تاریخ سندھ غلط فہمیوں کا ازالہ
(خصوصاّ سیکولرز کا منہ بند کرنے کیلئے )
محمد بن قاسم سے پہلے کا سندھ:
“تیرہ سو سال پہلے سندھ کا اطلاق جس علاقے پر ہوتا تھا وہ بہت لمبا اور چوڑا تھا۔
اسلام سے پہلے راجا داہر کی حکومت کے زمانے میں جس ملک کو سندھ کے نام سے موسوم کرتے تھے، وہ سمت مغرب میں مکران تک، جنوب میں بحر عرب اور گجرات تک، مشرق میں موجودہ مالوہ کے وسط اور راجپوتانے تک اور شمال میں ملتان سے گزر کر جنوبی پنجاب کے اندر تک وسیع تھا اور عرب مورخین اسی سارے علاقے کو سندھ کہتے تھے۔
تاریخ س پتا چلتا ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جب آریہ اس ملک میں آئے تو اُنھوں نے اس کا نام ‘سندھو’ رکھا، کیونکہ وہ اپنی زبان میں دریا کو ‘سندھو’ کہتے تھے۔ جو رفتہ رفتہ سندھ کہلائے جانے لگا۔ یہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں سال گزر جانے پر بھی اس کا نام سندھ ہی ہے۔
آریوں نے سندھ کے اس پار جتنے ملک فتح کیے، انھوں نے سب کا نام سندھ ہی رکھا۔ یہاں تک کہ پنجاب کی سرحد سے آگے بڑھ گئے، جب گنگا پہنچ کر رکے تو اُس کا نام آریہ ورت رکھا، مگر ہندوستان سے باہر اس نام کو شہرت حاصل نہ ہوئی۔
ایرانیوں نے اپنے لہجے میں سندھ کو ہند کر ڈالا اور یونانیوں نے ‘ھ’ کو اس کے قریب المخرج حرف ہمزہ سے بدل کر اند کر دیا، رومن میں یہ لفظ اند سے اندیا ہو گیا اور انگریزی زبان میں چونکہ ‘دال’ نہیں اس لیے وہ انڈیا بن گیا.
اسلام سے پہلے سندھ میں جو راجا حکومت کرتے تھے وہ رائے کہلاتے تھے، جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہاں رائے حکومت تھی جو ایک سو سینتیس سال تک رہی۔ اس حکومت کے پانچ راجا گزرے ہیں جو عقیدتاً بدھ مذہب کے پیرو تھے،
اُن کے نام یہ ہیں:
۱۔ رائے ڈیوانچ
۲۔ رائے سیھرس
۳۔ رائے ساہ سی
۴۔ رائے سیھرس ثانی
۵۔ رائے ساہ سی ثانی
(تاریخ سندھ – اعجاز الحق قدوسی، صفحہ نمبر1,2,4 اشاعت بار دوم: فروری 1976، ناشر: مرکزی اردو بورڈ، لاہور)
راجہ داہر کی اپنی بہن سے شادی:
چچ کی موت کے بعد اس کا بھائی چندر راجہ بنا۔ چند سالوں میں وہ فوت ہوگیا تو شمالی سندھ میں چچ کا بڑا بیٹا دھرسیہ راجہ بنااور جنوبی سندھ میں چھوٹا بیٹا داہر ۔چچ کی ایک بیٹی تھی، دھرسیہ نے اس کے جہیز کا سامان تیار کیا اور اسے داہر کے پاس بھیج دیا کہ اس کی شادی کردی جائے۔ داہر نے ہندو جوتشیوں سے زائچہ نکلوایا ۔جوتشیوں نے کہا کہ آپ کی بہن بہت نصیب والی ہے۔یہ جس کے پاس رہے گی اس کے پاس سندھ کی حکومت ہوگی۔داہر نے اس ڈر سے کہ کہیں اس کے ہاتھوں سے حکومت نہ چلی جائے وزیر باتدبیر سے مشورہ کیا، وزیر نے مشورہ دیا کہ آپ اپنی بہن سے شادی کرلیں، بات اچھی ہو یا بری لوگ دو چار دن یاد رکھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔لوگوں نے تو راج پاٹ کے چکر میں بھائیوں اور باپ تک کو قتل کرادیا،بہن سے شادی تو معمولی بات ہے۔
وزیر کے مشورے پر عمل کرکے داہر نے اپنی بہن سے شادی رچالی، مگر دھرسیہ کو یہ بات ناگوار گزری اور وہ ایک لشکر جرار لے کر برہمن آباد سے روانہ ہوا اور وادی مہران کے جنوبی علاقے نیرون کوٹ (حیدرآباد) پہنچا اور اس نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ اسی دوران چیچک کی وبا پھیلی اور دھرسیہ فوت ہوگیا۔ اب راجہ داہر پورے سندھ کا راجہ بن گیا اور اس کی خود سری حد سے بڑھ گئی۔قزاقی ،لوٹ مار اور غنڈہ گردی کرنے والے داہر کے سایہ عافیت میں پناہ لیتے تھے۔
(تاریخ سندھ، صفحہ 45-46)
سندھ میں اسلام:
برصغیر میں اسلام جنوبی ہند پہنچا- مسلمان تاجر اور مبلغین ساتویں صدی عیسوی میں (یاد رہے کہ رسول اللہۖ کی وفات 632ء میں ہوئی تھی- یعنی آپ کی وفات کے بعد جلد ہی مسلمان) مالبار اور جنوبی سواحل کے دیگر علاقوں میں آنے جانے لگے- مسلمان چونکہ بہترین اخلاق و کردار کے مالک اور کاروباری لین دین میں دیانتدار واقع ہوئے تھے- لہذا مالبار کے راجاؤں، تاجروں اور عام لوگوں نے ان کے ساتھ رواداری کا سلوک روا رکھا- چنانچہ مسلمانوں نے برصغیر پاک و ہند کے مغربی ساحلوں پر قطعی اراضی حاصل کرکے مسجدیں تعمیر کیں- (یاد رہے کہ اس وقت خانقاہوں کی تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا) اور اپنے دین کی تبلیغ میں مصروف ہوگئے-
ہر مسلمان اپنے اخلاق اور عمل کے اعتبار سے اپنے دین کا مبلغ تھا نتیجہ عوام ان کے اخلاق و اعمال سے متاثر ہوتے چلے گئے- تجارت اور تبلیغ کا یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہا یہاں تک کہ مالابار میں اسلام کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوا اور وہاں کا راجہ بھی مسلمان ہوگیا-
جنوبی ہند میں فروغ اسلام کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں جنوبی ہند مذہبی کشمکش کا شکار تھا- ہندو دھرم کے پیروکار بدھ مت اور جین مت کے شدید محالف اور ان کی بیخ کنی میں مصروف تھے-
ان حالات میں جب مبلغین اسلام نےتوحید باری تعالی اور ذات پات اور چھوت چھات کو لا یعنی اور خلاف انسانیت قرار دیا، تو عوام جو ہزاروں سال سے تفرقات اور امتیازات کا شکار ہورہے تھے- بے اختیار اسلام کی طرف مائل ہونے لگے- چونکہ حکومت اور معاشرہ کی طرف سے تبدیلی مذھب پر کوئی پابندی نہیں تھی- لہذا ہزاروں غیر مسلم مسلمان ہوگئے- (تاریخ پاک وہند، ص:390)
اسندھ میں اسلام کی آمد:
1۔ دور فاروقی
دور فاروقی میں بحرین وعمان کے حاکم عثمان بن ابوالعاص ٹقفی نے 636ء-637ء میں (وفات رسول اللہ سے صرف 4 سال بعد) ایک فوجی مہم تھانہ نزد ممبئی میں بھیجی- پھر اس کی اطلاع حضرت عمر رض کو دی- آپ ناراض ہوئے اور لکھا” تم نے میری اجازت کے بغیر سواحل ہند پر فوج بھیجی- اگر ہمارے آدمی وہاں مارے جاتے تو میں تمہارے قبیلہ کے اتنے ہی آدمی قتل کرڈالتا” (تاریخ پاک وہند ص: 18)
2۔ عہد عثمانی
عہد عثمانی میں عراق کے حاکم عبداللہ بن عامر نے حکیم بن حبلہ کو بریصغیر سرحدی حالات کی تحقیق پر مامور کیا- واپسی پرانہوں نے حضرت عثمان رض کو اپنی رپورٹ میں بتلایا کہ ” وہاں پانی کیمیاب ہے، پھل نکمے ہیں، ڈاکو بہت دلیر ہیں اگر قلیل التعداد فوج بھیجی تو ہلاک ہوجائے گی اور اگر زیادہ لشکر بھیجا گیا، تو بھوکوں مرجائے گا” اس رپورٹ کی بناء پر حضرت عثمان غنی رض نے مہم بھیجنے کا ارادہ ترک کردیا۔ (تاریخ پاک وہند ص: 19)
3۔ دور معاویہ
حضرت امیر معاویہ رض کے دور حکومت میں مشہور سپہ سالار مہلب بن ابی صفرہ نے برصغیر کی سرحد پر حملہ کیا اور لاھور تک بڑھ آیا- انہی ایام میں خلیفہ اسلام نے ایک اور شپہ سالار عبداللہ بن سوار عبدی کو سواحل برصغیر کے سرکش لوگوں کی گوشمالی کے لیے 4 ھزار کی عسکری جمیعت کے ساتھ بھیجا- اس نے قیقان کے باشندوں کو سخت شکست دی اور مال غنیمت لے کر واپس چلاگیا- (تاریخ پاک وہند ص:19)
4۔ عہد ولید بن مالک:
712ء یعنی 93ھ میں ولید بن مالک کے زمانہ میں وہ واقعہ پیش آیا جس نے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کے سلسلہ میں بڑا موثر کردار ادا کیا؛ یعنی محمد بن قاسم رح نے اس سال سندھ فتح کرلیا-
اس مہم میں محمد بن قاسم نے دیبل، نیرون، سیوستان، سیسم، رادڑ، برہمن آباد، اوور، باتیہ (موجودہ بہاولپور کے قرب و جوار میں موجود تھا)، اور ملتان کو فتح کیا اور قنوج کی تسخیر کا ارادہ کررہا تھا کہ اسے واپس بلالیا گیا-
محمد بن قاسم رح کے جانے کے بعد فتوحات کا سلسلہ اچانک رک گیا مگر عرب سندھ و ملتان پر 200 سال سے زیادہ عرصہ تک (یعنی 10 صدی عیسوی تک) قابض رہے، چوتھی صدی ہجری تک خلیفۃ المسلمین والیان سندھ کا تقرر کرتے- اس دور کے سندھ میں عربوں کی دو ریاستیں قائم ہوگئیں- ایک ملتان اور دوسری منصورہ کہلاتی تھی۔ (تاریخ پاک وہند ص: 35)
محمد بن قاسم کے سندھ آمد کے اسباب:
محمد بن قاسم سیکولر طبقہ کے نزدیک اسلامی تاریخ کے قابل نفرت کرداروں میں سے ایک ہے ، یہ طبقہ اس پر طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے اور اسکے مقابلے میں راجہ داہر کو اپنا ہیرو گردانتا ہے، محمد بن قاسم کے متعلق پھیلائی گئی باتیں غیر مصدقہ بے بنیاد الزامات سے زیادہ کچھ نہیں۔
تاریخ کی مستندکتابوں سے محمد بن قاسم اور سندھ کے حالات پر تبصرہ پیش خدمت ہے۔
سندھ پر تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھنے والی قاضی اسماعیل کی کتاب چچ نامہ، جسے حال ہی میں سندھ کے بلند پائے کے محقق و مؤرخ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کی تحقیق سے سندھی زبان کے ترجمان ادارے سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا ہے۔
قاضی صاحب فتحہ نامہ سندھ المعروف چچ نامہ میں محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ کرنے کی وجوہ بیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ
“سراندیپ کے حاکم نے جزیرہ یا قوت سے حجاج بن یوسف کے لیے کچھ قیمتی تحائف روانہ کیے جس قافلے میں کچھ مسلمان عورتیں بیت اﷲ کی زیارت اور تخت گاہ کو دیکھنے کی شوق میں کشتیوں پر سوار ہوگئیں؛ یہ قافلہ قازرون کے علاقے میں پہنچا تو مخالف سمت ہوائیں کشتیوں کو دیبل کے کناروں کی طرف لے آئیں۔ جہاں نکامرہ کے ٹولے نے آٹھوں جہازوں پر دھاوا بول دیا، املاک کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو گرفتار کیا۔
اہل سراندیپ نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ تحائف بادشاہ کے لیے جا رہے ہیں لہٰذا آپ یہ مال فوراً واپس کریں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور فاخرانہ انداز میں کہا کہ آج اگر کوئی تمہارا دادرس ہے تو اسے پکارو، ان مغویوں میں سے ایک آدمی فرار ہو کر حجاج کے پاس پہنچا اور حجاج کو کہا کہ مسلمان عورتیں راجا داھر کے پاس قید ہیں جو تجھے مدد کے لیے پکار رہی ہیں، اس پر حجاج نے لبیک کہا “۔ (چچہ نامہ ص ۱۲۱)
انہیں دنوں مسلمان اندلس، اسپین اور ترکستان کے محاذ علی الترتیب موسیٰ بن نصیر اور قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں کھول چکے تھے اور ایک تیسرا بڑا محاذ کھولنے کی گنجائش نہیں تھی اسی لیے حجاج نے اتمامِ حجت اور صورتِ حال کو پر اَمن ماحول میں نپٹانے کے لیے راجہ داہر حاکمِ سندھ کو لکھ بھیجا اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ لیکن راجہ داہر نے جواب دیا کہ
” عورتوں اور بچوں کو قید کرنا اور مال و اسباب کو لوٹنا بحری قزاقوں کا فعل ہے جو میرے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ لہٰذا میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ (چیچہ نامہ ص ۱۳۱)
اگر حجاج بن یوسف اور ان کے کمانڈر مال و اسباب چاہتے تھے تو یہ سفارتی خط ارسال نہ کرتے۔ بلکہ سیدھا حملہ کرتے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو لوٹنے والے راجہ داہر کے ہی لوگ تھے لوٹا گیا مال و دولت اور عورتیں بعد میں راجہ دہر کے ہی کمانڈروں سے برآمد ہوئیں۔
راجہ دہر کے اس جواب کے بعد جو جوابی خط محمد بن قاسم نے ارسال کیا۔ اس کا متن بھی چچہ نامہ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں جس سے سارا معاملہ نصف النہار کی طرح واضح ہو جا تا ہے کہ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے محمد بن قاسم کو حملے پر مجبور کیا۔
”ہمیں لشکر کشی کا معاملہ اس لیے پیش آیا کہ تم لوگوں نے سرا ندیپ سے آئے ہوئے مال و اسباب کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو قید کیا۔ جب تم لوگوں نے ایسی معیوب چیزوں کو جائز سمجھا، تب مجھے دارا لخلافہ سے تم پر چرھائی کا حکم دیا گیا۔ میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کی مدد سے تجھے مغلوب کر کے رسوا کروں گا اور تیرا سر عراق کی طرف روانہ کروں گا یا خود جام شہادت نوش کرو ں گا۔ میں نے یہ جہاد اﷲ تبارک و تعالیٰ کے فرمان و جاہدو الکفار وا لمنافقین کے تحت اپنے اوپر واجب سمجھ کر قبول کیا ہے‘‘ ۔(چچہ نامہ)
اس خط سے بھی یہ واضح ہے کہ حملے کی وجہ مظلوموں کی داد رسی تھی نہ کہ املاک کے حصول اور اپنی خلافت کی توسیع پسندی ۔
محمد بن قاسم اور اہل سندھ کے ساتھ سلوک:
محمد بن قاسم کی فوج اور انتظامی کامیابی پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے- محمد بن قاسم خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ایک قابل لیڈر تھا- ایک شیر٬ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ایک قابل منتظم ، دور اندیش حکمران اور سیاستدان تھا- اس نے فتح کے بعد سندھ کے موجودہ نظام کو خراب نہیں کیا-
اس نے اندرونی معاملات کا نظام وہاں کے باشندوں پر چھوڑ دیا۔برہمنوں کو ملکی انتظامات و انصرام میں دخل دے کر بڑا خوش گوار ماحول پیدا کیا۔ مال گزاری وغیرہ کے اصول کرنے کا حق بھی انہی لوگوں کے ذمہ رہنے دیا۔ اس رعایت سے وہ لوگ نہ صرف خوش تھے بلکہ ان لوگوں نے جگہ جگہ پہنچ کر اس عفو و درگزر اور حسن سلوک کا تذکرہ اور پرچار کیا، جس سے اور بہت لوگ بھی اطاعت گزاری پر مجبور ہوئے۔ وہ جہاں پہنچتے اپنے ہم قوموں کو یہ کہہ کر اطاعت گزاری کا درس دیتے کہ "ہماری سلطنت تباہ ہوگئی اور فوجی طاقت جاتی رہی، اب ہم میں مقابلہ کی تاب نہیں ہے یقینا ہم گھر سے نکال دیئے جاتے اور تمام جائدادوں سے محروم ہوتے، فقط حاکم قوم کی مروت اور عدل وانصاف سے ہم اس وقت بھی معزز عہدوں پر ہیں اور ہر چیز ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ یا تو ہم لوگ اہل وعیال کو لے کر ہندوستان ہجرت کرجائیں، ایسی صورت میں ہم لوگ بالکل مفلس ہوجائیں گے، کیوں کہ تمام جائدادیں اسی جگہ چھوڑنی پڑیں گی اور یا پھر مطیع رہ کر جزیہ ادا کریں اور آرام و عزت سے زندگی بسر کریں"۔
برہمنوں کو مندر میں پوجا پاٹ کرنے اور نذر و نیاز چڑھانے کی فراخ دلی سے جو اجازت دی اس کی تفصیل چچ نامہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں سید طفیل احمد منگلوری لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کا برہمنوں اور مندروں کے ساتھ برتاؤ کی نسبت اس زمانہ کے ہندو مورخوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کے مندر وغیرہ نہیں توڑے۔ زمانہ قدیم میں عام خیال یہ تھا کہ ہرقوم کے دیوتا جنگ کے وقت اپنی اپنی قوم کو مدد دیتے ہیں، پس جب کوئی قوم فتح پاتی تواس قوم کے معبود کی طاقت دیکھ کر مفتوح قوم کے لوگ فاتح قوم کا مذہب اختیار کرلیتے۔ اسی کلیہ کے مطابق راجہ داہر کے مارے جانے پر جب ہندوستان کے لوگ مسلمان ہونے لگے تو محمد بن قاسم نے دوسرے روز اعلان کردیا کہ "جو شخص چاہے اسلام قبول کرے اور جو چاہے اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے، ہماری طرف سے کوئی تعرض نہ ہوگا"۔
برہمن آباد فتح ہونے پر مندروں کے پجاری محمد بن قاسم کے پاس گئے اور کہا کہ ہندوؤں نے مسلمان سپاہیوں کے ڈر سے بتوں کی پوجا کے لیے مندروں میں آنا کم کردیا ہے جس سے ہماری آمدنی میں فرق آگیا ہے۔ مندروں کی مرمت بھی نہیں ہوتی ہے، تم انہیں درست کرادو اور ہندوؤں کو مجبور کرو کہ وہ مندروں میں آکر پوجا پاٹ کریں۔ یہ سن کرمحمد بن قاسم نے خلیفہ سے بذریعہ خط کے استصواب کیا اور جو اب آنے پر اعلان کردیا کہ اپنے مندروں میں آزادانہ پوجا پاٹ کریں، سرکاری مال گزاری میں سے تین روپیہ فی صد برہمنوں کے لیے الگ خزانے میں جمع کیا، اس روپیہ کو برہمن جس وقت چاہیں اپنے مندروں کی مرمت اور ضروری سامان کے لیے خزانہ سے لے سکتے ہیں۔ پھر سب سے بڑے پنڈت کو رانا کا خطاب دے کر ان کو امور مذہبی کا مہتمم اور افسر مقرر کردیا۔
محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد یہاں کی غیر مسلم رعایا کو وہی حیثیت دی جو صحابہ کرامؓ نے اہل فارس کو دی تھی، ان کے مندروں کی حیثیت ایران کے آتش کدوں کی طرح رکھی گئی اور جس طرح صحابہ کرامؓ نے آتش کدے نہیں توڑے تھے، اسی طرح مندر بھی محفوظ رہنے دیے گئے۔ (ہندوستان کے سلاطین، علماءاور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر، از سید صلاح الدین عبدالرحمٰن ۔ ص 43)
محمد بن قاسم نے ہندوستان میں مستقل سلطنت کے لیے بنیادیں استوار کیں مسلمانوں کی بستیاں اور مساجد تعمیر کیں۔ عوام کو پہلی بار ان کے حقوق سے آشنا کیا۔ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کا محافظ بنا۔ محمد بن قاسم نے عمر کے اس حصے میں فتحِ سندھ کا یہ عظیم کارنامہ انجام دیا جو لوگوں کے کھیل کود کا وقت ہوتاہے۔ دنیا کی کوئی اور قوم اتنے کم عمر اور اتنے قابل جرنیل کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ محمد بن قاسم کے بعد سندھ کے لیے کوئی بھی اس کا ہم پلہ حکمران مامور نہ کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی پیش قدمی رُک گئی۔ تاہم اہلِ سندھ نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔ محمد بن قاسم کی فتح سندھ اور عراق روانگی کے بعد تقریباً تین سو سال کا زمانہ جس میں بنو امیہ اور بنو عباس کے گورنر سندھ پر سرفراز ہوتے رہے، انہوں نے عرب ہند تعلقات کو علمی وتہذیبی بنیادوں پراستوار کیا، اہل سندھ کا علمی و تہذیبی رشتہ منقطع نہیں ہونے دیا گیا۔ سندھ کی فتح‘ سیاسی‘ تہذیبی اور علمی اعتبار سے ایک جمہوری اور روشن خیالی دور کا آغاز تھا۔
ہزاروں برسوں کے سندھیوں سے ابن قاسم نے سندھیت نہیں چھینی۔ آج بھی سندھی ٹوپی اور اجرک ان کا نشان امتیاز ہے۔ قاسم کی بدولت یہ خطہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا۔ پنجاب، دہلی، آگرہ اور پورا برصغیر گجراتی ہوں یا بلوچ، میراٹھی ہوں یا پختون، آج بھی اپنی شناخت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ محمد بن قاسم نے ان سے ان کی زبان و لباس کی پہچان نہیں چھینی۔ حجاج بن یوسف کا یہ بھتیجا کسی سے کچھ لے کے اپنے وطن عرب نہیں گیا بلکہ یہاں کے لوگوں کو کچھ دے کر ہی گیا ہے۔
یہ وہ بے مثال رواداری ہے کہ سندھیوں کی نظر میں محمد بن قاسم محبوب بن گئے، جن کی آواز پر وہ جان دینے کو ہروقت تیار رہتے تھے۔ اور جب انہیں قید کرکے واسط کی جیل میں بھیجا جارہا تھا تو یہاں کے لوگ غم میں آنسو بہائے اور جب ان کا انتقال ہوگیا تو یادگار کے طور پر ان کا مجسمہ بنایا۔ اس محبت اور رواداری سے ہندو اور مسلمانوں میں اس قدر قریبی تعلقات قائم ہوگئے کہ خاص عرب میں مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگیوں میں ہندو شریک ہوتے تھے چنانچہ برہمنوں کا ایک خاندان اپنے آپ کو اسی بناپر حسینی برہمن کہتا ہے کہ بقول ان کے ان کے بزرگوں نے کربلا میں سادات کا ساتھ دیا تھا”
(آئینہٴ حقیقت۱/۱۰۱ بحوالہ اسلام امن وآشتی کا علمبردار ص:۷۳) ( تاریخ سندھ – اعجاز الحق قدوسی صفحہ۔ 228-229])
سندھ میں تبلیغ اسلام میں صوفیاء کا کردار:
جب سندھ میں اسلام کی اشاعت کی بات آتی ہے تو یہی سیکولر طبقہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسلام عرب فاتحین و حکمرانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ صوفیاء کرام کے سلسلوں کی بدولت پھیلا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوفیاء بھی تو اسلام کے ہی نمائندے تھے ،یہ سیکولر لوگ اس مسئلے میں اسلام کے خیر خواہ کیسے ہوگئے؟ اصل میں ایسا کہنے کی ایک وجہ ہے. تاریخ دیکھی جائے تو برصغیر میں اسلام کو مکمل طور پر صوفیاء کا کارنامہ قرار دینے کی بات سب سے پہلے مستشرق مصنفین خصوصا پروفیسر آرنلڈ نے کی تھی ، اسی وجہ سے پروفیسر آرنلڈ کی کتاب پریچنگ آف اسلام کو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، جس میں ہندوستان کے حوالے سے بحث میں اسلام کی اشاعت کا سارا سہرا صوفیائے کرام کے سر ڈال دیا گیا ہے اور کم از کم اس اعتراض سے ہندی مسلمانوں کو نجات ملی جو دوسرے انگریز موٴرخوں نے کی کہ اسلام کی جبری اشاعت ہوئی ہے اور سلاطین وقت نے تلوار کے ذریعہ لوگوں کواسلام قبول کرنے پرمجبور کیا۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کتاب کا یہ مقصد بالکل نظر نہیں آتا ۔ اس کتاب کی زمانہ تصنیف پر بھی نظر رکھی جائے۔ ایک طرف الزام و اتہام کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا تو دوسری طرف ایسا کہنے والوں کے ہی طبقے کا ایک رائٹر اس کتاب کے ذریعے یہ لکھ رہا ہے کہ اسلام تو صوفیاء نے پھیلایا۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آرنلڈ نے یہ کتاب انہی اپنے لوگوں کے رد میں لکھی گئی؟ جواب یہ ہے کہ نہیں۔
اس کتاب میں کہیں آ پ کو یہ نظر نہیں آئے گا کہ آرنلڈ نے اسلام تلوار کے ذریعے پھیلنے کی بات کرنے والے انگریز موٴرخوں کی پھیلائی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ہو، انکی تحریر پر تنقید کی ہو یا ان کی عصبیت کا پر دہ فاش کیا ہو۔چنانچہ اس کتاب کی تصنیف کے مقاصد کا یقین دلاتے ہوئے عہد حاضر کے ایک مبصر نے لکھا کہ:
"یہ بات بعید از قیاس ہے کہ اسلام کے مخالفین اس کے ایک پہلو کو بغیر کسی خاص سبب کے وکالت کرنے لگیں۔اصولی طور پریہ ممکن نہیں کہ اصل کا مخالف فرع کی حمایت کا بیڑا اٹھالے،اس کے لیے کسی بہت خاص وجہ اور سبب کی موجودگی ضروری ہے۔ظاہر ہے مقصد اسلام سے ہمدردی ہرگز نہ تھی بلکہ پیش نظر انہی مقاصد کا حصول تھا جن کے لیے اول الذکر ذریعہ استعمال کیا گیا تھا۔ راستہ بالکل مختلف تھا، لیکن نتائج وہی حاصل کرنے تھے۔ مقاصد کے گھناؤنے پن کو البتہ بڑی چابک دستی سے ہمدردی کے دبیز تہوں کے نیچے چھپا دیا گیاتھا۔ مسلمانوں میں تصوف اور صوفیائے کرام کی غیر معمولی مقبولیت کے سہارے ان کی سوچ کے دھارے کو غیر محسوس طور پرایک نیا رخ دینے کی یہ نہایت شاطرانہ چال تھی۔
اس کاوش کے ذریعے ایک طرف مسلمان ہیروز اور ان کی محنت کو سائیڈ لائن لگانے کی کوشش کی گئی دوسری طرف مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تو تلوار اٹھائے بغیر بھی پھیل سکتا ہے، جس طرح ان صوفیوں نے سارے ہندوستان کو مسلمان کردیا، اس لیے محمد بن قاسم وغیرہ کی طرح کے کسی جہادی کام میں اپنے آپ کو کھپانا، اسکا انتطام کرنا بے کار ہے۔
اسی ذہن سازی کے سلسلے میں اگلا کام ان دوسرے انگریز مورخین نے کیا ، ایم۔اے۔ٹائیٹس نے مسلمان بادشاہوں بالخصوص محمد بن قاسم اور اورنگ زیب سے متعلق سخت بہتان تراشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ میں مندروں کے انہدام اور لوگوں کو جبری مسلمان بنانے کا جو منصوبہ شروع کیاتھا، وہ عہد عالم گیری تک جاری رہا۔ حالانکہ حقیقت اس سے بالکل الٹ ہے۔
اس طرح ’ لارڈالن برو‘نے محاربہ کابل کے بعد ۱۸۴۲ء میں سلطان محمود غزنوی کے مقبرے سے صندل کے کنوار اکھڑوا کر غزنی سے آگرہ تک اس کا جلوس اس اعلان کے ساتھ نکالا کہ سلطان یہ کنوار سومنات سے لے گیاتھا۔
بعد یہ حقیقت بھی ظاہر ہو گئی کہ یہ باتیں غلط ہیں اور اس کا تعلق سومنا ت سے نہیں ہے،بلکہ یہ مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔
( جیمس فرگیسن،اسلامی فن تعمیر ہندوستان میں،ص:۱،جامعہ عثمانیہ،حیدر آباد،۱۹۳۲ء)
خلاصہ یہ کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے اور ایک سازش کے تحت ہے کہ اسلام کی اشاعت میں صرف صوفیاء اور عرب تجار کا صرف حصہ ہے۔ برصغیر میں اسلام کی اشاعت کی اس کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے جیسے کہ:
۱۔ عرب تجار کی تبلیغی مساعی۔
۲۔ فتوحات کے بعد مقامی رعایا سے رواداری
۳۔ علماء کی تدریسی،تقریری اورتحریری خدمات۔
۴۔ صوفیاء کرام کی جدوجہد۔
۵۔ انسانی مساوات وبشر دوستی کا اسلامی عقیدہ۔
۶۔ ذات پات کی تفریق سے نفرت وبیزاری کا درس۔
ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے خطوط پر نمایاں کردار اداکیا۔ سلاطین نے ملک فتح کرکے یہاں کے باشندوں کو ایک مرکز سے جوڑا اور مسلمانوں کو ان کے درمیان رہنے کا موقع فراہم کیا جن کی معاشرت ،تہذیب اور عادات واطوار سے مقامی باشندے متأثر ہوئے اور اس طرح گاہے بہ گاہے وہ مسلمان معاشرہ میں اسلام قبول کرکے ضم ہوگئے۔
اگر مسلمان ہندوستان میں سیاسی افق پر کمزور ہوتے تو بقول ایک ہندودانشور کہ یہ بھی امکان تھا کہ ہندی ادیان کے گھنے جنگل میں اسلام کی شخصیت ہی گم ہوجاتی قطع نظر اس کے مسلمانوں کی تعداد کتنی ہوتی؟
( این۔سی۔مہتا،ہندوستانی تہذیب میں اسلام کا حصہ،ص:۱۰،نظامی پریس ،بدایوں،۱۹۳۵ء)
اگر فتوحات نہ ہوتیں تو پھر صوفیائے کرام جو سلاطین وقت سے الگ تھلگ ہوکر دین کی دعوت کو عام کیے ہوئے تھے کیسے اور کیوں کر یہاں آتے اور کون انہیں اپنے کفرستان میں قال اللہ وقال الرسول کی آواز بلند کرنے کی اجازت دیتا، جسے سن کر دیکھ کر اور ان کے کشف و کرامات سے متاثر ہو کر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ جس کی تعداد کا کوئی حتمی ریکارڈ تو نہیں ملتا البتہ تاریخ اور تذکرہ کی کتابوں میں ایسے واقعات بکھرے پڑے ہیں جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان پاک نفوس کی برکت اور ان کی مساعی سے بے شمارلوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔
اسی طرح مسئلہ صرف قبول اسلام تک محدود نہیں بلکہ ان کی تعلیم وتربیت اور دینی فہم کی بھی ضرورت تھی جس کے لیے یہ علماء کرام تھے ۔ ان کی تعلیم وتدریس کے ذریعہ پرورش و پرداخت کرتے تھے۔ اسی طرح عرب تجار نے بھی ملک کے ایک حصے میں اپنے اخلاق وکردار اور معاملات میں ایمانداری کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں کردار ادا کیا۔
سندھ اور اشاعت اسلام :
سندھ کے مایہ ناز مورخ رحیم داد خان مولائی شیدائی اپنی کتاب جنت السندھ میں رقم طراز ہیں کہ عربی فتوحات کی وجہ سے سندھ باب الاسلام بنا اور یہ مقام ایک معلم کی حیثیت سے سارے ہندوستان کی رہنمائی کرنے لگا
(جنت السندھ ۔ ص ۱۰۲)
آگے لکھتے ہیں
” محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد بڑے بڑے شہروں مثلاً دیبل، نیرون کوٹ، سیوستان، برھمن آباد، الور، ملتان، دیپالپور اور قنو چ میں جامع مسجدیں تعمیر کرائیں جن میں ائمہ خطبہ مقرر کیے اور مسلمانوں کے حسن خلق کو دیکھ کر لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
دیبل اور دیگر شہروں سے کئی سو علماء پیدا ہوئے جن کا تذکرہ علامہ سمعانی نے کیا ہے۔ عرب حکمرانوں نے سندھ میں جن نئے شہروں کی بنیاد رکھی۔ مثلاً منصورہ محفوظ اور بیضاء یہ حقیقت میں اسلامی نشرو اشاعت کے عظیم ادارے تھے۔
عمر بن عبد العزیز کا زمانہ سن ۹۹ ہجری سے سن ۱۰۱ ہجری تک تقریباً ڈھائی سال کا قلیل عرصہ رہا۔ اس قلیل عرصے میں اسلام سندھ میں انتہائی سرعت سے پھیلا۔ عمر بن عبد العزیز نے اسلام کی اشاعت کے لیے سلطنت کے صوبوں کی طرف مبلغین اور واعظین مفتیان کرام کو روانہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو حدیث فقہ حلال حرام وغیرہ سے واقف کریں اور اس نے اسلامی دنیا میں رہنے والے سب غیر مسلموں کے طرف اسلام اختیار کرنے کے دعوت نامے ارسال کیے
(جنت السندھ ۔ ص ۱۰۳)
رحیم داد خان عرب حکمرانوں کی اسلام کے لیے خدمات کا تذکرہ کر تے ہوئے قمطراز ہیں کہ
’’ولید بن عبد الملک نے سلطنت کے چاروں طرف قرآن کریم کے حافظ مقرر کیے کہ لوگ قرآن کی تعلیم حاصل کریں اور ان حفاظ کے لیے وظائف جاری کیے۔ نیز قرآن مجید کا سب سے پہلا سندھی ترجمہ بھی اسی عہد میں ہوا‘‘۔
مزید لکھتے ہیں کہ
’’قرآن مجید تو خلافت راشدہ کے عہد میں مرتب و مدون ہو چکا تھا مگر اس میں اعراب و نقاط نہیں تھے جس سے عرب تو اسے آسانی سے پڑھ لیتے تھے مگر عجمی قاریوں کو تلاوت میں دشواری پیش آتی تھی۔ حجاج بن یوسف ویسے تو ظلم و زیادتی کے حوالے سے مشہور تھے مگر قرآن مجید کی اشاعت کے سلسلے میں یہ نیک عمل ان کا یاد گار ہے کہ انہوں نے عجمیوں کی سہولت کے لیے قرآن کریم کو اعراب لگوائے۔ اورکئی نسخے لکھوا کر مشرقی صوبوں کے طرف بھیجے جس سے نومسلموں کو بھی تلاوت کرنے میں آسانی میسر ہوئی‘‘۔ (جنت السندہ ۔ ص ۱۰۲)
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے دور اقتدار میں اہل سندھ و ہند کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے۔ جن میں توحید و رسالت کی دعوت اور بت پرستی و بداخلاقی سے باز رہنے کی بات تھی۔ جس کا سردست نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ بہت سارے ہندو سرداران اسلام میں داخل ہوگئے جن میں سرفہرست ”جے سنگھ“ بن داہر تھا۔
سندھ کے ایک اور گراں قدر محقق و مورخ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی لکھتے ہیں کہ
’’ سندھ نے اس زمانے میں ممتاز علماء پیدا کیے جن میں مختلف علوم مثلاً حدیث تفسیر نحو ادب فقہ اور شعر و شاعری میں بہت بڑا مقام پیدا کیا ہے‘‘
(سندھ سیاحن جی نظر میں ص ۲۱)
محمد بن قاسم کی موت:
سیکولر طبقہ کے متعصبین نے محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے بھی ایک روایت کی بنیاد پر محمد بن قاسم کا مذاق اڑایا ہے ۔ چچ نامہ کی اس روایت کا خلاصہ یہ ہے:
محمد ابن علی عبدالحسن ہمدانی کہتے ہیں ک جب رائے داہر قتل ہوگیا تو محمد بن قاسم نے اسکی لڑکیوں کو اپنے محل میں قید کردیا اور پھر اپنے حبشی غلاموں کے ہاتھ انہیں اپنے حاکم سلیمان بن عبدالملک کو بھجوا دیا۔ جب خلیفہ نے انہیں اپنے حرم میں بلایا تو راجہ داہر کی بیٹیوں نےخلیفہ سے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے لائق نہیں کیوں کہ محمد بن قاسم نے انہیں پہلے ہی استعمال کر لیا تھا۔ اس بات پر وہ بہت ناراض ہوا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیل کی کھال میں بند کر کے واپس لے آؤ۔ محمد بن قاسم کو خط ادھفر میں ملا ۔اس کے حکم پر عمل کیا گیا تاہم بیل کی کھال میں دم گھُٹنے سے محمد بن قاسم کی راستے ہی میں موت واقع ہو گئی۔ بعد میں خلیفہ کو راجہ داہر کی بیٹیوں کا جھوٹ معلوم ہو گیا۔ اس نے محمد بن قاسم سے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے یہ جھوٹ بولا تھا۔ حجاج نے ان لڑکیوں کو زندہ دیوار میں چنوا دیا۔
یہ روایت کس حد تک درست ہے:
غور کیا جائے تو اس روایت میں بہت سے تضادات اور تاریخی غلطیاں ہیں۔ چچ نامہ کے مطابق “محمد ابن علی ابو حسن حمدانی کہتے ہیں کہ جب راجہ داہر مارا گیا، (تو) اسکی دو بیٹیوں کو انکے محل میں قید کر دیا گیا اور محمد بن قاسم نے انہیں اپنے حبشی غلاموں کی حفاظت میں بغداد بھجوادیا۔”
اس ہی کتاب (چچنامہ) میں ہمیں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ "محمد بن قاسم آودھافر کے اندر “ہار رائی چندر” کے خلاف اپنے فوجیوں کو حکم دیا: آج ہم اس بدبخت کافر کا قلع قمع کرنے آئے ہیں”
اور اس ہی سے کچھ آگے لکھا ہے “اگلے دن تختِ حکومت سے ایک اونٹ سوار فرمان لیکر آتا ہے۔”
اس سے صاف ظاہر ہے کہ محمد بن قاسم کو خلیفہ کے وہ فرمان تب موصول ہوئے جب ملتان کی فتح کے بعد وہ قانوج پر حملہ کرنے پر غور کر رہا تھا۔ چچ نامہ ہی میں لکھا ہے، "ملعون داہر غروبِ آفتاب کے وقت قلع راوڑ میں، 10 رمضان، سنہ 712 93 ہجری ، بروز جمعرات مارا گیا۔”
اور ہم یہ جانتے ہیں کہ محمد بن قاسم کو وہ جان لیوا فرمان اودھافر میں (96 A.H) میں ملے۔
سزا کے عمل درآمد میں یہ کئی سالوں پر پھیلی تاخیر جس کے دوران بہت سے خطوط محمد بن قاسم نے حجاج کی طرف بھیجے اور موصول کئے ناقابل فہم ہے۔
جیسا کہ محمد ابن عبد الحسن حمدانی، محمد بن قاسم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ راجا داہر کی موت کے بعد اسکی بیٹیوں کو قید کیا گیا اور بعد میں خلیفہ کی طرف بھیج دیا، تو وہ یقیناً زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے عرصہ میں دارالحکومت پہنچ گئی ہونگی؛ اور پھر یہ بات کہ خلیفہ نے انہیں اپنے بستر پر بلایا اور “کچھ دن کے بعد” یہ خبر ملی کہ محمد قاسم نے انہیں خلیفہ کے پاس بھیجنے سے پہلے اپنے ساتھ رکھا اور (محمد بن قاسم کیلئے) سزائے موت کے فرمان جاری کئے تو یہ فرمان زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر اندر ہی محمد بن قاسم کو مل چکے ہونگے نہ کہ راجہ داہر کی موت اور راوڑ سے اسکی بیٹیوں کے خروج کے “کئی سال بعد”۔
اسی چچ نامہ میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے برہمن آباد کے لوگوں کی بدھ مندر کے تعمیر کروائے جانے کی درخواست حجاج کو بھیج دی تھی اور اسکا جواب “کچھ دن بعد” ہی موصول ہوگیا تھا نہ کہ کئی مہینے یا سالوں کے بعد۔
یہ سب نکات اس کہانی پر سے پردہ ہٹانے کیلئے کافی ہیں ۔ اسکے علاوہ بھی بہت سے ایسے پوائنٹس ہیں جو اسکے رد میں دلیل دیتے ہیں۔
تاریخ سندھ کے مصنف اعجاز الحق قدوسی نے بھی اسے لیے لکھا کہ:
“محمد بن قاسم کو خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے کچے چمڑے میں بند کر کے لے جایا جانا من گھڑت قصہ ہے، عرب مورخین نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔( تاریخ سندھ – اعجاز الحق قدوسی صفحہ۔ 228-229])
عرب مورخین میں مشہور مسلمان مورخ أحمد بن يحيى بن جابر البلاذري نے مسلمانوں کے ابتدائی دور کی تاریخ کو قلم بند کیا ہے۔
البلاذري نے ایک کتاب فتوح البلدان کے نام سے ہے جس کا انگریزی ترجمہ فلپ کے ہِٹی(Philip K Hitti) نے
‘The Origins of the Islamic State’
کے نام سے کیا ہے۔
البلاذري کے مطابق714ء میں حجاج کی موت کے بعد اُس کے بھائی سلیمان بن عبدالمالک نے حکومت سنبھالی۔ وہ حجاج بن یوسف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اُس نے عنان حکومت سنبھالتے ہی حجاج کے رشتہ داروں اور منظورِنظر افراد کو قید کروا دیا۔
محمد بن قاسم بھی حجاج بن یوسف کے پسندیدہ افراد میں گنا جاتا تھا (یاد رہے کہ محمد بن قاسم حجاج بن یوسف کا داماد بھی تھا اور بعض مورخین کا خیال ہے کہ بھانجا یا بھتیجا بھی تھا)۔
چنانچہ سلیمان نے یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا والی بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتار کرکے بھیجو۔ محمد بن قاسم کے ساتھیوں کو جب ان گرفتاری کا پتہ چلا تو انہوں نے محمد بن قاسم سے کہا کہ ہم تمہیں اپنا امیر جانتے ہیں اور اس کے لئے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، خلیفہ کا ہاتھ ہرگز تم تک نہیں پہنچنے دیں گے لیکن محمد بن قاسم نے خلیفہ کے حکم کے سامنے اپنے آپ کو جھکادیا۔ یہ ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ان کی امداد کے لئے سندھ کے ریگستان کا ہر ذرہ آگے آتا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ابی کبشہ کے سپرد کردیا۔
محمد بن قاسم کو گرفتار کرنے کے بعد دمشق بھیج دیا گیا۔ سلیمان نے انہیں واسط کے قید خانے میں قید کروادیا جہاں بالاخر انہیں قتل کردیا گیا۔
منقول