" کالا باغ ڈیم "
ایک طویل عرصے سے بحث جاری ہے کہ کالا باغ ڈیم ہماری قومی ضرورت ہے ۔ تاکہ زراعت کا شعبہ ، پانی کی کمی کے باعث متاثر نہ ہو ۔ اس پر کچھ سیاستدانوں کو تحفظات ہیں ۔ وہ کسی بھی قیمت پر نہیں چاہتے کہ یہ ڈیم بنے ۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ بے خبر ہیں کہ یہ ڈیم کیوں بننا چاہئیے یا کیوں نہیں بننا چاہئیے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو سیاستدان نہیں چاہتے کہ یہ ڈیم بنے ، انہوں نے بھارت سے فنڈز لے رکھے ہیں ۔ اگر فنڈز لینے کا ثبوت موجود ہے تو کاروائی نہ کرنا بھی ملک کے مفاد میں نہیں ۔ اگر ثبوت موجود نہیں تو الزام لگا کر سیاستدانوں کو بھڑکانا بھی ملک کے مفاد میں نہیں ۔
اسکا بہت آسان حل تھا کہ جس جس سیاستدان کو تحفظات ہیں ، ہر اس سیاستدان کو پبلک کے سامنے میڈیا پر لایا جائے ۔ اس کے دلائل سنے جائیں ۔ جب سارے سیاستدان اپنی اپنی رائے اور تحفظات کہہ چکیں تو ماہرین کی موجودگی میں کھلے طور پر چند مذاکرات کروا لئے جائیں ۔ پھر پبلک کی رائے پر ایک ریفرنڈم کروایا جائے ، اور جو فیصلہ ہو اس پر عملدرآمد ہو جائے ۔ اگر ڈیم کے حق میں رائے ہو تو چند سیاستدانوں کو خاطر میں لائے بغیر ڈیم بنانے کا آغاز ہو جائے ۔ اگر رائے حق میں نہیں تو اس بحث کوہمیشہ کیلئے دفن کر کے ، کالا باغ ڈیم کا متبادل حل تلاش کیا جائے ۔
یوں لگتا ہے کہ سب کھیل تماشا ہو رہا ہے ، خلوص نیت کسی بھی طرف نظر نہیں آ رہی ۔ بس غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دوسرے فریق کی بات سنے بغیر ، یہ رائے قائم کر لی جائے کہ وہ وطن سے مخلص نہیں ۔ اور وہ دشمنوں سے ملا ہوا ہے ۔ ایسی تکرار تو کسی بھی شخص کی انا کو مجروح کرے گی اور کسی بھی محب وطن کو غدار بنا دے گی ۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے قومی سوچ کو پروان ہی نہیں چڑھنے دیا ۔ ہمیشہ علاقائی سوچ کی آبیاری کی ہے ۔ ہمارے سیاستدان ، پاکستانی بنتے ہی نہیں ۔ سندھی ، پنجابی ، بلوچ ، پٹھان اور مہاجر بنے رہتے ہیں ۔ کالا باغ ڈیم کا نہ بننا ، اسی سوچ کا نتیجہ ہے ۔
فرض کریں کہ کالا باغ ڈیم طاقت سے بنا لیا جاتا ہے ، اور قومی یکجہتی ٹوٹ جاتی ہے تو فائدہ زیادہ ہے یا نقصان ۔ اگر ڈیم نہیں بنایا جاتا تو کیا دوسرا کوئی متبادل ہی نہیں ہے جو اس ضرورت کا حل ہو سکے ۔
ہمیں اصل صورت حال سے قوم کو یکطرفہ رائے کا قائل کرنے کی کوشش ترک کر کے مسلے کا حل نکالنا ہو گا ۔ اور دوسرے فریق کے تحفظات سے براہ راست اگاہی دینا ہو گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ مئی ٢٠١٨
Thursday, 31 May 2018
کالا باغ ڈیم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment