" تجارت میں فساد ( ٣ )
سورہ اشعراء میں حکم باری تعالیٰ ہے ۔
"اور سیدھی صحیح ترازو سے تولا کرو،لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو ، بےباکی کے ساتھ زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو "
قرآنی تعلیمات میں فساد کے مضمون واضع کرتے ہوئے ، تجارتی قواعد و ضوابط میں ہے کہ تم اپنے اوزان کو متوازن رکھو ، اپنے لین دین کو درست رکھو ۔ کیونکہ ایسا نہ کرنے سے تم خیانت کے مرتکب ہو گے اور خیانت دوسرے کی حق تلفی ہے ۔ حق تلفی جبر ہے اور جبر فساد ۔ مال وزر انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس ضرورت میں کوئی بھی جھول حق تلفی کے ذمرے میں آتا ہے ۔ ایک تاجر اشیائے صرف میں اگر ملاوٹ کرتا ہے تو نہ صرف بد دیانت اور خائن ہے بلکہ مفسد ہے ، کیونکہ جس شے کی قیمت وصول کر رہا ہے وہ شے دے نہیں رہا ۔ یہ شریعت ہے کہ ہم کسب حرام سے اجتناب کریں ، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو شریعت کے قانون میں خرابی پیدا کرتے ہیں ، جو اللہ کے قانون کے مطابق فساد فی الارض ہی کی ایک شکل ہے ۔
اسی طرح خرید وفروخت میں دھوکہ دھی، خیانت، جھوٹی قسمیں کھانا نیز غبن وغصب، ناجائز طریقوں سے مال کمانا ، سب فساد ( معاشرتی خرابی ) کے ذمرے میں آتا ہے ۔
اشیائے صرف کی ذخير ہ اندوزی کرنا، جس سے قلت پیدا ہو اور زیادہ منافع کمایا جا سکے ، فساد فی الارض کی ایک شکل ہے کیونکہ اسکا اثر ہر شہری پر بالعموم اور غرباء پر بالخصوص پڑتا ہے ، انکی زندگی ہیجان کی کیفیت سے دوچار ہو جاتی ہے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٥ نومبر ٢٠١٨
Tuesday, 6 November 2018
تجارت میں فساد ( 3)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment