" جنسی بے راہروی بھی فساد ( ٢ )"
سورہ العنکبوت میں ارشاد خداوندی ہے۔
" اور لوطؑ کا بھی ذکر کرو جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بدکاری پر اتر آئے ہو ، جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا ، کیا تم مردوں کے پاس بد فعلی کے لئے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بےحیائیوں کا کام کرتے ہو ، اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ، لوطؑ نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما۔"
قرآن پاک میں یہاں جن افعال بد کا ذکر ہوا ہے ، اس میں لواطت ، جنسی بے راہ روی ، اسکا محافل میں تذکرہ اور اللہ کے بھیجے ہوئے نبی کی بات ماننے کی بجائے عذاب پر چیلنج ہیں ۔ یہ سب افعال چند لوگوں تک محدود نہیں تھے بلکہ پوری قوم کا مزاج بن گئے تھے ۔ یہاں ایک امر واضع ہو جاتا ہے کہ فحاشی وعریانیت ،تبرج وبےحجابی، لواطت وزنا کاری اور ہر طرح کے فواحش ومنکرات پر اصرار اور ضد بھی فساد فی الارض ہیں۔
ہم جس یورپ اور جس ترقی یافتہ لوگوں کی تقلید پر کمر باندھے بیٹھے ہیں ، یہ تمام اوصاف ان قوموں کا مزاج ہیں ۔ گویا جو فعل اللہ کو نا پسند ہے ، اس کو اپنا لینا ، اس پر ضد کرنا ، مصلحین سے تکرار کرنا اور ان سے یہ کہنا کہ جو مصیبت ، جو عذاب تم لانا چاہتے ہو ، لے آو ۔ فساد فی الارض ہے ۔ جس کے اثرات بہت ساری موذی بیماریوں کی شکل میں ، ان لوگوں تک بھی پہنچ رہے ہیں ، جو خود تو ان گناہوں میں ملوث نہیں مگر متاثر ضرور ہوتے ہیں ۔
دیکھنا یہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان ، اس فساد میں کس حد تک شامل ہو چکے ہیں اور کس حد تک آگے جانے کیلئے کوشاں ہیں ۔ اور جو اس فساد کو پھیلا رہے ہیں انکے بارے میں ہمارے کیا تاثرات ہیں ۔ یہ وہ فساد ہے جو قوم در قوم کو ختم کر ڈالتا ہے ۔
--- جاری ہے ---
آزاد ھاشمی
٤ نومبر ٢٠١٨
Monday, 5 November 2018
جنسی بے راہروی بھی فساد ( 2 )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment