" عہد شکنی کا فساد ( 4 )
یہاں دو الگ الگ عہد پر توجہ مقصود ہے ۔
ہم نے ایک عہد اللہ سے کر رکھا ہے اور دوسرے عہد وہ ہیں، جو روز مرہ معاملات زندگی میں معاشرے میں مختلف صورتوں میں عمل میں آتے رہتے ہیں ۔
سورہ رعد میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
"اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے "
ان آیات میں حکمت ہے کہ ہم نے جب ایمان لانے کا وعدہ کیا ، اور اقرار کیا کہ ہم اس وعدے پر قائم رہیں گے ۔ تو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ وہ کیا عہد ہے ، جو ہم نے کیا اور توڑ ڈالا ۔ جب اللہ کو حاکم مطلق مان لیتے ہیں ، اسکے احکامات کی اطاعت کا کماحقہ اعلان کرتے ہیں اور بعد میں ان احکامات سے سر کشی کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنے عہد سے انحراف کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کو جو اللہ سے کئے گئے عہد کو توڑتے ہیں ، سورہ بقرہ میں فاسق کہا گیا ہے ۔
اللہ اور بندے کے درمیان یعنی ہر شخص کا اللہ سے یہ عہد ہے کہ وہ سچا پکا مومن ہوگا اور جملہ معاملات میں شریعت الہی کی اتباع کرے گا۔ یہی بات سورۃ المائدۃ کی پہلی آیت میں بھی کہی گئی ہے، ارشاد ربانی ہے:’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، حدود کی پوری پابندی کرو‘‘
یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورہ میں تم پر عائد کی جارہی ہیں اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں۔
ہم نے سب حدود سے ، ایمان کی تمام شرائط سے اور زندگی کے تمام معاملات سے اللہ کو الگ کر کے اپنے راستے متعین کر لئے ، یہ وہ فساد ہے جسکا خمیازہ ہم روز بھگت رہے ہیں ۔ پورے جتن کے باوجود زندگی کے ہیجان سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ ہم نے یہ فساد اللہ کے ساتھ شروع کر رکھا ہے ۔
---- جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٥ نومبر ٢٠١٨
Wednesday, 7 November 2018
عہد شکنی کا فساد (4)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment