" ماں جی ! رمضان آگیا "
میں جب چھوٹا تھا تو روزہ رکھنے اور سحری پہ اٹھنے کی ضد کرتا تھا . روزہ رکھ کے سکول جانے لگتا تو ماں جی پاس بلا کر کان میں کہتیں , روزہ میرے پاس رکھ جاؤ , شام کو افطاری پہ لے لینا . میں روزہ ماں کے پاس امانت رکھتا اور روز شام کو واپس لے لیتا .
پھر وہ دن یاد ہے جب میری ماں جی روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں اور میں ہر افطاری پہ ان سے کہتا , امی آپ کا روزہ میں نے رکھا تھا , اسے لے لیں اور افطاری کر لیں . وہ ہمیشہ مسکرا کر میری طرف دیکھتیں , میرے روح میں عجیب سی لہر دوڑ جاتی . مجھے یقین ہو جاتا کہ میرا روزہ اللہ کے پاس قبولیت پا گیا . جب وطن سے دوری ہوئی تو جب بھی رمضان آتا , فون کر کے پوچھا کرتیں . روزے رکھتے ہو تو میں ہر بار یہی کہتا , سارے روزے آپ کے لئے رکھتا ہوں . اور وہی روزہ قبول ہوتا ہے , جو آپ کے لئے رکھتا ہوں . وہ ہمیشہ مسکرا دیتیں .
روزہ اب بھی رکھتا ہوں , روز سوچتا ہوں ماں جی سے کہوں گا . آ جائیں , رمضان آگیا .
ازاد ھاشمی
30 مئی 2017
Wednesday, 30 May 2018
ماں جی ! رمضان آگیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment