" نبیؐ کی محبت ، کیسی بدعت؟ "
عشق رسولؐ کی سرشاری تو ایمان کی معراج ہوتی ہے ، اسے بدعت کیسے کہا جا سکتا ہے ۔
بدعت ، کو جن جن زاویوں سے بھی بیان کیا جاتا ہے ، رسولؐ کی محبت کی سرشاری کسی بھی زاویے سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ یہ محبت نہ تو دین میں اختراع ہے ، نہ دین کی تعلیمات کو تبدیل کرتی ہے ، نہ دین سے متوازی کوئی تشریح دیتی ہے ، نہ اللہ کی عبادت میں مخل ہوتی ہے ۔ پھر بدعت کیسے ؟
میلاد النبی ؐ کے معترضین یہ بھی کہتے ہیں کہ بارہ ربیع الاول تو حضورؐ کا یوم وفات بھی ہے ۔ اسلئے دکھ کی بجائے خوشی چہ معنی دارد ۔ ہم مسلمان بھی عجیب ہیں ، اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ نبیؐ کے وصال کو بھی وہی مفہوم دے ڈالیں جو ہم اپنے اباو اجداد اور دوسرے انسانوں کو دیتے ہیں ۔ مگر یہ سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے کہ " رحمتہ العٰلمین " تو اسوقت تک زندہ ہے جب تک " عالمین " کا وجود ہے ۔ رحمت کو فنا نہیں آتا ہے ، یہ کیوں نہیں سوچتے ۔ یہ ادراک کی منزل ہے کہ نبیؐ کے وصال کو سمجھ لیں اور ادراک کی حد ہر کسی کی الگ الگ ہوتی ہے ۔
رہی بدعت تو جب قرآن نازل ہوا اور اسے ایک شکل دی گئی ، مگر اسے چھاپنے کا کام نبیؐ کے وصال کے بعد ہوا ، اسکے تراجم بعد میں ہوئے ، اس کے حاشیوں میں معانی اور تفسیر بعد میں لکھی گئی ، اس پر اعراب بعد میں لگائے گئے ۔ نماز تراویح کا تسلسل بعد میں ہوا اور اسے باقاعدہ رمضان کا حصہ بعد میں بنایا گیا ۔ ساری احادیث بعد میں جمع ہوئیں ۔ فقہ ، اجتہاد ، فلسفہ ، منطق اور تفاسیر بعد میں لکھی گئیں ۔ سارے مسالک بعد میں وجود میں آئے ۔ ان سب کو کیا کہا جانا چاہئیے ؟؟
چلیں ، اس سے ہٹ کر ایسی بدعات کا ذکر کرتے ہیں جو سراسر اسلام کے اساسی تخیل کے متضاد ہیں اور ہم نے بلا چوں چرا قبول کر رکھی ہیں ۔
جمہوریت کا طرز حکومت نہ نبیؑ کی تعلیم ہے اور نہ قران کی ۔ ہمارا قانون اسلام کا قانون ہی نہیں ۔ ہمارا رہن سہن اسلام کے مطابق نہیں ۔
ایسی بیشمار بدعات پر شیوخ ، مفسرین ، مجتہد اور محدثین سب خاموش ہیں ۔ ہمارے بیاہ شادی کے سارے رسم نبیؐ کی حیات سے متضاد ہیں ۔
نبیؐ کی ولادت پر خوش ہونے والوں کیلئے بدعت کے فتوے ۔ کیا یہ دل کا عناد نبیؐ کیلئے ہے یا خوشی منانے والوں سے مسلکی عداوت ہے ؟
میری ناقص عقل میں کبھی نہیں آیا کہ ایک معصوم بچے سے پیار کرو تو اسکے والدین خوش ہوتے ہیں کہ انکے بچے سے پیار کیا جاتا ہے ۔ پھر اللہ کے حبیبؐ سے پیار کرنے والوں سے اللہ
کیونکر ناراض ہو گا ؟
آزاد ھاشمی
١١ نومبر ٢٠١٨
Saturday, 10 November 2018
نبیؐ کی محبت ، کیسی بدعت؟
عید میلاد النبیؐ ، کس بات کی عید؟
" عید میلاد النبیؐ ، کس بات کی عید ؟"
جیسے ہی ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے ، نبیؐ کی محبت میں سرشار لوگ ، ایک دوسرے کو مبارک دینے لگتے ہیں ۔ ایسے میں کچھ " پکے مسلمان " بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں ۔
" کیسی عید ؟ کیا یہ عید صحابہؓ نے منائی ؟ کیا یہ عید خود رسولؐ نے منائی ؟ کیا یہ عید آل رسولؐ نے منائی ۔"
تاریخ سے ثبوت نہیں ملتا تو فتوی مل جاتا ہے کہ یہ بدعت ہے ۔ کیونکہ جو کام خود رسولؐ نے نہیں کیا اور نہ کرنے کا کہا ، نہ قرآن میں حکم نہ حدیث سے ثابت ، تو بدعت ہو گیا ۔
یہ تو وہی بتا سکتا ہے جو نبیؐ کی محبت میں سرشار ہے کہ وہ اس ماہ کی آمد پر اتنا خوش کیوں ہے ۔ میرے جیسا عام فہم تو مختصر جانتا ہے کہ ایمان کا اعلیٰ درجہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے ، جب ہم اپنے ماں باپ سے زیادہ اللہ اور رسولؐ سے محبت کریں ۔ ہم کتنی خوشیاں ہیں جو اپنے لئے ، اپنی اولاد کیلئے ، اپنے ماں باپ کیلئے مناتے ہیں ۔ اس میں بیاہ شادی ، تہوار اور دیگر مواقع شامل ہوتے ہیں ۔ نہ احادیث کی کتابیں کھولتے ہیں ، نہ صحابہؓ کی زندگیوں کے شب وروز کا مطالعہ کرتے ہیں ، نہ رسولؐ کا اسوہ دیکھتے ہیں ، بن سوچے بدعت پہ بدعت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ نہ کوئی " پکا مسلمان " توجہ دلاتا ہے ، نہ کوئی فتوی لگتا ہے ۔ صرف نبیؐ کی ولادت پر کیوں یاد آ جاتا ہے کہ بدعت ہوگئی ۔
مجھے تو خوشی بھی ہوتی ہے ، دل بھی کرتا ہے اور ذہن بھی مانتا ہے کہ یہ دن خوشی کا دن ہے ۔ یہی وہ دن ہے ، جس دن کیلئے کائنات کی تسخیر ہوئی ، یہی تو وہ دن ہے جس دن ، یہ بتانے والا آیا کہ حق کیا ہے ، باطل کیا ۔ جس دن بتانے والا آیا کہ اللہ ہی ہے جو کائنات کا رب ہے ، جس نے رب سے متعارف کرایا ، قرآن لا کر دیا اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچنے کی راہ دکھائی ۔ سب عیدیں تو اسی دن کے سبب سے ملیں ۔ پھر تو یہ دن ہر عید کے دن کا خالق ہے ۔
اس سے بڑی خوشی کا دن کونسا ہو گا کہ اسی روز آنے والے نے ہی بتایا کہ شرک کیا ہے ، کفر کیا ، بدعت کیا ۔ مجھے تو اسی لئے یہ دن " عید " لگتا ہے ۔ میں تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ جس دن اللہ نے اپنے حبیبؐ کو اس دنیا میں بھیجا ہوگا ۔ اللہ نے غصے کی حالت میں تو نہیں بھیجا ہوگا ۔ اپنی رضا سے بھیجا ہوگا ، اپنی خوشی سے بھیجا ہو گا ۔ یقینی طور اللہ خوش بھی ہوگا ، راضی بھی ۔ پھر اس دن کو عید کہہ لینے میں کیا حرج ہے ؟
آزاد ھاشمی
١٠ نومبر ٢٠١٨
اے اللہ ! کیوں نہیں دیتا مجھے
" اے اللہ ! کیوں نہیں دیتا مجھے ؟"
عمر رسیدہ شخص ، بار بار سر پہ ہاتھ مارتا اور چیخ چیخ کر کہتا ۔
" کیوں نہیں دیتا مجھے ۔ کیا تیرے خزانے خالی ہو گئے ہیں ۔ کیوں نہیں دیتا مجھے "
علاقے میں اسے عزت و تکریم حاصل تھی ۔ علم و آگہی سے بھی آراستہ تھا ، تحمل اور بردباری سے بھی اللہ نے نواز رکھا تھا ۔ مگر آج اسکی عجیب کیفیت تھی ۔ اللہ سے سوال نہیں کر رہا تھا ، گویا اللہ سے جھگڑ رہا تھا ۔ لہجہ انتہائی گلو گیر بھی تھا اور سوال کرنے کے طریقے میں عجیب سی شکایت تھی۔
" تو سب جانتا ہے ، پھر تجھے میرے دل کی خبر کیوں نہیں ۔ مانگ مانگ کر تھک گیا ہوں ۔ جو نہیں مانگتے انکو دئیے جاتا ہے ، میں مانگتا ہوں تو کیوں نہیں دیتا مجھے "
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے بابا پاگل ہو گیا ہے ۔
" کفر بول رہے ہو بڑے میاں " باریش شخص نے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
" جانتا ہوں تیری نظر میں کفر ہے ۔ اپنے رب سے بات کر رہا ہوں ۔ اس رب سے جو میری شہ رگ سے قریب ہے ۔ اتنا قریب ہو کر نہیں سنے گا تو لڑائی تو بنے گی نا ۔ کہتے ہیں اللہ اپنے بندے سے ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے ، کیوں مولوی صاحب لوگ کہتے ہیں نا؟ "
بابا جی نے باریش شخص سے پوچھا ۔
" جی سچ ہے " باریش شخص نے جواب دیا ۔
" میری ماں تو میری ہر ضد پوری کر دیتی تھی ۔ اللہ سے تو صرف ایک ہی ضد ہے کہ مجھے اتنا دے دے کہ تیرے بندوں کی خدمت کر سکوں ۔ میں کسی کو بھوک سے تڑپتا نہیں دیکھ سکتا ، کسی کو نہیں "
بابا جی نے پھر چیخنا شروع کر دیا
" تجھ سے ان کے لئے مانگتا ہوں ، تو سنتا ہی نہیں ۔ کیوں نہیں دیتا مجھے "
بابا جی نے ریسٹورنٹ کے باہر بھکاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوا کہا ۔
درد کی ٹیس بہت گہری تھی ۔ یہ لہجہ کفر تھا ، گستاخی تھی ، ضد تھی ، لگن تھی یا امید ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اللہ کا بندہ ، اپنے اللہ سے ، اللہ کے بندوں کیلئے مانگ رہا تھا ۔
میرے دل سے بھی دعا نکلی ،
" اے قادر مطلق ! اس کی آرزو پوری کر دے ، اسکی سن لے ، اسکی کمزوریوں کو دیکھے بغیر اسکی دعا قبول کر لے ۔ اگر یہ اس خدمت کے اہل نہیں تو اسے اسکا اہل کر دے ۔ اگر میری کوئی نیکی تجھے پسند ہے تو اسکے صدقے میں اسے نواز دے ۔"
آزاد ھاشمی
٩ نومبر ٢٠١٨
تربیت کا فقدان
" تربیت کا فقدان "
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں , جس ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں , جن درس گاہوں سے دانش ملتی ہے . یہ سب کچھ شخصیت سازی کرتا ہے . یہ بنیاد اگر کمزور ہو یا ٹیڑھی میڑھی ہو تو لاکھ جتن کر لیں . عمارت کبھی درست تکمیل تک نہیں پہنچے گی . یہی وہ خامی ہے جس نے ہماری قومی سوچ کو مفلوج کر دیا ہے . اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط . سیاسی لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ہر جتن کو اپنا حق سمجھتے ہیں . جلاو گھیراو , دھرنے , لانگ مارچ اور عوامی معمول زندگی کو درہم برہم کرنا بھی جائز اور عین قومی خدمت سمجھ لینا , عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے . جو اقتدار پر بیٹھ جاتے ہیں وہ ملکی وسائل کو باپ کی جاگیر سمجھ لیتے ہیں . چند ہزار لوگوں کے جلوس اور جلسے طاقت کا مظہر مانے جاتے ہیں . اب یہ سب معمول زندگی ہے , اصولہائے سیاست ہے .
جماعت پہ جماعت بنا دینا , مسالک کی دیواریں کھڑی کر دینا , خاندان اور برادری کو ایشو بنا لینا . سب تفریق ہے . اور تفریق میں بٹے ہوئے لوگ کبھی مقاصد تک نہیں پہنچ پاتے . اگر یہ سوچ لیا جائے کہ جس اللہ کو میں مانتا ہوں , جس قران کو سمجھنا مجھ پر فرض ہے , جس ہادئ برحق کا اسوہ میری رہبری کرتا ہے . کیوں نہ سب مل کر ایک ہو جائیں . کیوں نہ سب طاغوت کے خلاف اکٹھے ہو کر جدوجہد کریں . برائی کو برائی سمجھ کر متحدہ جدوجہد کیوں نہ کی جائے . یہ ٹولیوں میں بٹنے کی کیا ضرورت ہے . اگر یہ تربیت ہو تو کیا مقصد کا حصول مشکل ہو گا . کبھی نہیں . رستے روک دینا , معمولات زندگی کو درہم برہم کر دینا . کونسی دانش ہے . کونسا مذہب ہے , کونسی روایت ہے اور کونسی تدبیر ہے .
ہمارے سامنے , اس یتیم کی زندگی نمونہ ہے . جو ہر دنیاوی ضرورت سے محرومی میں تھا . جس کا ہر کوئی دشمن تھا . جس کے سامنے صدیوں کی مبہم روایات کی دیواریں تھیں . کفر , شرک , الحاد , ہٹ دھرمی , انا , بے حیائی , گناہ کی رغبت سے لتھڑے ہوئے لوگ . سب برا ہی برا تھا . اچھائی خام خیالی بن چکی تھی . مٹھی بھر ساتھیوں سے انقلاب لے آنا . یہ تھی رہنمائی . جو نہ ہمیں ماں باپ نے سکھائی , نہ استاد نے اور نہ معاشرہ سے ملی . اسکی ضرورت ہے . انقلاب خود بخود آجائیگا .
ازاد ھاشمی
Friday, 9 November 2018
عقائد کا فساد ( 6 )
عقائد کا فساد ( ٦ )
سورہ انفال میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
"کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا"
جب جب کوئی ہدایت کرنے والا نبی اور رسول مبعوث ہوا اور اپنی اپنی امت کو گمراہی کی تاریکی سے نکالنا چاہا ، جب بھی اللہ کی وحدانیت کی بات ہوئی ، جب بھی برائی سے روکا گیا ، مشرک ، گمراہ اور کافر متحد ہو کر سامنے آتے رہے ۔ اسی صورت حال سے اگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ان کفار اور مشرکین کی بات نہ مانی جائے ، انکی ہاں میں ہاں نہ ملائی جائے تو یہ فساد کی کیفیت پیدا کرنے کیلئے متحد ہو جائیں گے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے پوری دنیا کے مسلمان ان کفار کے کھڑے کئے گئے فساد کا شکار ہیں ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہر مذہب کے بانی کو ہدایت ، امن ،بھلائی اور باہمی یگانگت کیلئے مقرر کیا ۔ مگر انسان نے اپنے عقائد کو فاسد کر لیا ۔ اور جب انسان کا عقیدہ وایمان فاسد ہو جائے تو اسکے اعمال وافعال اور اخلاق وکردار میں بھی فساد آجاتاہے ،عقائد کے فساد سے مراد یہ بھی ہے کہ انسان کا عقیدہ کتاب وسنت کے مخالف ہو ۔
اگر ہم صرف امت مسلمہ کو دیکھیں کہ عقائد اور مسالک کا طویل و عریض محاذ کھول دیا ہے ، اور یہی مسالک اور عقائد اتحاد بین المسلمین کی بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ ایک اللہ ، ایک نبی اور ایک کتاب کو ماننے والی کئی ریاستیں اور طبقے ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں ۔ یہ قرآن کی تعلیمات سے انحراف ہے ۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ تفریق کا شکار مت ہونا ، ہم ہوگئے ۔ قرآن کی تعلیم ہے کفار سب تمہارے خلاف متحد ہیں اور تمہارے دوست نہیں ، ہم نے یقین نہیں کیا ، اللہ نے تاکید کی کہ آپس میں پھوٹ مت ڈالنا ، ہم نے گھر گھر میں پھوٹ ڈال لی ، اللہ نے کہا کہ جب رہنمائی چاہئے تو قرآن سے لینا ، ہم نے کفار سے مانگی ، اللہ نے کہا سود میرے خلاف اعلان جنگ ہے ہم نے اللہ سے جنگ چھیڑ لی ۔ یعنی عقائد کا فساد ہمیں پوری طرح گھیر چکا ہے ۔ مسالک کے لوگ ، اپنے مسلک سے ہٹ کر سوچنے پر راضی ہی نہیں ۔ غلط اور صحیح کی شناخت پر توجہ کا سوال باقی نہیں رہ گیا ۔ یہ ایک ایسا فساد ہے ، جس نے ہماری ساری قوت ختم کر ڈالی ہے ۔
--- جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٩ نومبر ٢٠١٨
Thursday, 8 November 2018
بلوچ ، پٹھان اور مطالعہ پاکستان
" بلوچ , پٹھان اور مطالعہ پاکستان "
پاکستان کی درسی کتب میں بلوچ اور پٹھان کی جو شناخت لکھی گئی ہے . اس سازش کیلئے مذمت کے الفاظ کافی نہیں . لکھنے والا , اسے منظوری دینے والے اور اسے چھاپنے والا , سب کے سب قوم کے مجرم ہیں . نفاق کی اس گھناونی سازش کو بد ترین انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے . اگر لکھنے والا پنجابی ہے , مہاجر ہے یا سندھی تو وہ اپنی قوم سے غداری کا ارتکاب کر رہا ہے . پٹھان اور بلوچ بہادر قومیں ہیں , میری پختہ رائے ہے کہ پاکستان کی سلامتی میں ان دونوں قوموں کا قابل قدر حصہ ہے . بہادر شخص کبھی مکاری نہیں کرتا اور غداری کو اپنی ہتک سمجھتا ہے . بلوچ قوم نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ انکا اعزاز ہے . جس طرح انکے حقوق پامال کئے جاتے رہے , اگر کسی دوسری قوم کے کئے جاتے تو کب کی دھما چوکڑی ہو چکی ہوتی . ساری محرومیوں کے باوجود قوم سے پر خلوص رہنا , بلوچوں کی شان ہے . سرداروں کے مطیع ہونے کے باوجود قومی مفادات سے جڑے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے . اسے گدی سے کھینچ لینے کی ضرورت ہے . پٹھان اگر مخلص نہ ہوتے , عقل سے پیدل ہوتے تو افغانستان کی گود میں بیٹھے ہوتے . ساری قربانیوں کو جمع کر لیا جائے تو پٹھانوں نے زیادہ قربانیاں دیں . قوم کو ان دونوں بہادر قوموں کا ممنون ہونا چاہئے , نہ کہ ان کی تضحیک کے پہلو تلاش کئے جائیں . اور بچوں کے نصاب میں انکی کردار کشی کی جائے . تعلیم میں اگر یہ رحجان پیدا ہو گیا تو یہ نفاق کا ایسا ناسور ہو گا , جسکا علاج ممکن نہیں ہو گا . اس سازش کے مرتکب لوگوں کو عبرت کا نشان بنایا جانا چاہئے .
ازاد ھاشمی
9 نومبر 2017
اقتدار کا پھندہ
" اقتدار کا پھندہ "
سارے جہانوں کا مالک نے ، اپنے نبیؐ کو سارے جہانوں کی رحمت بنا کر بھیجا . اس رحمت کی ٹھنڈک سے مسلمان واحد امت ہیں ، جو زیادہ مسفید ہوتے ہیں ۔ جو جتنا اس " رحمت " کے عشق اور فریفتگی میں غرق ہے ، اتنا ہی خوش بخت ہے ۔ جس کو اپنے ماں باپ سے زیادہ یہ عظیم ہستی پیاری نہیں وہ بد بخت ہے ، بد نصیب ہے ۔ بھلے سر پہ تاج سجا رکھا ہو ، بھلے کسی تخت پر بیٹھا ہو ۔
ابراہیمؑ کا دشمن نمرود بہت زور آور تھا ، بہت طاقتور تھا ، جس کو چاہتا آگ میں پھینک دیتا تھا ۔ انجام کیا ہوا؟ کتنی ذلت کہ تخت پر بیٹھ کر صبح شام سر پہ جوتے کھاتا تھا ۔ موسیٰ ؑ کا دشمن فرعون ، خدا بنا بیٹھا تھا ۔ مسجود بنا ہوا تھا ، انجام کیا ہوا ؟ ہر سال ہڈیوں پر زہر کی تہہ چڑھائی جاتی ہے ۔ ایسی بیشمار مثالیں ہیں کہ اقتدار کا پھندہ عبرت بنا ۔ رسوائی بنا ۔
عزت اسی کو نصیب ہوتی ہے ،جس پر اللہ راضی ہوتا ہے ۔ حکمرانی عزت کا نشان نہیں ہوا کرتی ۔ کئی حکمران ذلت اور رسوائی کی موت مرے ۔ کئی ایسے جن پر دنیا تھو تھو کرتی ہے ۔ یزید کو دیکھ لیں ۔ کتنی طاقت کہ مسجد نبوی میں گھوڑے باندھ دئیے ۔ اللہ کے نبیؐ کی پوری آل تہہ تیغ کردی ۔ انجام کیا ہوا ؟ آج اسکی قبر پر کتے پیشاب کرتے ہیں ۔ اللہ کے حبیبؑ کی محبت میں سرشاری کرنے والے کو قانون کا مجرم کہنے والے حکمران آج صبح شام قانون کے سامنے صفائیاں دیتے پھرتے ہیں ۔ کوئی نہیں مانتا ۔ اپنا بنایا ہوا جج ، انہیں کتے کیطرح گھسیٹ رہا ہے ۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوگا کہ کوئی کلمہ بھی پڑھے اور رسولؑ کی توہین کے مرتکب کو عزت اور توقیر بھی دے ۔ مصلحتوں کے شکار حکمران کچھ بھی کر سکتے ہیں ، مگر اللہ کے حبیبؐ پر بد گو زبان کو تحفظ نہیں دے سکتے ۔ اگر دیا ہے تو یاد رکھیں ، یہ اقتدار گلے کا پھندہ ہے ، کسی بھی وقت جھول جائیں گے ۔ یہ عارضی عزت کسی بھی وقت رسوائی بن جائیگی ۔ یہ نعرے لگانے والے خوشامدی ہی ، رسوائی پر مٹھائیاں بانٹیں گے ۔ ماضی قریب کی مثالوں سے سبق لیا ہوتا تو اچھا تھا ۔ عہد شکنی اور وہ بھی رسولؐ کی حرمت کے سوال پر ، گلے کا پھندہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٨ نومبر ٢٠١٨
Wednesday, 7 November 2018
عہد شکنی کی دوسری شکل ( 5)
"عہد شکنی کی دوسری شکل( ٥ )"
ہم نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو برقرار نہیں رکھا ۔ ہم غور سے دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں کئے گئے بہت سارے عہد توڑے جاتے ہیں اور یہ وہ عمل ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اللہ کے نبیؐ نے بہت بار فرمایا ۔
" جس شخص کے اندر ایفائے عہد نہیں اس کاد ین نہیں ہے۔"
یہ بھی فرمایا کہ منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ
"جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے "
ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جس معاشرہ میں وعدہ خلافی عام ہوجائے اس معاشرہ میں بغض اور فساد عام ہوجاتا ہے۔ تجارت ہو ، روز مرہ کا لین دین ہو ، یا دیگر معاشرتی معاملات ہوں ، ایفائے عہد انتہائی بنیادی کڑی ہے جو ہر طرح کی بہتری کی ضامن ہوتی ہے ۔
ایک عجیب سا رحجان جنم لے چکا ہے جسے عام فہم لفظوں میں پالیسی کہا جاتا ہے ، وہ تجارت میں ہو ، سیاست میں ہو یا عام معاشرتی معاملات میں ہو ، اسے صرف ذاتی مفاد تک محدود رکھا جانے لگا ہے ، کسی بھی وعدے سے مکر جانا ، عام سی بات بن کر رہ گئی ہے ۔ جبکہ مذہبی طور پر اس پر اللہ تعالیٰ کیطرف سے سخت تاکید بھی ہے اور انحراف پر سخت وعید بھی ۔ اس عہد شکنی نے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے ، اسکی ایک شکل بدامنی ، دوسری شکل افلاس اور تیسری شکل بد اعتمادی ہے ۔
المیہ یہ ہے کہ قومی قائدین عوام سے کئے جانے والے بیشتر وعدوں کو سیاسی ضرورت سمجھتے ہیں اور جانتے ہوئے کہ جو وعدے وہ کر رہے ہیں ، پورے کرنا ممکنات میں سے نہیں ۔ یہ وہ فساد ہے جو پوری قوم کو متاثر کرتا ہے اور جو زیادہ جھوٹ بولتا ہے وہ جیت جاتا ہے اور پوری قوم نقصان اٹھاتی ہے ۔ یہ وہ فساد ہے جس سے آج ہم بری طرح نبرد آزما ہیں ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٦ نومبر ٢٠١٨
عہد شکنی کا فساد (4)
" عہد شکنی کا فساد ( 4 )
یہاں دو الگ الگ عہد پر توجہ مقصود ہے ۔
ہم نے ایک عہد اللہ سے کر رکھا ہے اور دوسرے عہد وہ ہیں، جو روز مرہ معاملات زندگی میں معاشرے میں مختلف صورتوں میں عمل میں آتے رہتے ہیں ۔
سورہ رعد میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
"اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے "
ان آیات میں حکمت ہے کہ ہم نے جب ایمان لانے کا وعدہ کیا ، اور اقرار کیا کہ ہم اس وعدے پر قائم رہیں گے ۔ تو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ وہ کیا عہد ہے ، جو ہم نے کیا اور توڑ ڈالا ۔ جب اللہ کو حاکم مطلق مان لیتے ہیں ، اسکے احکامات کی اطاعت کا کماحقہ اعلان کرتے ہیں اور بعد میں ان احکامات سے سر کشی کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنے عہد سے انحراف کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کو جو اللہ سے کئے گئے عہد کو توڑتے ہیں ، سورہ بقرہ میں فاسق کہا گیا ہے ۔
اللہ اور بندے کے درمیان یعنی ہر شخص کا اللہ سے یہ عہد ہے کہ وہ سچا پکا مومن ہوگا اور جملہ معاملات میں شریعت الہی کی اتباع کرے گا۔ یہی بات سورۃ المائدۃ کی پہلی آیت میں بھی کہی گئی ہے، ارشاد ربانی ہے:’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، حدود کی پوری پابندی کرو‘‘
یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورہ میں تم پر عائد کی جارہی ہیں اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں۔
ہم نے سب حدود سے ، ایمان کی تمام شرائط سے اور زندگی کے تمام معاملات سے اللہ کو الگ کر کے اپنے راستے متعین کر لئے ، یہ وہ فساد ہے جسکا خمیازہ ہم روز بھگت رہے ہیں ۔ پورے جتن کے باوجود زندگی کے ہیجان سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ ہم نے یہ فساد اللہ کے ساتھ شروع کر رکھا ہے ۔
---- جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٥ نومبر ٢٠١٨
Tuesday, 6 November 2018
رسولؐ کی محبت کا سوال
" رسول کی محبت کا سوال "
کسی اللہ کے بندے نے ہر مسلمان سے سوال پوچھا ہے کہ
" کیا آپ رسول کی محبت میں جان قربان کر سکتے ہیں "
شاید کوئی مسلمان ہو گا جو "نہیں" لکھے گا . اس سے بڑا اعزاز کیا ہو گا , اس سے اچھی موت کیا ہو گی جو اللہ کے حبیب کی محبت کی سرشاری میں آ جائے .
سوال لکھنے والے نے نہ جانے کس مفہوم میں لکھ دیا , اسکے نزدیک اللہ کے حبیب کی محبت کا مفہوم کیا ہے . آج کے دور میں ایک رسم چل نکلی ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت کا نام لیکر اپنے قد کو بلند کیا جائے .
میرے جیسا ناقص العقل شخص تو یہ سمجھتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کیلئے نعرے لگاتے پھرنا محبت نہیں . محض دکھاوا ہے . محبت تو یہ ہے کہ انسان خود کو اس رنگ میں رنگنے کی کوشش میں لگ جائے , جو رنگ آپ کی ذات کو پسند ہے . وہ کردار بنا لے , جو کردار آپ کی تعلیم ہے . اس اخلاق کو اپنا لے جس اخلاق سے آپ نے گمراہ اور ہٹ دہرم عرب قوم کو ہدایت کے قریب تر کر دیا . آپ کی زندگی , آپ کے اسوہ حسنہ اور آپ کے فرمائے ہوئے احکامات کو راہ عمل بنانا , اصل محبت ہے . ایسے بن جائیں کہ آپ کی زبان اور آپکے ہاتھ سے کسی کو آزار نہ ملے . طاغوت آپ کی امانت داری اور صداقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے . اس راہ پر چلتے موت آ جائے تو یہی مطلوب ہے . شیطان نے کہا تھا کہ یہ آدم زمین پر فساد پھیلائے گا . شیطان کے اس اعلان کی نفی اللہ کی رضا ہے اور اسے عملی شکل اللہ کے حبیب کا درس . ہم فساد پھیلا کر آپ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی نہیں کر سکتے . ابلاغ کا جو طریقہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنایا اسے رہنما بنانا , محبت ہے . رحمت العالمین سے محبت کیلئے وہی سمت اختیار کرنا جو آپکا معمولات زندگی تھا , محبت ہے . اسکے علاوہ جو کچھ بھی کیا جائے وہ محبت کی فہرست سے باہر ہے .
ازاد ھاشمی
6 نومبر 2017
تجارت میں فساد ( 3)
" تجارت میں فساد ( ٣ )
سورہ اشعراء میں حکم باری تعالیٰ ہے ۔
"اور سیدھی صحیح ترازو سے تولا کرو،لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو ، بےباکی کے ساتھ زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو "
قرآنی تعلیمات میں فساد کے مضمون واضع کرتے ہوئے ، تجارتی قواعد و ضوابط میں ہے کہ تم اپنے اوزان کو متوازن رکھو ، اپنے لین دین کو درست رکھو ۔ کیونکہ ایسا نہ کرنے سے تم خیانت کے مرتکب ہو گے اور خیانت دوسرے کی حق تلفی ہے ۔ حق تلفی جبر ہے اور جبر فساد ۔ مال وزر انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس ضرورت میں کوئی بھی جھول حق تلفی کے ذمرے میں آتا ہے ۔ ایک تاجر اشیائے صرف میں اگر ملاوٹ کرتا ہے تو نہ صرف بد دیانت اور خائن ہے بلکہ مفسد ہے ، کیونکہ جس شے کی قیمت وصول کر رہا ہے وہ شے دے نہیں رہا ۔ یہ شریعت ہے کہ ہم کسب حرام سے اجتناب کریں ، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو شریعت کے قانون میں خرابی پیدا کرتے ہیں ، جو اللہ کے قانون کے مطابق فساد فی الارض ہی کی ایک شکل ہے ۔
اسی طرح خرید وفروخت میں دھوکہ دھی، خیانت، جھوٹی قسمیں کھانا نیز غبن وغصب، ناجائز طریقوں سے مال کمانا ، سب فساد ( معاشرتی خرابی ) کے ذمرے میں آتا ہے ۔
اشیائے صرف کی ذخير ہ اندوزی کرنا، جس سے قلت پیدا ہو اور زیادہ منافع کمایا جا سکے ، فساد فی الارض کی ایک شکل ہے کیونکہ اسکا اثر ہر شہری پر بالعموم اور غرباء پر بالخصوص پڑتا ہے ، انکی زندگی ہیجان کی کیفیت سے دوچار ہو جاتی ہے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٥ نومبر ٢٠١٨