں حصہ لینے والوں کی چھانٹ پھٹک کرے . یقینی طور پر انتخابات کے مخمصے سے جان چھوٹ جائے گی . موجودہ سیاسی نرسری میں شائد ایک آدھ ممبر بچے گا جس کا دامن صاف ہو گا .
قوم کو ایک بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ جو سیاستدان کسی ضرورت مند کی ہتھیلی پر ایک دھیلہ نہیں رکھتے وہ سیاست کی بساط پر کروڑوں کی سرمایہ کاری کیوں کرتے ہیں . جب سب بد دیانت اکٹھے بیٹھیں گے تو وہ دیانت کی راہ کیوں تلاش کریں گے . سیاست تجارت ہے کروڑوں لگاو اربوں کماو . اس سے بہتر دھندہ کیا ہو گا .
یہ قوم کی خدمت کا لولی پوپ ہمیشہ کا وطیرہ ہے . کیا تعجب نہیں کہ جی آئی ٹی کے علم میں ہے کہ کتنے سیاستدان نااہلیت کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں . انکی فہرست عدل کی کرسی پر بیٹھے حلف برداروں کو دے دی گئی مگر کیا ہوا , نواز شریف کے گلے میں پھندا پورا آگیا , بس ڈال دیا . نواز شریف نے اپنی کرسی اپنے جیسے ملزم کو دے دی . کر لو جو کرنا ہے . جنرل صاحب نے بھی اعلان کر دیا کہ گولی مارو حب الوطنی کو , جمہوریت کو بچالو .
قوم کا کام تو ناچنا ہے , بس نچانے والی انگلی زندہ رہے . سوچ سوچ کر سر درد لینے کی کیا ضرورت ہے . ہماری گذر رہی ہے آنے والی نسلوں کی قسمت پر چھوڑو . ہمارا تیار کیا ہوا عذاب انکا نصیب ہو گا . بس جمہوریت زندہ باد . کچھ دیوانے خواب دیکھ رہے ہیں کہ اب کی بار جمہوریت کی جیت ہوگی . ووٹ جیتے گا اور ہم ایک صادق اور امین کو کرسی پر بٹھا کے رہیں گے . یہ جانتے ہوئے بھی کہ ووٹ سے کب انتخاب ہوا ہے . یہ تو غیبی مدد کی کرشمہ سازی ہوتی ہے . پھر بھی امید ہے کہ اب کی بار حق سچ کی جیت ہوگی . جبکہ سارے کے سارے گھاگ ہی میدان میں ہیں اور حق سچ والے ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتے . چھیاسٹھ فیصد کا فیصلہ جمہوریت کے کھیل سے الگ رہنے پر ہوتا ہے اور گیارہ فیصد غیبی ووٹ لینے والا بد عنوان کرسی پر بیٹھ کر ملک کیلئے قانون سازی کرتا ہے . قانون شکن قانون بناتا ہے . اب کیا کروگے . یہ سب میرے اور آپکے اعمال کی سزا ہے . اللہ کی راہ پر نکل پڑو گے تو اللہ کی مدد سے یہ عذاب ٹل جائے گا . تھوڑی سی عقل استعمال کرنا پڑے گی .
ازاد ہاشمی