" مقام عبرت "
فرعون کو طاقت ملی تو خدا بن بیٹھا ، دعوی کرنے لگا کہ کسی کو بھی مار سکتا ہوں ۔ اللہ کے نبی سے ٹکر لے لی ۔ انجام کیا ہوا ؟ کہ دریا میں غرق ہو گیا ، آج اسکا بوسیدہ بدن ، پٹیوں میں لپٹا ، زہر کے اندر حنوط کیا ہوا پڑا ہے ۔ نمرود کو بھی اپنی طاقت کا گھمنڈ کی اللہ کے نبی کو آگ کے تیز الاو میں ڈال دیا ۔ اتنے طاقتور کے دماغ میں ایک مچھر گھس گیا اور صبح سے شام تلک سر پہ جوتے مرواتا رہا ، یہاں تک کہ بےبسی موت مرا ۔ شداد نے زمین پر ہی جنت بنا ڈالی کہ اللہ کی جنت کا تقابل کر لے ، انجام کیا ہوا کہ اپنی ہی جنت پہ قدم رکھنے کی توفیق نہ ہو سکی ۔ یزید کو تکبر رہا کہ حکمرانی اس کا نصیب ہے ، آل رسولؐ کو ظلم و بربریت کے پہاڑوں تلے دبا دیا ۔ انجام کیا ہے کہ آج اسکی قبر پر کتے پیشاب کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ دنیا کا رواج رہا کہ جسے اقتدار کا نشہ ہوا ، وہی عبرت کا نشان بنتا رہا ۔ بہادر شاہ ظفر ، شہنشاہ ہند خون تھوکتے تھوکتے ایک بدبودار کمرے میں موت سے ہمکنار ہوا ۔ صدام حسین اور قذافی ابھی کل کی کہانی ہے ۔
یہ تمہید باندھنے کا اصل مدعا ، پاکستان میں موجودہ سیاستدانوں کے ساتھ جو ہونے لگا ہے ۔ وہ بھی ہوش والوں کیلئے عبرت ہے ۔ کسی کو جوتے پڑنے لگے ہیں ، کسی کے منہ پر سیاہی ڈالی جا رہی ہے ، کوئی سڑکوں پہ دھائی دیتا پھر رہا ہے کہ میرا قصور بتاو ۔ مجھے کیوں نکالا ۔ ابھی کل ہی بڑھاپے میں جاوید ھاشمی کو گلی محلے کے لونڈوں نے گریبان سے پکڑا اور جوتے مارے ۔ وہی جاوید ہاشمی جس کی دہشت سے پورا لاہور واقف ہے ۔ جس کے ایک اشارے سے پورا مال روڈ طلباء سے بلاک ہو جاتا تھا ۔ ٹی وی پر اکثر لفظوں کی بوچھاڑ سے کردار کی دھجیاں اکھاڑنا معمول تھا ، اب وزراء کو تھپڑ پڑتے پوری قوم دیکھنے لگی ہے ۔
یہ مکافات عمل ہے ۔ بے بسوں پر جبر و زیادتی کا انعام ہے ۔ یہ ہر متکبر کی سزا ہے ۔ عبرت کا مقام ہے ، ہوش والوں کیلئے ۔ جن کے ساتھ یہ ہو رہا ہے ، انہیں چاہئیے کہ توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں ، جو ہمیشہ کھلا رہتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ مئی ٢٠١٨
Monday, 28 May 2018
مقام عبرت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment