Thursday, 31 May 2018

یزید تجھے کیا ملا؟

" یزید تجھے کیا ملا؟ "
تاریخ کو جب بھی دیکھتا ہوں ، اقتدار کے بھوکے کئی ظالموں نے بے دریغ قتل و غارت گری کی ۔ انجام سب کا ایک ہی جیسا ہوا ۔ سب کو رسوائی ملی اور قیامت تک انسانیت کے دشمن کہلائیں گے ۔ اقتدار کبھی کسی کے ساتھ نہیں رہا ۔
مگر جو ظلم کی روایت آل رسولؐ سے روا رکھی گئی ، وہ صرف اہل بیت سے ہی نہیں تھی ۔ وہ ایک تحریک تھی ،  اسلام کو زک پہنچانے کی ۔ جو ظلم آل رسولؐ سے ہوا ، اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ہر وہ ذی روح مشق ستم بنایا گیا ، جس کو آل رسولؐ سے محبت تھی ۔ کربلا میں جو ہوا ،  ایسی مثال ہے جو کبھی بربریت کی تاریخ میں پہلے رقم نہ ہوئی تھی ۔ جنگ کے سارے اصول ، اخلاقیات کی ساری حدیں اور تہذیب کی ساری روایات پامال کر دی گئیں ۔ چھ ماہ کا معصوم ہو یا جھکی کمر والا بوڑھا ، معصوم بچی ہو یا پردہ دار خاتون سب کے ساتھ جو سلوک ہوا ، وہ تاریخ کا نہایت بھیانک باب ہے ۔
بعد میں باب العلم سے نکلنے والے سارے چشمے ایک ایک کر کے بربریت کا نشانہ بنائے گئے ۔ دین سے عداوت کی حد ، کہ مصنوعی علم و تحقیق کے راستے کھول دئیے ، جو آج مسلمانوں کے درمیان عداوت کی ٹھوس حقیقت بن گئے ہیں ۔
جتنا بھی الفاظ کا ذخیرہ ہو ، اللہ کے پیارے رسولؐ کی گود میں چہکنے ، دوش رسالت پر جھولا جھولنے والے دونوں معصومین کے ساتھ ظلم کی داستان نہیں لکھی جا سکتی ۔ الفاظ میں اتنی وسعت ہو ہی نہیں سکتی ، جو حسینً کے آخری سجدے کی روداد لکھ سکے ۔ حسن مجتبےٰ کا وہ درد جو زہر کے باعث جگر کے ٹکڑوں کو تھوکنے سے ہوا ہو گا ، جب دل اور جگر کٹ کٹ کر منہ سے خون کے ساتھ باہر آیا  ہو گا ۔ اس درد کے لئے الفاظ کہاں سے ملیں گے ۔ کون لکھاری ہے جو اس تکلیف کو لفظوں میں لکھ سکے ۔ کوئی ایک تاریخ کا ورق جس پہ کوئی ایسی مثال لکھی گئی ہو ؟
آخر اقتدار کی خاطر کئے جانے والے مظالم کے بعد کیا ملا ۔ نہ باپ کا اقتدار باقی رہا اور نہ بیٹے کو ملنے والی وراثت باقی رہی ۔ آج دنیا میں کتنے ہیں جو کہہ رہے ہوں کہ ہمارا جد امجد یزید تھا ، ہم معاویہ کی اولاد ہیں ۔ کوئی نہیں ۔ کتنے ہیں جو آل رسولؐ سے نسبت کو اعزاز سمجھتے ہیں ۔ انکا شمار ممکن نہیں ۔ یہ تھا اقتدار جو قیامت تک رہے گا ، روز بڑھے گا ، اور جسے طاقت کی کوئی آندھی ختم نہیں کر سکے گی ۔
نام تو دشمنان آل رسولؐ کا نا پید ہو گیا ۔ یزید تو مٹ گیا ۔ کتنا اقتدار نصیب ہوا ۔ کیا ملا تجھے ؟ کیا ملا تیری نسلوں کو ؟
آزاد ھاشمی
یکم جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment