" کالا باغ ڈیم کیلئے قوم بننا ہو گا"
بھارت مکار نہیں ، ہم احمق ہیں ۔ ہم اسی تعین میں لگے رہتے ہیں کہ کون غداری کر رہا ہے اور کون حب الوطنی کی جوت جگا رہا ہے ۔ ہر چار پانچ سال کے بعد کسی ایک کو غدار بنا کر فساد کی راہ کھول لیتے ہیں ۔ جب پاکستان بنا تو ہم نے پاکستانی بننے کیطرف توجہ ہی نہیں دی ۔ ہم بنگالی ، پنجابی وغیرہ ہی بنے رہے ۔ پھر بنگالی بھی گئے اور بہاری بھی ۔ لسانی تفریق یا علاقائی پہچان کوئی برائی نہیں ۔ ایک شناخت ہے ۔ مگر علاقائی اور لسانی تعصب پر کھینچا تانی قوم کیلئے اور ملک کیلئے زہر قاتل ہے ۔ حقوق کی لڑائی سے پہلے فرائض کی حدود اسی وقت باندھی جا سکتی ہیں ، جب ایک قوم بن کر سوچا جائیگا ۔ فرائض کے بغیر حقوق کا مطالبہ عقل و شعور سے عاری ہونے کی نشانی ہے ۔ ابھی بھی یہی سوچ ہمارے راستے کی رکاوٹ ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو فلاں لوگ ترقی کر جائیں گے اور فلاں لوگ تباہ ہو جائیں گے ۔ جب پورے ملک میں پانی کی قلت ہو جائے گی تو نقصان ہر پاکستانی شہری کے حصے میں آئے گا ۔ جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے یا مراعات کیلئے لڑتے رہے ۔ قومی اہمیت کے مسائل پر نہ کبھی سوچا اور نہ کبھی کوئی قانون سازی کی ۔ تمغوں کی قطاریں سینوں پہ سجائے فوجی بھی آئے ، کسی نہ کسی قومی اہمیت کی شخصیت کو مارا اور نیا مسلہ بنا دیا ۔ انہیں بھی کبھی ایسی سوچ نہیں آئی کہ لوگ بوٹوں سے ڈرتے ہیں ، قومی اہمیت کے بڑے بڑے کام ہی کر جائیں ۔ شاید غلط نہ ہو گا کہ حکمران قومی سوچ کی سطح پر ، خواہ وہ فوجی تھے یا سیاسی ، سب ایک ہی جیسے رہے ۔
اب صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے ، بہت سارے کالا باغ ڈیم ہی کو حل سمجھتے ہیں اور اس کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے مزید کئی سال درکار ہیں ۔ اگر طاقت استعمال کی جاتی ہے تو انتشار یقینی ہے اور اس سے دشمن کا فائدہ اٹھانا بھی یقینی ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم میں مسائل ہیں تو کوئی " گورا باغ " یا " نیلا پیلا باغ " ڈیم بنانے کا آغاز کر دیا جائے ۔ شاید بہترین حل یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے کیطرف رحجان کیا جائے ۔ بارشوں کا پانی کافی حد تک پانی کی کمی کو دور کر دے گا ۔
قوم کی شکست و ریخت والا کوئی بھی فیصلہ انتہائی خطرناک ہے ۔ غداروں کی فہرست میں مزید اضافہ اور بے سر و پا الزامات قطعی ملکی مفاد میں نہیں ۔ غدار کوئی نہیں ، تحفظات ہیں اور انکو دور کرنا ، وقت کی ضرورت ہے ۔ اور ہر شہری کا حق ہے ۔ جن کو اعتراض ہے ان سے رائے لی جائے کہ آخر اس مسلے کا کونسا متبادل انکے ذہن میں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ یا تو وہ قائل کر لیں گے یا قائل ہو جائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢ جون ٢٠١٨
Saturday, 2 June 2018
کالا باغ ڈیم کیلئے قوم بننا ہو گا
عید کب ہو گی
" عید کب ہوگی "
رمضان گذر رہا ہے ۔ کئی سال سے رمضان کے روزے میں اپنی ماں کے نام کر رہا تھا ۔ جب سے انکی طبیعت روزے رکھنے کے قابل نہیں تھی ۔ عید سے پہلے چپکے سے انکے کان میں کہتا ۔
" امی جان ! آپ کے روزے پورے ہوگئے ۔ میں اس سال کوئی روزہ نہیں رکھ سکا "
تو وہ مسکرا کر کہا کرتیں ۔
" تیرے روزے میرے کیسے ہو گئے ۔ چل ٹھیک ہے قبول کئے "
چند سال سے رمضان ہی میں مجھے دل کی سخت تکلیف سے بھی گذرنا پڑتا ہے ۔ دو بار ہارٹ اٹیک بھی رمضان ہی میں ہوا اور روزے کی حالت میں ہوا ۔ مگر روزہ نہ چھوڑنے کی حتی المقدور کوشش کرتا تھا کیونکہ میرا روزہ تو میری ماں کا روزہ ہوا کرتا تھا ۔ ڈرتا تھا کہ کہیں انکا روزہ قضا نہ ہو جائے ۔ اب ماں جی کو اللہ نے بلا لیا ۔ اب روزہ اپنے لئے رکھتا ہوں ، وہ لطف نہیں آتا جو ماں کیلئے رکھے روزوں کا آیا کرتا تھا ۔
ہر سال عید ہوا کرتی تھی ، بے نام سا سکون ملا کرتا تھا ۔ دل میں عجیب سی راحت ہوتی تھی ۔ تڑپ ہوتی تھی کہ روزوں کا ثواب ماں کی جھولی میں ڈالوں گا ۔ اب عید بھی پھیکی پھیکی سی لگتی ہے ۔ شاید اب کبھی میرے دل پہ عید نہیں ہوگی ۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ " عید کب ہوگی " تو زبان لڑکھڑاتی ہے ۔ دل کرتا ہے کہ بول دوں ۔
" ماں کے جانے کے بعد ، عید کبھی نہیں ہوتی ، اولاد کی عید تو صرف ماں ہوتی ہے اور عید کا چاند " ماں کی صورت " ۔ اب چاند نہیں تو عید کیسی "
بچپن سے سنا کرتے تھے کہ
" ماں ، جنت کی ہوا "
کبھی سمجھ نہیں آیا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ جب ماں چلی گئی تو پتہ چلا کہ جب تک ماں ساتھ تھی ، کسی درد اور دکھ کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا ۔ سر پہ رکھا ہوا وہ ہاتھ ہر فکر اور غم کا مداوا بن جایا کرتا تھا ۔ اطمینان کی ٹھنڈی سی لہر پوری بدن میں دوڑ جاتی تھی ۔ اب کوئی سوچ ، کوئی فکر پکڑ لیتی ہے تو لاکھ جتن کر لو ، لاکھ نئے کپڑے پہن لو ، لاکھ نعمتوں سے دل کو بہلاو ۔ دل بہلتا ہی نہیں ۔ جب دل ہی نہیں بہلے گا تو کیا خاک عید ہو گی ۔ ماں ایک بار آنکھ بھر کے دیکھ لے تو سکون کی عجب سی لہر ہر فکر دنیا سے آزاد کر دیا کرتی تھی ۔ اسی لئے تو کہتا ہوں کہ
" اب کبھی عید نہیں آئے گی "
آزاد ھاشمی
یکم جون ٢٠١٨
Friday, 1 June 2018
قوم کے نام
" قوم کے نام "
اے میری سوئی ہوئی قوم ! اے میرے وطن کے با ضمیر دانشورو ! اے ناقابل فروخت صحافیو! اور ہر وہ شخص جس کے دل میں وطن کی حقیقی محبت ہے ۔
کچھ دیر کیلئے فکر کرو کہ سیاست کے مداریوں نے تمہیں کیا دیا ؟ کبھی بیٹھ کے حساب تو کرو کہ تمہارے کندھوں پر اور تمہاری نسلوں کے کندھوں پر کتنا بوجھ لاد دیا گیا ہے ۔ وقت نکالو اور موازنہ کرو کہ روز بروز کونسی دلدل ہے جو تمہیں نگل رہی ہے ۔ تمہارے وطن کے اثاثے یورپ کے بنکوں میں جمع ہو گئے ہیں ، اللہ کے دئیے قدرتی وسائل میں سے ایک ( پانی) تم سے چھن گیا ہے ۔ باقی وسائل پر دشمن تاک لگائے بیٹھا ہے ۔ چند سال بعد تمہاری زمینیں سوکھنے کیطرف بڑھنے لگیں گی ۔ یہ کہہ کر دل کو تسلی مت دے لینا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ اللہ اسی کے ساتھ ہوتا ہے جو اللہ کی سنتا ہے ۔ جو اللہ کی مانتا ہے ۔ تم نہ اللہ کی سنتے ہو اور نہ اللہ کی مانتے ہو ۔ اسی لئے اللہ نے تمہیں ہر میدان میں رسوائی کیلئے اکیلے چھوڑ دیا ہے ۔ اکہتر میں پلیٹ میں رکھ کے اپنا بازو دشمن کو دینے والے تمہارے ہی رہنماء تھے ۔ تمہاری ہی بہادر افواج تھیں ۔ یہی رہنماء پھر تاریخ کو دہرا سکتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ مت کرنا ۔ جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں ، سب کی جھولی میں بکاو مال ہے ۔ سب کے ساتھ چور ، لٹیرے ، وطن فروش ، زانی ، شرابی اور بد کردار شامل ہیں ۔ یاد رکھو کہ کیکر پر کانٹے لگا کرتے ہیں انگور نہیں ۔ یاد کرو کہ آج تک جسے مسیحا سمجھا ، وہی لٹیرا نکلا ۔ سب مداری اپنا اپنا راگ الاپتے رہے اور تمہیں بیچتے رہے ۔ دیکھ لو کہ جو تمہارے حفاظت پر مامور تھے ، وہ دشمن کی ساتھ پینگیں چڑھاتے رہے ۔ دیکھ لو قوم کی جس مسیحا پر نظریں تھیں اس نے ساری ٹوکری گندے انڈوں سے بھر لی ہے ۔ ہوش سے کام لو کہ جس جمہوریت کو پوج رہے ہو ، یہ ساری گندگی اسی جمہوریت نے اکٹھی کی ہے ۔ اللہ کی طرف لوٹ جاو ۔ اللہ کا نظام تمہاری ہر ضرورت کا ضامن ہے ۔ امن کا ضامن ہے ، معیشت کا ضامن ہے ، حفاظت کا ضامن ہے ۔ جس کا ضامن اللہ سبحانہ تعالیٰ ہو گا ، اسے نہ کوئی غم اور نہ کوئی اندیشہ ۔
سوچ لو تمہارے پاس چند ماہ باقی ہیں ۔ پھر کوئی ٹولہ آ جائے گا اور تمہیں پانچ سال مزید بیوقوف بنائے گا ۔ جو ایم پی اے ، بیس لاکھ اور ایم این اے چالیس لاکھ خرچ کرے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیس روپے غریب کی جھولی میں نہیں ڈالتے ۔ وہ بیس لاکھ پہ بیس کروڑ وصول کرے گا ۔ آپ ٹیکس دیتے دیتے قبروں میں چلے جاو گے ۔ نہ بجلی ملے گی نہ پانی ۔ بچے سڑکوں پہ جنم لیں گے ۔
ایک آواز بن جاو ۔ صاحبان کردار کو آگے لانے کیلئے اسلام کے نظام کی آواز بلند کرو ۔ جمہوری ملاوں کے دوغلے پن سے بھی دھوکہ مت کھانا ۔
آزاد ھاشمی
٣١ مئی ٢٠١٨
یہ کیا روزہ تھا
" یہ کیسا روزہ تھا "
گرمی کی شدت میں ، چند گھنٹے کی پیاس جو اثرات مرتب کرتی ہے ۔ اس سے پانی کی ایک ایک بوند کی قیمت کا احساس ہوتا ہے ۔ سامنے ایک مخصوص وقت پر اللہ کی نعمتیں ملنے کا یقین پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔
روز ایک سوال ذہن میں آتا ہے ، روز ایک احساس جاگتا ہے ، ایک داستان دماغ پر گردش کرتی ہے کہ کربلا کی زمین پر ، بہتے ہوئے فرات کے کنارے ، آگ برساتا ہوا سورج ، تپتی ہوئی ریت ، معصوم بچے ، پردہ دار بیبیاں ، نہ کھانے کو ایک لقمہ ، نہ پینے کو ایک بوند ۔ کیسا روزہ تھا ۔ نہ سحری نہ افطار ۔ کائنات کے مالک کے بے سروسامان جگر گوشے , ایک دن نہیں ، دو دن نہیں پورے تین دن کا روزہ ۔ بوڑہوں کا بھی روزہ ، جوانوں کا بھی اور شیر خوار بچوں کا بھی ۔
کربلا میں امام حسین ع کا عظیم سجدہ ، ایسا بے مثل سجدہ کہ قیامت تک نہ کسی نے کیا ، نہ کوئی کرے گا ۔ کربلا میں معصوم بچوں نے جیسا روزہ رکھا کہ نہ بھوک پر تڑپے ، نہ پیاس پر روئے ، قیامت تک نہ کسی نے رکھا نہ کوئی رکھے گا ۔
ازاد ھاشمی
یکم جون 2017
Thursday, 31 May 2018
یزید تجھے کیا ملا؟
" یزید تجھے کیا ملا؟ "
تاریخ کو جب بھی دیکھتا ہوں ، اقتدار کے بھوکے کئی ظالموں نے بے دریغ قتل و غارت گری کی ۔ انجام سب کا ایک ہی جیسا ہوا ۔ سب کو رسوائی ملی اور قیامت تک انسانیت کے دشمن کہلائیں گے ۔ اقتدار کبھی کسی کے ساتھ نہیں رہا ۔
مگر جو ظلم کی روایت آل رسولؐ سے روا رکھی گئی ، وہ صرف اہل بیت سے ہی نہیں تھی ۔ وہ ایک تحریک تھی ، اسلام کو زک پہنچانے کی ۔ جو ظلم آل رسولؐ سے ہوا ، اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ہر وہ ذی روح مشق ستم بنایا گیا ، جس کو آل رسولؐ سے محبت تھی ۔ کربلا میں جو ہوا ، ایسی مثال ہے جو کبھی بربریت کی تاریخ میں پہلے رقم نہ ہوئی تھی ۔ جنگ کے سارے اصول ، اخلاقیات کی ساری حدیں اور تہذیب کی ساری روایات پامال کر دی گئیں ۔ چھ ماہ کا معصوم ہو یا جھکی کمر والا بوڑھا ، معصوم بچی ہو یا پردہ دار خاتون سب کے ساتھ جو سلوک ہوا ، وہ تاریخ کا نہایت بھیانک باب ہے ۔
بعد میں باب العلم سے نکلنے والے سارے چشمے ایک ایک کر کے بربریت کا نشانہ بنائے گئے ۔ دین سے عداوت کی حد ، کہ مصنوعی علم و تحقیق کے راستے کھول دئیے ، جو آج مسلمانوں کے درمیان عداوت کی ٹھوس حقیقت بن گئے ہیں ۔
جتنا بھی الفاظ کا ذخیرہ ہو ، اللہ کے پیارے رسولؐ کی گود میں چہکنے ، دوش رسالت پر جھولا جھولنے والے دونوں معصومین کے ساتھ ظلم کی داستان نہیں لکھی جا سکتی ۔ الفاظ میں اتنی وسعت ہو ہی نہیں سکتی ، جو حسینً کے آخری سجدے کی روداد لکھ سکے ۔ حسن مجتبےٰ کا وہ درد جو زہر کے باعث جگر کے ٹکڑوں کو تھوکنے سے ہوا ہو گا ، جب دل اور جگر کٹ کٹ کر منہ سے خون کے ساتھ باہر آیا ہو گا ۔ اس درد کے لئے الفاظ کہاں سے ملیں گے ۔ کون لکھاری ہے جو اس تکلیف کو لفظوں میں لکھ سکے ۔ کوئی ایک تاریخ کا ورق جس پہ کوئی ایسی مثال لکھی گئی ہو ؟
آخر اقتدار کی خاطر کئے جانے والے مظالم کے بعد کیا ملا ۔ نہ باپ کا اقتدار باقی رہا اور نہ بیٹے کو ملنے والی وراثت باقی رہی ۔ آج دنیا میں کتنے ہیں جو کہہ رہے ہوں کہ ہمارا جد امجد یزید تھا ، ہم معاویہ کی اولاد ہیں ۔ کوئی نہیں ۔ کتنے ہیں جو آل رسولؐ سے نسبت کو اعزاز سمجھتے ہیں ۔ انکا شمار ممکن نہیں ۔ یہ تھا اقتدار جو قیامت تک رہے گا ، روز بڑھے گا ، اور جسے طاقت کی کوئی آندھی ختم نہیں کر سکے گی ۔
نام تو دشمنان آل رسولؐ کا نا پید ہو گیا ۔ یزید تو مٹ گیا ۔ کتنا اقتدار نصیب ہوا ۔ کیا ملا تجھے ؟ کیا ملا تیری نسلوں کو ؟
آزاد ھاشمی
یکم جون ٢٠١٨
کالا باغ ڈیم
" کالا باغ ڈیم "
ایک طویل عرصے سے بحث جاری ہے کہ کالا باغ ڈیم ہماری قومی ضرورت ہے ۔ تاکہ زراعت کا شعبہ ، پانی کی کمی کے باعث متاثر نہ ہو ۔ اس پر کچھ سیاستدانوں کو تحفظات ہیں ۔ وہ کسی بھی قیمت پر نہیں چاہتے کہ یہ ڈیم بنے ۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ بے خبر ہیں کہ یہ ڈیم کیوں بننا چاہئیے یا کیوں نہیں بننا چاہئیے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو سیاستدان نہیں چاہتے کہ یہ ڈیم بنے ، انہوں نے بھارت سے فنڈز لے رکھے ہیں ۔ اگر فنڈز لینے کا ثبوت موجود ہے تو کاروائی نہ کرنا بھی ملک کے مفاد میں نہیں ۔ اگر ثبوت موجود نہیں تو الزام لگا کر سیاستدانوں کو بھڑکانا بھی ملک کے مفاد میں نہیں ۔
اسکا بہت آسان حل تھا کہ جس جس سیاستدان کو تحفظات ہیں ، ہر اس سیاستدان کو پبلک کے سامنے میڈیا پر لایا جائے ۔ اس کے دلائل سنے جائیں ۔ جب سارے سیاستدان اپنی اپنی رائے اور تحفظات کہہ چکیں تو ماہرین کی موجودگی میں کھلے طور پر چند مذاکرات کروا لئے جائیں ۔ پھر پبلک کی رائے پر ایک ریفرنڈم کروایا جائے ، اور جو فیصلہ ہو اس پر عملدرآمد ہو جائے ۔ اگر ڈیم کے حق میں رائے ہو تو چند سیاستدانوں کو خاطر میں لائے بغیر ڈیم بنانے کا آغاز ہو جائے ۔ اگر رائے حق میں نہیں تو اس بحث کوہمیشہ کیلئے دفن کر کے ، کالا باغ ڈیم کا متبادل حل تلاش کیا جائے ۔
یوں لگتا ہے کہ سب کھیل تماشا ہو رہا ہے ، خلوص نیت کسی بھی طرف نظر نہیں آ رہی ۔ بس غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دوسرے فریق کی بات سنے بغیر ، یہ رائے قائم کر لی جائے کہ وہ وطن سے مخلص نہیں ۔ اور وہ دشمنوں سے ملا ہوا ہے ۔ ایسی تکرار تو کسی بھی شخص کی انا کو مجروح کرے گی اور کسی بھی محب وطن کو غدار بنا دے گی ۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے قومی سوچ کو پروان ہی نہیں چڑھنے دیا ۔ ہمیشہ علاقائی سوچ کی آبیاری کی ہے ۔ ہمارے سیاستدان ، پاکستانی بنتے ہی نہیں ۔ سندھی ، پنجابی ، بلوچ ، پٹھان اور مہاجر بنے رہتے ہیں ۔ کالا باغ ڈیم کا نہ بننا ، اسی سوچ کا نتیجہ ہے ۔
فرض کریں کہ کالا باغ ڈیم طاقت سے بنا لیا جاتا ہے ، اور قومی یکجہتی ٹوٹ جاتی ہے تو فائدہ زیادہ ہے یا نقصان ۔ اگر ڈیم نہیں بنایا جاتا تو کیا دوسرا کوئی متبادل ہی نہیں ہے جو اس ضرورت کا حل ہو سکے ۔
ہمیں اصل صورت حال سے قوم کو یکطرفہ رائے کا قائل کرنے کی کوشش ترک کر کے مسلے کا حل نکالنا ہو گا ۔ اور دوسرے فریق کے تحفظات سے براہ راست اگاہی دینا ہو گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ مئی ٢٠١٨
اللہ سے پوچھوں گا
" اللہ سے پوچھوں گا ؟ "
بہت دیر سے وہ مسجد کے سامنے ، فٹ پاتھ پہ بیٹھا شخص ، اپنی معصوم سی بیٹی کو بار بار سینے سے لگاتا اور پھر آنسو پونچھنے لگتا ۔ میں یہ نظارہ بہت دیر سے دیکھ رہا تھا ۔ لباس اور وضع قطع سے وہ مفلوک الحال نظر آرہا تھا اور چہرے کے خط و خال میں وجاہت تھی ۔
" کیا بات ہے بھائی ۔ بہت دیرسے آپ اور بچی کو دیکھ رہا ہوں ۔ کوئی پریشانی ہے تو میں خدمت کو حاضر ہوں "
بیشتر اس سے کہ وہ کوئی جواب دیتا ۔ بچی بول پڑی ۔
" انکل ! آپ مولوی انکل ہیں ۔ یہ سامنے والی مسجد آپ کی ہے ؟ "
" نہیں بیٹا ۔ میں مولوی انکل نہیں ہوں اور یہ مسجد اللہ کی ہے ۔ ہم سب یہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ سے مانگتے ہیں اور اللہ ہماری بات سنتا ہے اور ہمیں بہت کچھ دیتا ہے "
میں نے بچی کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔
" یہی تو میں ابا سے کہتی ہوں ۔ مجھے اماں نے بھی بتایا تھا کہ اللہ سے مانگو تو وہ ضرور دیتا ہے ۔ ابا سے کہہ رہی ہوں ، چلو مسجد میں اللہ سے مانگتے ہیں ۔ ہم روز تھوڑی تھوڑی روٹی کھاتے ہیں ۔ منا بھی روتا رہتا ہے اور مجھے بھی بھوک لگی رہتی ہے ۔ یہ ساتھ والے انکل روز کتوں کو کھانا ڈالتے ہیں ۔ ماں کہتی ہے اللہ نے انکو بہت دیا ہے ۔ میں اللہ سے پوچھوں گی ۔ آج میں اللہ سے بات کروں گی ۔اللہ سے کہوں گی کہ ہمیں اتنا تو دے دو کہ ہم بھی پیٹ بھر کے کھا لیں ۔ ابا میری بات نہیں مان رہا ۔ ابا کہتا ہے ابھی مسجد جانے کا وقت نہیں ہوا ۔ انکل آپ کو پتہ ہے کہ اللہ کس وقت مسجد میں ہو گا ؟ میں آج اللہ سے بات کر کے جاوں گی "
بچی بولے جارہی تھی اور باپ روئے جا رہا تھا اور میں شرمندگی کے احساس تلے دبا بیٹھا تھا ۔ کیونکہ جس گھر کی وہ بات کر رہی تھی ، وہ مسجد کے امام کا گھر تھا ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انسان کب سے کتوں سے بد تر ہو گیا ۔ ہمسائے کا تو حق سب سے اولین۔ہے ۔ اگر کسی جگہ کوئی ایک بھوکا سو جائے تو پورے محلے کی عبادت قبول۔نہیں ہوتی ۔ پھر امام صاحب اتنے بے خبر کیوں رہے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ بچی پھر بولی ۔
" انکل ! اللہ جی کب مسجد میں آئیں گے ۔ میں آج نہ منے کو بھوکا سونے دوں گی ، نہ ماں کو اور نہ خود ۔ ماں بتاتی ہے کہ اللہ کے پاس تو بہت کچھ ہے ۔ سب کو وہی دیتا ہے ۔ ابا اللہ سے مانگتا ہی نہیں اسی لئے ہمیں ملتا ہی نہیں۔ اگر آج ابا نہیں مانگے گا تو میں اللہ سے خود مانگوں گی اور مسجد ہی میں بیٹھی رہوں گی جب تک بہت سارا کھانا لے نہیں لوں گی ۔ ہاں "
میری آنکھوں کے سامنے میری اپنی بیٹیوں کی تصویر گھوم رہی تھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر میری بیٹی ایسی حالت میں بولتی تو میرا کلیجہ پھٹ جاتا ۔ اس بیچارے کا کلیجہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہو گا ۔
" دوست ! آپ کیا کام کرتے ہو "
" راج کے ساتھ مزدوری کرتا ہوں بابو جی ۔ ایم اے کیا ہوا ہے ۔ نوکری نہیں ملی ۔ پیٹ کے جہنم کو بھرنے کیلئے مزدوری کرتا ہوں ۔ جو بھی مل جائے ۔ مشکل سے زندہ رہنے کا یہی وسیلہ ہے ۔ غربت نے کچھ سوچنے اور کرنے کی ہمت بھی چھین لی ہے ۔ اب مزدوری بھی روز نہیں ملتی ۔ مانگنے کی عادت نہیں ہے ۔ بس یہ چڑیل اتنی باتیں کرتی ہے ۔ آج سوچ کر یہاں آیا تھا ۔ نماز کے بعد مسجد کے باہر ہاتھ پھیلا دوں گا ۔ مگر ہمت نہیں ہوئی تو یہاں آ کر بیٹھ گیا ۔ "
میرا دل بھی پگل گیا ۔ میرے بھی آنسو بہہ نکلے ۔ مجھے بھی اللہ سے شکایت کرنے کی تڑپ ہوئی ۔
" اے اللہ یہ بھی تو تیرے بندے ہیں ۔ انکو ایسے کیوں بھولے بیٹھا ہے ۔ "
میں نے بھی ارادہ کیا کہ آج اللہ سے پوچھوں گا ۔
آزاد ھاشمی
٣١ مئی ٢٠١٨
Wednesday, 30 May 2018
ماں جی ! رمضان آگیا
" ماں جی ! رمضان آگیا "
میں جب چھوٹا تھا تو روزہ رکھنے اور سحری پہ اٹھنے کی ضد کرتا تھا . روزہ رکھ کے سکول جانے لگتا تو ماں جی پاس بلا کر کان میں کہتیں , روزہ میرے پاس رکھ جاؤ , شام کو افطاری پہ لے لینا . میں روزہ ماں کے پاس امانت رکھتا اور روز شام کو واپس لے لیتا .
پھر وہ دن یاد ہے جب میری ماں جی روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں اور میں ہر افطاری پہ ان سے کہتا , امی آپ کا روزہ میں نے رکھا تھا , اسے لے لیں اور افطاری کر لیں . وہ ہمیشہ مسکرا کر میری طرف دیکھتیں , میرے روح میں عجیب سی لہر دوڑ جاتی . مجھے یقین ہو جاتا کہ میرا روزہ اللہ کے پاس قبولیت پا گیا . جب وطن سے دوری ہوئی تو جب بھی رمضان آتا , فون کر کے پوچھا کرتیں . روزے رکھتے ہو تو میں ہر بار یہی کہتا , سارے روزے آپ کے لئے رکھتا ہوں . اور وہی روزہ قبول ہوتا ہے , جو آپ کے لئے رکھتا ہوں . وہ ہمیشہ مسکرا دیتیں .
روزہ اب بھی رکھتا ہوں , روز سوچتا ہوں ماں جی سے کہوں گا . آ جائیں , رمضان آگیا .
ازاد ھاشمی
30 مئی 2017
Monday, 28 May 2018
رب تے ماں
" رب تے ماں "
اللہ نے بندے کی تخلیق کی ، اپنے بندے سے پیار کرتا ہے ۔ بندہ اسکی مانے یا نہ مانے ، اسکی ہر حاجت کو پورا فرماتا ہے ۔ کہتے ہیں رب کا بندے سے پیار ، ستر ماوں کے پیار سے بھی زیادہ ہے ۔ اس حقیقت کا ثبوت اللہ نے ہر بندے کو " ماں " کی ہستی دے کر ہی پورا کردیا ۔ دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ ایجاد نہیں ہوسکا ، جس پر ماں کا پیار تول لیا جائے ۔ ہوسکتا ہے رب نے اپنے پیار کے ستر درجے ماں کو دے کر ہی پورے کر دئیے ہوں ۔ ایک ماں چلی جائے تو ستر مائیں بھی اس حقیقی ماں کا بدل نہیں ہوتیں ۔
رب کی قدرت ہے کہ وہ جو چاہے دے سکتا ہے ۔ مگر میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ ماں کے چلے جانے پہ ماں کا پیار مل سکا ہو ۔ پوری کائنات کی نعمتوں سے جھولی بھر دی جائے پھر بھی ماں کی آغوش کی ٹھنڈک کا نعم البدل نہیں ہوتی ۔
اپنے خالق کی رحمت اور کرم پر پورا ایمان ہے مگر وہ کبھی کبھی اپنے جبروت کا نشان بھی دکھا دیتا ہے ۔ وہ حساب کرتا ہے تو جنت اور دوزخ تقسیم کرتا ہے ۔ مگر ماں ہر حال میں " ٹھنڈک " ہی رہتی ہے ۔ اولاد سے حساب ہی نہیں کرتی ۔ اطاعت گذار بچے کیلئے بھی اور سرکش بچے کیلئے بھی جنت ہی رہتی ہے ۔
رب ہر حال میں حاکم ہے ۔ اپنے حکم پر مضبوط گرفت رکھتا ہے ، اور اپنے حکم کی اطاعت پر سرکشی پسند نہیں کرتا ۔
ماں کبھی حاکم نہیں ہوتی ، اولاد کے مزاج کے مطابقت سے اپنے حکم میں لچک رکھتی ہے ۔
اگر یہ کہوں کہ ماں اللہ کے رحم کا حصہ ہے ۔ جو رحم ہی رحم ہے ۔ بے پایاں رحم ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
دشمن کی چال
" دشمن کی چال "
کسی بھی قوم کو فتح کرنے کیلئے سب سے خطرناک ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کو اعصابی طور پر اتنا الجھا دیا جائے کہ وہ فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو بیٹھے ۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو کسی بھی ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔
آج ہم اسی جنگ کی کیفیت میں ہیں ۔ ایسی صورت میں دانشمندی یہ نہیں کہ دشمن کی چال کے تحت اپنے اعصاب کو خلفشار میں جھونک دیں ۔ دانشمندی یہ ہے کہ باہمی اتفاق اور یگانگت سے ان اسباب کا قلع قمع کریں ، جو ہمارے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں ۔
یہ ایک انتہائی خطرناک تحریک ہے ، جسے ہم نے روکنا ہے ۔ ایک قوم بن کر ، ایک وجود بن کر ۔ وہ تمام لوگ ، خواہ وہ سیاسی قائدین ہیں ، خواہ وہ بکے ہوئے صحافی ہیں ، خواہ وہ دشمن کے ایجنٹ ہیں جو افراتفری کی فضا بنانے پر تلے ہیں ۔ ان سب کے ارادوں کو ختم کرنا ، ناکام کرنا اور ہر اس ادارے کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ، ہماری ذمہ داری ہے ۔ جو ادارے اس حملے کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں ۔ ان اداروں پر مثبت یا منفی تنقید بد اثرات مرتب کر سکتی ہے ۔
میدان میں لڑتا ہوا سپاہی ، اس مدبر ، عالم اور زاہد سے لاکھ درجے بہتر ہے جو طاغوت کے خوف سے عبادت کرنے حجرے میں دبکا بیٹھا ہے ۔ جو جان ہتھیلی پہ رکھے ، محاذ پر بیٹھا ہے ، وہ بہتر جانتا ہے کہ وار کب کرنا ہے اور وار کیسے روکنا ہے ۔ ہمیں صرف اسکا حوصلہ ٹوٹنے سے بچانا ہے ۔ جو بھی دانشور ، سیاسی جنون میں اس ضرورت سے بے خبر ہے ، وہ دشمن کی یلغار کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس کی حوصلہ شکنی وطن اور قوم کی اصل خدمت ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
مقام عبرت
" مقام عبرت "
فرعون کو طاقت ملی تو خدا بن بیٹھا ، دعوی کرنے لگا کہ کسی کو بھی مار سکتا ہوں ۔ اللہ کے نبی سے ٹکر لے لی ۔ انجام کیا ہوا ؟ کہ دریا میں غرق ہو گیا ، آج اسکا بوسیدہ بدن ، پٹیوں میں لپٹا ، زہر کے اندر حنوط کیا ہوا پڑا ہے ۔ نمرود کو بھی اپنی طاقت کا گھمنڈ کی اللہ کے نبی کو آگ کے تیز الاو میں ڈال دیا ۔ اتنے طاقتور کے دماغ میں ایک مچھر گھس گیا اور صبح سے شام تلک سر پہ جوتے مرواتا رہا ، یہاں تک کہ بےبسی موت مرا ۔ شداد نے زمین پر ہی جنت بنا ڈالی کہ اللہ کی جنت کا تقابل کر لے ، انجام کیا ہوا کہ اپنی ہی جنت پہ قدم رکھنے کی توفیق نہ ہو سکی ۔ یزید کو تکبر رہا کہ حکمرانی اس کا نصیب ہے ، آل رسولؐ کو ظلم و بربریت کے پہاڑوں تلے دبا دیا ۔ انجام کیا ہے کہ آج اسکی قبر پر کتے پیشاب کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ دنیا کا رواج رہا کہ جسے اقتدار کا نشہ ہوا ، وہی عبرت کا نشان بنتا رہا ۔ بہادر شاہ ظفر ، شہنشاہ ہند خون تھوکتے تھوکتے ایک بدبودار کمرے میں موت سے ہمکنار ہوا ۔ صدام حسین اور قذافی ابھی کل کی کہانی ہے ۔
یہ تمہید باندھنے کا اصل مدعا ، پاکستان میں موجودہ سیاستدانوں کے ساتھ جو ہونے لگا ہے ۔ وہ بھی ہوش والوں کیلئے عبرت ہے ۔ کسی کو جوتے پڑنے لگے ہیں ، کسی کے منہ پر سیاہی ڈالی جا رہی ہے ، کوئی سڑکوں پہ دھائی دیتا پھر رہا ہے کہ میرا قصور بتاو ۔ مجھے کیوں نکالا ۔ ابھی کل ہی بڑھاپے میں جاوید ھاشمی کو گلی محلے کے لونڈوں نے گریبان سے پکڑا اور جوتے مارے ۔ وہی جاوید ہاشمی جس کی دہشت سے پورا لاہور واقف ہے ۔ جس کے ایک اشارے سے پورا مال روڈ طلباء سے بلاک ہو جاتا تھا ۔ ٹی وی پر اکثر لفظوں کی بوچھاڑ سے کردار کی دھجیاں اکھاڑنا معمول تھا ، اب وزراء کو تھپڑ پڑتے پوری قوم دیکھنے لگی ہے ۔
یہ مکافات عمل ہے ۔ بے بسوں پر جبر و زیادتی کا انعام ہے ۔ یہ ہر متکبر کی سزا ہے ۔ عبرت کا مقام ہے ، ہوش والوں کیلئے ۔ جن کے ساتھ یہ ہو رہا ہے ، انہیں چاہئیے کہ توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں ، جو ہمیشہ کھلا رہتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ مئی ٢٠١٨