Saturday, 2 June 2018

کالا باغ ڈیم کیلئے قوم بننا ہو گا

" کالا باغ ڈیم کیلئے قوم بننا ہو گا"
بھارت مکار نہیں ، ہم احمق ہیں ۔ ہم اسی تعین میں لگے رہتے ہیں کہ کون غداری کر رہا ہے اور کون حب الوطنی کی جوت جگا رہا ہے ۔ ہر چار پانچ سال کے بعد کسی ایک کو غدار بنا کر فساد کی راہ کھول لیتے ہیں ۔ جب پاکستان بنا تو ہم نے پاکستانی بننے کیطرف توجہ ہی نہیں دی ۔ ہم بنگالی ، پنجابی  وغیرہ ہی بنے رہے ۔ پھر بنگالی بھی گئے اور بہاری بھی ۔ لسانی تفریق یا علاقائی پہچان کوئی برائی نہیں ۔ ایک شناخت ہے ۔ مگر علاقائی اور لسانی تعصب پر کھینچا تانی قوم کیلئے اور ملک کیلئے زہر قاتل ہے ۔ حقوق کی لڑائی سے پہلے فرائض کی حدود اسی وقت باندھی جا سکتی ہیں ، جب ایک قوم بن کر سوچا جائیگا ۔ فرائض کے بغیر حقوق کا مطالبہ عقل و شعور سے عاری ہونے کی نشانی ہے ۔ ابھی بھی یہی سوچ ہمارے راستے کی رکاوٹ ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو فلاں لوگ ترقی کر جائیں گے اور فلاں لوگ تباہ ہو جائیں گے ۔ جب پورے ملک میں پانی کی قلت ہو جائے گی تو نقصان ہر پاکستانی شہری کے حصے میں آئے گا ۔ جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے یا مراعات کیلئے لڑتے رہے ۔ قومی اہمیت کے مسائل پر نہ کبھی سوچا اور نہ کبھی  کوئی قانون سازی کی ۔ تمغوں کی قطاریں سینوں پہ سجائے فوجی بھی آئے ، کسی نہ کسی قومی اہمیت کی شخصیت کو مارا اور نیا مسلہ بنا دیا ۔ انہیں بھی کبھی ایسی سوچ نہیں آئی کہ لوگ بوٹوں سے ڈرتے ہیں ، قومی اہمیت کے بڑے بڑے کام ہی کر جائیں ۔ شاید غلط نہ ہو گا کہ حکمران قومی سوچ کی سطح پر ، خواہ وہ فوجی تھے یا سیاسی ، سب ایک ہی جیسے رہے ۔
اب صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے ، بہت سارے کالا باغ ڈیم ہی کو حل سمجھتے ہیں اور اس کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے مزید کئی سال درکار ہیں ۔ اگر طاقت استعمال کی جاتی ہے تو انتشار یقینی ہے اور اس سے دشمن کا فائدہ اٹھانا بھی یقینی ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم میں مسائل ہیں تو کوئی " گورا باغ " یا " نیلا پیلا باغ " ڈیم بنانے کا آغاز کر دیا جائے ۔ شاید بہترین حل یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے کیطرف رحجان کیا جائے ۔ بارشوں کا پانی کافی حد تک پانی کی کمی کو دور کر دے گا ۔
قوم کی شکست و ریخت والا کوئی بھی فیصلہ انتہائی خطرناک ہے ۔ غداروں کی فہرست میں مزید اضافہ اور بے سر و پا الزامات قطعی ملکی مفاد میں نہیں ۔ غدار کوئی نہیں ، تحفظات ہیں اور انکو دور کرنا ، وقت کی ضرورت ہے ۔ اور ہر شہری کا حق ہے ۔  جن کو اعتراض ہے ان سے رائے لی جائے کہ آخر اس مسلے کا کونسا متبادل انکے ذہن میں ہے ۔  ہو سکتا ہے کہ یا تو وہ قائل کر لیں گے یا قائل ہو جائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment