Friday, 1 June 2018

قوم کے نام

" قوم کے نام "
اے میری سوئی ہوئی قوم ! اے میرے وطن کے با ضمیر دانشورو ! اے ناقابل فروخت صحافیو! اور ہر وہ شخص جس کے دل میں وطن کی حقیقی محبت ہے ۔
کچھ دیر کیلئے فکر کرو کہ سیاست کے مداریوں نے تمہیں کیا دیا ؟ کبھی بیٹھ کے حساب تو کرو کہ تمہارے کندھوں پر اور تمہاری نسلوں کے کندھوں پر کتنا بوجھ لاد دیا گیا ہے ۔ وقت نکالو اور موازنہ کرو کہ روز بروز کونسی دلدل ہے جو تمہیں نگل رہی ہے ۔ تمہارے وطن کے اثاثے یورپ کے بنکوں میں جمع ہو گئے ہیں ، اللہ کے دئیے قدرتی وسائل میں سے ایک ( پانی)  تم سے چھن گیا ہے ۔ باقی وسائل پر دشمن تاک لگائے بیٹھا ہے ۔ چند سال بعد تمہاری زمینیں سوکھنے کیطرف بڑھنے لگیں گی ۔ یہ کہہ کر دل کو تسلی مت دے لینا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ اللہ اسی کے ساتھ ہوتا ہے جو اللہ کی سنتا ہے ۔ جو اللہ کی مانتا ہے ۔ تم نہ اللہ کی سنتے ہو اور نہ اللہ کی مانتے ہو ۔ اسی لئے اللہ نے تمہیں ہر میدان میں رسوائی کیلئے اکیلے چھوڑ دیا ہے ۔ اکہتر میں پلیٹ میں رکھ کے اپنا بازو دشمن کو دینے والے تمہارے ہی رہنماء تھے ۔ تمہاری ہی بہادر افواج تھیں ۔ یہی رہنماء پھر تاریخ کو دہرا سکتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ مت کرنا ۔ جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں ، سب کی جھولی میں بکاو مال ہے ۔ سب کے ساتھ چور ، لٹیرے ، وطن فروش ، زانی ، شرابی اور بد کردار شامل ہیں ۔ یاد رکھو کہ کیکر پر کانٹے لگا کرتے ہیں انگور نہیں ۔ یاد کرو کہ آج تک جسے مسیحا سمجھا ، وہی لٹیرا نکلا ۔ سب مداری اپنا اپنا راگ الاپتے رہے اور تمہیں بیچتے رہے ۔ دیکھ لو کہ جو تمہارے حفاظت پر مامور تھے ، وہ دشمن کی ساتھ پینگیں چڑھاتے رہے ۔ دیکھ لو قوم کی جس مسیحا پر نظریں تھیں اس نے ساری ٹوکری گندے انڈوں سے بھر لی ہے ۔ ہوش سے کام لو کہ جس جمہوریت کو پوج رہے ہو ، یہ ساری گندگی اسی جمہوریت نے اکٹھی کی ہے ۔ اللہ کی طرف لوٹ جاو ۔ اللہ کا نظام تمہاری ہر ضرورت کا ضامن ہے ۔ امن کا ضامن ہے ، معیشت کا ضامن ہے ، حفاظت کا ضامن ہے ۔ جس کا ضامن اللہ سبحانہ تعالیٰ ہو گا ، اسے نہ کوئی غم اور نہ کوئی اندیشہ ۔
سوچ لو تمہارے پاس چند ماہ باقی ہیں ۔ پھر کوئی ٹولہ آ جائے گا اور تمہیں پانچ سال مزید بیوقوف بنائے گا ۔ جو ایم پی اے ، بیس لاکھ اور ایم این اے چالیس لاکھ خرچ کرے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیس روپے غریب کی جھولی میں نہیں ڈالتے ۔ وہ بیس لاکھ پہ بیس کروڑ وصول کرے گا ۔ آپ ٹیکس دیتے دیتے قبروں میں چلے جاو گے ۔ نہ بجلی ملے گی نہ پانی ۔ بچے سڑکوں پہ جنم لیں گے ۔ 
ایک آواز بن جاو ۔ صاحبان کردار کو آگے لانے کیلئے اسلام کے نظام کی آواز بلند کرو ۔ جمہوری ملاوں کے دوغلے پن سے بھی دھوکہ مت کھانا ۔
آزاد ھاشمی
٣١ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment