عقائد کا فساد ( ٦ )
سورہ انفال میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
"کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا"
جب جب کوئی ہدایت کرنے والا نبی اور رسول مبعوث ہوا اور اپنی اپنی امت کو گمراہی کی تاریکی سے نکالنا چاہا ، جب بھی اللہ کی وحدانیت کی بات ہوئی ، جب بھی برائی سے روکا گیا ، مشرک ، گمراہ اور کافر متحد ہو کر سامنے آتے رہے ۔ اسی صورت حال سے اگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ان کفار اور مشرکین کی بات نہ مانی جائے ، انکی ہاں میں ہاں نہ ملائی جائے تو یہ فساد کی کیفیت پیدا کرنے کیلئے متحد ہو جائیں گے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے پوری دنیا کے مسلمان ان کفار کے کھڑے کئے گئے فساد کا شکار ہیں ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہر مذہب کے بانی کو ہدایت ، امن ،بھلائی اور باہمی یگانگت کیلئے مقرر کیا ۔ مگر انسان نے اپنے عقائد کو فاسد کر لیا ۔ اور جب انسان کا عقیدہ وایمان فاسد ہو جائے تو اسکے اعمال وافعال اور اخلاق وکردار میں بھی فساد آجاتاہے ،عقائد کے فساد سے مراد یہ بھی ہے کہ انسان کا عقیدہ کتاب وسنت کے مخالف ہو ۔
اگر ہم صرف امت مسلمہ کو دیکھیں کہ عقائد اور مسالک کا طویل و عریض محاذ کھول دیا ہے ، اور یہی مسالک اور عقائد اتحاد بین المسلمین کی بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ ایک اللہ ، ایک نبی اور ایک کتاب کو ماننے والی کئی ریاستیں اور طبقے ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں ۔ یہ قرآن کی تعلیمات سے انحراف ہے ۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ تفریق کا شکار مت ہونا ، ہم ہوگئے ۔ قرآن کی تعلیم ہے کفار سب تمہارے خلاف متحد ہیں اور تمہارے دوست نہیں ، ہم نے یقین نہیں کیا ، اللہ نے تاکید کی کہ آپس میں پھوٹ مت ڈالنا ، ہم نے گھر گھر میں پھوٹ ڈال لی ، اللہ نے کہا کہ جب رہنمائی چاہئے تو قرآن سے لینا ، ہم نے کفار سے مانگی ، اللہ نے کہا سود میرے خلاف اعلان جنگ ہے ہم نے اللہ سے جنگ چھیڑ لی ۔ یعنی عقائد کا فساد ہمیں پوری طرح گھیر چکا ہے ۔ مسالک کے لوگ ، اپنے مسلک سے ہٹ کر سوچنے پر راضی ہی نہیں ۔ غلط اور صحیح کی شناخت پر توجہ کا سوال باقی نہیں رہ گیا ۔ یہ ایک ایسا فساد ہے ، جس نے ہماری ساری قوت ختم کر ڈالی ہے ۔
--- جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٩ نومبر ٢٠١٨
Friday, 9 November 2018
عقائد کا فساد ( 6 )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment