" عید کب ہوگی "
رمضان گذر رہا ہے ۔ کئی سال سے رمضان کے روزے میں اپنی ماں کے نام کر رہا تھا ۔ جب سے انکی طبیعت روزے رکھنے کے قابل نہیں تھی ۔ عید سے پہلے چپکے سے انکے کان میں کہتا ۔
" امی جان ! آپ کے روزے پورے ہوگئے ۔ میں اس سال کوئی روزہ نہیں رکھ سکا "
تو وہ مسکرا کر کہا کرتیں ۔
" تیرے روزے میرے کیسے ہو گئے ۔ چل ٹھیک ہے قبول کئے "
چند سال سے رمضان ہی میں مجھے دل کی سخت تکلیف سے بھی گذرنا پڑتا ہے ۔ دو بار ہارٹ اٹیک بھی رمضان ہی میں ہوا اور روزے کی حالت میں ہوا ۔ مگر روزہ نہ چھوڑنے کی حتی المقدور کوشش کرتا تھا کیونکہ میرا روزہ تو میری ماں کا روزہ ہوا کرتا تھا ۔ ڈرتا تھا کہ کہیں انکا روزہ قضا نہ ہو جائے ۔ اب ماں جی کو اللہ نے بلا لیا ۔ اب روزہ اپنے لئے رکھتا ہوں ، وہ لطف نہیں آتا جو ماں کیلئے رکھے روزوں کا آیا کرتا تھا ۔
ہر سال عید ہوا کرتی تھی ، بے نام سا سکون ملا کرتا تھا ۔ دل میں عجیب سی راحت ہوتی تھی ۔ تڑپ ہوتی تھی کہ روزوں کا ثواب ماں کی جھولی میں ڈالوں گا ۔ اب عید بھی پھیکی پھیکی سی لگتی ہے ۔ شاید اب کبھی میرے دل پہ عید نہیں ہوگی ۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ " عید کب ہوگی " تو زبان لڑکھڑاتی ہے ۔ دل کرتا ہے کہ بول دوں ۔
" ماں کے جانے کے بعد ، عید کبھی نہیں ہوتی ، اولاد کی عید تو صرف ماں ہوتی ہے اور عید کا چاند " ماں کی صورت " ۔ اب چاند نہیں تو عید کیسی "
بچپن سے سنا کرتے تھے کہ
" ماں ، جنت کی ہوا "
کبھی سمجھ نہیں آیا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ جب ماں چلی گئی تو پتہ چلا کہ جب تک ماں ساتھ تھی ، کسی درد اور دکھ کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا ۔ سر پہ رکھا ہوا وہ ہاتھ ہر فکر اور غم کا مداوا بن جایا کرتا تھا ۔ اطمینان کی ٹھنڈی سی لہر پوری بدن میں دوڑ جاتی تھی ۔ اب کوئی سوچ ، کوئی فکر پکڑ لیتی ہے تو لاکھ جتن کر لو ، لاکھ نئے کپڑے پہن لو ، لاکھ نعمتوں سے دل کو بہلاو ۔ دل بہلتا ہی نہیں ۔ جب دل ہی نہیں بہلے گا تو کیا خاک عید ہو گی ۔ ماں ایک بار آنکھ بھر کے دیکھ لے تو سکون کی عجب سی لہر ہر فکر دنیا سے آزاد کر دیا کرتی تھی ۔ اسی لئے تو کہتا ہوں کہ
" اب کبھی عید نہیں آئے گی "
آزاد ھاشمی
یکم جون ٢٠١٨
Saturday, 2 June 2018
عید کب ہو گی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment