Tuesday, 6 November 2018

رسولؐ کی محبت کا سوال

" رسول کی محبت کا سوال "
کسی اللہ کے بندے نے ہر مسلمان سے سوال پوچھا ہے کہ
" کیا آپ رسول کی محبت میں جان قربان کر سکتے ہیں "
شاید کوئی مسلمان ہو گا جو "نہیں" لکھے گا . اس سے بڑا اعزاز کیا ہو گا , اس سے اچھی موت کیا ہو گی جو اللہ کے حبیب کی محبت کی سرشاری میں آ جائے .
سوال لکھنے والے نے نہ جانے کس مفہوم میں لکھ دیا , اسکے نزدیک اللہ کے حبیب کی محبت کا مفہوم کیا ہے . آج کے دور میں ایک رسم چل نکلی ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت کا نام لیکر اپنے قد کو بلند کیا جائے .
میرے جیسا ناقص العقل شخص تو یہ سمجھتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کیلئے نعرے لگاتے پھرنا محبت نہیں . محض دکھاوا ہے . محبت تو یہ ہے کہ انسان خود کو اس رنگ میں رنگنے کی کوشش میں لگ جائے , جو رنگ آپ کی ذات کو پسند ہے . وہ کردار بنا لے , جو کردار آپ کی تعلیم ہے . اس اخلاق کو اپنا لے جس اخلاق سے آپ نے گمراہ اور ہٹ دہرم عرب قوم کو ہدایت کے قریب تر کر دیا . آپ کی زندگی , آپ کے اسوہ حسنہ اور آپ کے فرمائے ہوئے احکامات کو راہ عمل بنانا , اصل محبت ہے . ایسے بن جائیں کہ آپ کی زبان اور آپکے ہاتھ سے کسی کو آزار نہ ملے . طاغوت آپ کی امانت داری اور صداقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے . اس راہ پر چلتے موت آ جائے تو یہی مطلوب ہے . شیطان نے کہا تھا کہ یہ آدم زمین پر فساد پھیلائے گا . شیطان کے اس اعلان کی نفی اللہ کی رضا ہے اور اسے عملی شکل اللہ کے حبیب کا درس . ہم فساد پھیلا کر آپ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی نہیں کر سکتے . ابلاغ کا جو طریقہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنایا اسے رہنما بنانا , محبت ہے . رحمت العالمین سے محبت کیلئے وہی سمت اختیار کرنا جو آپکا معمولات زندگی تھا , محبت ہے . اسکے علاوہ جو کچھ بھی کیا جائے وہ محبت کی فہرست سے باہر ہے .
ازاد ھاشمی
6 نومبر 2017

No comments:

Post a Comment