" جنرل اسد درانی کے نام "
محترم ! شنید ہے کہ آپ نے اپنی علمیت اور یادداشت کی شرمناک کوشش کی ہے ۔ جسے کتاب کی شکل دی ہے ۔ مجھے یہ کہتے ہوئے ، ذرہ برابر تامل نہیں کہ آپ کی کوشش ، انتہائی گھٹیا کوشش ہے ۔ آپ نے کتاب بھی لکھی تو اکیلے نہیں لکھ سکے ۔ ایک دشمن کے ساتھ ملکر لکھی ۔
تعجب یہ ہے کہ آپ جیسے گھٹیا ذہن کا آدمی ایک حساس ترین عہدے تک کیسے پہنچا ؟ اس کرسی پر آپ کیسے بیٹھے رہے ، جہاں ملکی سالمیت کو ناقابل تسخیر بنایا جاتا ہے ۔ کیا آپ کے ساتھ کام کرنے والے ، چھوٹے بڑے افسران میں سب کے سب اتنے بے خبر تھے کہ وہ آپ کی اصلیت کو نہیں پہچان سکے ۔ یا آپ اتنے بڑے مداری تھے کہ جنرل کی پوسٹ تک اپنی اصلیت چھپائے رکھی ۔
یہ ریٹائرمنٹ کے بعد دشمن نے ہڈی ڈالی ہے یا دوران سروس بھی چھوٹی موٹی ہڈیاں چوستے رہے ہو ؟
اگر پاک فوج کی وردی کا احساس نہ ہوتا تو میں اس کتاب کے لکھنے پر آپ کو
" ملک پر بھونکنا " کہتا ۔
آپ کو ذرہ برابر خیال نہیں آیا کہ اس وطن نے آپ کو عزت اور وقار بخشا تھا ، آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ اس وقار کے لائق ہی نہیں تھے ، آپ کو اپنے خاندانی وقار کا لحاظ بھی نہیں تھا ؟ نسل اور اصل کردار کی اساس ہوتی ہے ۔ آپ نے کیا ثابت کیا ؟؟
اب سوال یہ ہے ، کہ ضرور کوئی ایسا نیٹ ورک ہو گا ، جو آپ کو آرمی کے حساس ترین عہدے پہ لایا ۔ آپ نے وطن دشمنی کی ، مگر اللہ نے ملک کے حساس ادارے کی آنکھیں کھول دیں کہ انکی منصوبہ بندی کتنی کمزور تھی ۔ اگر کرسیوں پر بیٹھنے والے آپ جیسے بے ضمیر نہ ہوئے تو آئندہ کبھی کوئی آپ جیسا اس کرسی پر نہیں آ پائے گا ۔
ہو سکتا ہے کہ شاباشی کی امید پر جو لعنت کا طوق آپ نے اپنے گلے میں ڈالا ۔ اب آپ کا ضمیر ملامت کر رہا ہو ۔ اگر ایسا ہے تو اس کتاب کی تصنیف کے پیچھے جو عوامل تھے ، وہ قوم کے سامنے لا دیں ۔ آپ کا حامی جو ملک دشمن نیٹ ورک تھا یا چلا رہا ہے، اسے قوم کے سامنے کھول دیں ۔ اخر اب آپکی عمر ہی کیا بچی ہوگی ، جو یہ رسوائی اٹھائے پھرو گے ۔ کتنا برا ہو گا ، جب آپ کی نسلوں کے سامنے آپ کو ننگ قوم و وطن کہا جائے گا
۔ جب آپ کی نسلیں آپ سے تعلق کا اظہار کرنے میں شرمائیں گی ۔ سوچئے گا ضرور ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ مئی ٢٠١٨
Monday, 28 May 2018
جنرل اسد درانی کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment