Thursday, 3 August 2017

قیادت کا مزاج اور احتساب

" قیادت کا مزاج اور احتساب "
ہم نظریاتی قوم بن ہی نہیں سکے . بلکہ ہم قوم ہی نہیں بن سکے . ہم گروہ در گروہ تقسیم شدہ لوگ ہیں . جن کا ایک ایک زندہ بت ہے اور اس بت کو ہم قائد , لیڈر اور امیر کہہ لیتے ہیں . اسکا مزاج , بود و باش , گفتگو , سوچ کچھ بھی ہو , اسکے بارے میں نہ سوچتے ہیں اور نہ دوسرے کو سوچنے دیتے ہیں . اسکی  تقلید فرض بنا لیتے ہیں  پھر یہی تقلید قومی خدمت کا محور ہو جاتی ہے .
ہونا یہ.چاہئیے کہ لیڈر کے مزاج کا بھی پورا احتساب کیا جائے , اسکی سوچ کو اپنی روایات کے مطابق پرکھا جائے , اسکے نظریات کی.چھانٹ پھٹک کی جائے , اسکے کردار پر توجہ کی جائے . کیسے ممکن ہے کہ دین کا باغی , قومی روایات سے نا بلد , دولت کا پجاری , غنڈہ مزاج اور بازاری زبان بولنے والا ہماری قوم کی بہتر رہنمائی کر سکے گا . مگر ہم لوگ چونکہ جانتے ہی نہیں کہ نظریہ کس بلا کا نام ہے , اسلئے ہم شخصیت کے نام پر سیاست کرتے ہیں . اکثر سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کی اجارہ داری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہم نے کبھی نظریاتی سیاست کی ہی نہیں .
ہم میں اس جرات کا فقدان ہے جو قوموں کی نظریاتی اساس ہوا کرتی ہے  .
جب تک یہ تبدیلی نہیں آئے گی کہ اپنے لیڈر کی غلط بات کو غلط کہا جائے , تب تک کچھ بھی بہتر نہیں ہو گا . ہم یونہی آپس میں الجھے رہیں گے . یہی روایات اپنی نسلوں کو دے کر چلے جائیں گے . ہمارے اکثر سیاست سے وابستہ لوگ , بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں اس جماعت سے تیس پینتیس سال سے جڑا بیٹھا ہوں . اور اس پر حکمران نسلوں کی چمچہ گیری کر رہا ہوں .
کیا یہ مزاج کبھی بدلے گا .
ازاد ھاشمی 

No comments:

Post a Comment