" اقتدار کا پھندہ "
سارے جہانوں کا مالک نے ، اپنے نبیؐ کو سارے جہانوں کی رحمت بنا کر بھیجا . اس رحمت کی ٹھنڈک سے مسلمان واحد امت ہیں ، جو زیادہ مسفید ہوتے ہیں ۔ جو جتنا اس " رحمت " کے عشق اور فریفتگی میں غرق ہے ، اتنا ہی خوش بخت ہے ۔ جس کو اپنے ماں باپ سے زیادہ یہ عظیم ہستی پیاری نہیں وہ بد بخت ہے ، بد نصیب ہے ۔ بھلے سر پہ تاج سجا رکھا ہو ، بھلے کسی تخت پر بیٹھا ہو ۔
ابراہیمؑ کا دشمن نمرود بہت زور آور تھا ، بہت طاقتور تھا ، جس کو چاہتا آگ میں پھینک دیتا تھا ۔ انجام کیا ہوا؟ کتنی ذلت کہ تخت پر بیٹھ کر صبح شام سر پہ جوتے کھاتا تھا ۔ موسیٰ ؑ کا دشمن فرعون ، خدا بنا بیٹھا تھا ۔ مسجود بنا ہوا تھا ، انجام کیا ہوا ؟ ہر سال ہڈیوں پر زہر کی تہہ چڑھائی جاتی ہے ۔ ایسی بیشمار مثالیں ہیں کہ اقتدار کا پھندہ عبرت بنا ۔ رسوائی بنا ۔
عزت اسی کو نصیب ہوتی ہے ،جس پر اللہ راضی ہوتا ہے ۔ حکمرانی عزت کا نشان نہیں ہوا کرتی ۔ کئی حکمران ذلت اور رسوائی کی موت مرے ۔ کئی ایسے جن پر دنیا تھو تھو کرتی ہے ۔ یزید کو دیکھ لیں ۔ کتنی طاقت کہ مسجد نبوی میں گھوڑے باندھ دئیے ۔ اللہ کے نبیؐ کی پوری آل تہہ تیغ کردی ۔ انجام کیا ہوا ؟ آج اسکی قبر پر کتے پیشاب کرتے ہیں ۔ اللہ کے حبیبؑ کی محبت میں سرشاری کرنے والے کو قانون کا مجرم کہنے والے حکمران آج صبح شام قانون کے سامنے صفائیاں دیتے پھرتے ہیں ۔ کوئی نہیں مانتا ۔ اپنا بنایا ہوا جج ، انہیں کتے کیطرح گھسیٹ رہا ہے ۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوگا کہ کوئی کلمہ بھی پڑھے اور رسولؑ کی توہین کے مرتکب کو عزت اور توقیر بھی دے ۔ مصلحتوں کے شکار حکمران کچھ بھی کر سکتے ہیں ، مگر اللہ کے حبیبؐ پر بد گو زبان کو تحفظ نہیں دے سکتے ۔ اگر دیا ہے تو یاد رکھیں ، یہ اقتدار گلے کا پھندہ ہے ، کسی بھی وقت جھول جائیں گے ۔ یہ عارضی عزت کسی بھی وقت رسوائی بن جائیگی ۔ یہ نعرے لگانے والے خوشامدی ہی ، رسوائی پر مٹھائیاں بانٹیں گے ۔ ماضی قریب کی مثالوں سے سبق لیا ہوتا تو اچھا تھا ۔ عہد شکنی اور وہ بھی رسولؐ کی حرمت کے سوال پر ، گلے کا پھندہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٨ نومبر ٢٠١٨
Thursday, 8 November 2018
اقتدار کا پھندہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment