"سفارتی ناکامی کی ذمہ داری"
عام تاثر یہی ہے کہ پوری دنیا میں ہمارے سفارتکار ، خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں اور اکثر سفارش کی بنیاد پر آتے ہیں ۔ اسلئیے انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کا اصل کام کیا ہے ۔ سفارتکار لوگوں کا رویہ عام پاکستانی سے ناروا ہوتا ہے ، جس سے روابط میں خامی رہتی ہے ۔ یہ تاثر کلی طور پر غلط بھی نہیں اور درست بھی نہیں ۔ ایسا ہوتا ہے مگر سب افسران کے ساتھ ایسا نہیں ۔ بعض ایمبیسیڈر بد مزاج بھی دیکھے گئے ہیں اور بعض بہت ملنسار بھی ہوتے ہیں ۔ ایسے روئیے ہماری معاشرتی تربیت کیوجہ سے ہیں ۔ بسا اوقات ایک عام شہری بھی اس خلیج کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم سفارتی معاملات میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ یہ تاثر کسی حد تک درست نہیں کہ اسکی ساری ذمہ داری سفارتی عملے پر آتی ہے ۔ سفارتکاروں کو قریب سے دیکھا جائے تو بہت سارے عام شہری سے زیادہ محب وطن ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملکی ساکھ اور مفادات کو بلند کریں ۔ مگر قوائد و ضوابط کی زنجیر کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ جب تک وہاں سے اجازت نہ ملے ، کوئی سفارتکار ایک دستخط کرنے کا مجاز نہیں ہوتا ۔ وزارت خارجہ پر بیٹھا ہوا ، نا تجربہ کار سیاستدان ، جسے وزیر خارجہ بنایا جاتا ہے ، اپنی ترجیحات کے مطابق سفارتی پالیسی کو چلاتا ہے ۔ اور وہ نہیں چاہتا کہ کوئی سفیر اسکے سامنے چوں کرے ۔ وزیر خارجہ کی ڈور وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اپنی رائے کی سفیروں کی تقرری پر ڈٹا ہوتا ہے ۔ یوں جو سلسلہ آگے بڑھنا ہوتا ہے وہ آغاز ہی سے خرابی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ جہاں کا سفیر جی حضوری جانتا ہے ، اس سفارتخانے پر مہربانیوں کی بارش ہوتی ہے اور جہاں سے وزیراعظم کے مفادات نہیں ہوتے ، وہاں کے سفارتخانے تنخواہوں کو بھی ترستے ہیں ۔ مشاہدے میں اکثر آیا ہے کہ بہت سارے سفارتکاروں کا بجٹ اس قدر محدود ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دینے کیلئے سفری اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ جسے وہ نہ بول سکتے ہیں اور نہ احتجاج کر سکتے ہیں ۔ خاموشی سے الزامات اپنے سر لیتے رہتے ہیں ۔
ہوتا یہ ہے کہ ایک تجربہ کار سفارتکار ترجیحات سے وزارت خارجہ کو اگاہی دیتا ہے ۔ اب وزارت خارجہ اسے کچھ کرنے کی اجازت دے گا تو وہ آگے بڑھے گا ، وگرنہ دفتر میں بیٹھے گا اور اپنا وقت گذارے گا ۔ دعوتیں کھائے گا اور مدت پوری ہونے پر واپس لوٹ جائے گا ۔ کچھ سفیر بھی بادشاہ مزاج ہوتے ہیں ، کچھ سیاسی بنیاد پر آتے ہیں ، کچھ وردی والے بھی ہوتے ہیں جو صرف سلیوٹ پر خوش ہوتے ہیں ۔ اور جنہیں حکمران انعام کے طور پر اس اہم ذمہ داری پر بھیجتے ہیں ۔
اس طرح کے تمام سفیر ماتحت عملے کی سننا گوارہ نہیں کرتے ۔ انہیں سفارتخانے سے زیادہ اپنی مراعات سے دلچسپی ہوتی ہے ۔
مجموعی طور پر سفیر اگر کرسی کے اہل نہیں اور کچھ نہیں کر رہا تو یہ ذمہ داری بھی وزارت خارجہ اور پالیسی سازوں کی ہے کہ اس پر کاروائی کرکے کسی اہل شخص کو لائیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کریں ۔یوں لگتا ہے کہ ہماری سفارتی ناکامی ، ہمارے حکمرانوں کی ترجیح ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ مئی ٢٠١٨
Monday, 28 May 2018
سفارتی ناکامی کی ذمہ داری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment